شہید بابا مزاری—ایک تاریخ ساز شخصیت

0

تحریر- اسحاق محمدی
مختصر سوانحی خاکہ:-
سالِ تولد                  1947
مقامِ تولد           چھارکِنت، شمالی صوبہ بلخ
والد محترم      خداداد (جوافغان حکمرانوں کے مظالم کیوجہ سے اپنی آ با ئی سرزمین سُرخجوی ورس
صوبہ بامیان، ھزارستان کو ترک کرکے وھاں ھجرت پر مجبورھوے تھے)۔
تعلیم              ابتدائی تعلیم چھار کِنت بعد از آں ایران، عراق اور شام سے حاصل کی
سیاست          شہید مزاری شروع ھی سے سساست کی طرف روجحانرکھتے تھے تاھم باقاعدہ جد
وجہد کا آغاز1979 میں حزب نصر کی تشکیل سے کیا۔ 1990 میں ھزارستان سے
طویل خانہ جنگی کو ختم کرکے حزب وحدت کی بنیاد ڈالی اور اسکی قیادت سنبھالی
شھادت           13 مارچ 1995 کو کابل کے نزدیک چھار آسیاب میں ھزارہ قوم کی بقا کی جنگ لڑتے
ھوے طالبان کے ھاتوں شہید ھوے

جیسا کہ ھمیں معلوم ھیں کہ ھزارہ قوم سولھویں صدی کے اوایل تک کابل تا ھرات اور مزارشریف تا  قندھارکے بھیچ کی تمام زرخیززمینوں،سرسبز وشاداب دروں اور سربفلک پہاڑوں کی بلاشرکتِ غیر، مالک تھی   جبکہ شمالی بوچستان اور بالائی سندھ انکے باجگذارتھےجن پر ھزارہ قبیلہ ارغون کی حکمرانی  تھی۔ 1504 میں کابل اور1522 میں قندھار پر بابر بادشاہ کے قبضے کے بعد اگرچہ موجودہ افغنستان سے "ھزاروں” کی حکمرانی ختم ھوئی تاھم من حیث الاقوم وہ اپنی اس وسیع و عریض سرزمین کی مالک رھی جبکہ ارغونوں نے زیریں سندھ اور ملتان کو فتح کرکے ایک نئی سلطنت کی داغ بیل ڈالدی جنکا مرکز ٹھٹھہ تھا۔ شاندار طرز تعمیرکے حامل "مکھلی قبرستان” انہی ارغون ھزارہ  کی یادگار ھے جیسےاب یونیسکونے "عالمی ثقافتی ورثہ” قراردیا ھے (تفصیلات کیلئے حوالہ 1ملاحضہ ھو)۔

1625 میں قندھارپر قبضہ کرنے کے بعد ایرانی صفویوں نے اپنے مفادات کی خاطر قندھار اور اردگرد کے میدانی علاقوں سے ھزارہ قوم کو بےدخل کرنے اور انکی جگہ کوہِ سلیمان کے دامن سے افغان کوچی قبایل کو بسانے کی پالیسی اپنائی جسکی تفصیل حولہ 1 اور 2 میں ملاحضہ ھو۔ بدقسمتی سے پورے خطے اور خاص طورپر افغانستان کی تاریخ سے ان دو صدیوں کی ھزارہ تاریخ کودانستہ طورپر سرے سے حذ ف کردی گئی ھیں جسکی وجہ سے ھزارہ قوم کواپنی تاریخ اورتاریخی   شخصیات کوڈھونڈھنے میں دقت ھو رھی ھیں۔ تاھم یہ ایک حقیقت ھے کہ ھزارہ قوم کی حالیہ تاریخ میں شہید بابہ مزاری وہ پہلی شخصیت ھے جس نےنہ صرف اس پراگندہ اور منتشِر قوم کونھایت قلیل مدت میں متحد کرنے میں کامیابی حاصل کی بلکہ انھیں ایک واضیح اور ھمہ جہت مقصد دینے میں بھی کامیاب رھے جسکی وجہ سے انکی ناگہانی اور بے وقت شہادت کے بعد بھی ھزارہ من حیث الاقوم اس عظیم مقصد کے حصول سےدستبردار نہیں ھوئی ھیں، چنانچہ وہ بیک وقت اجتماعی، سیاسی،مذھبی اوراقتصادی میدانوں میں آگے بڑھ رھی ھیں اور وقت گذرنے کے ساتھ ساتھ انکی جد وجہد میں تیزی آرھی ھیں۔ یہاں یہ ذکرکرنا بیجا نہ ھوگا کہ شہید بابہ مزاری سے قبل کئی شخصیات جیسے  میر یزدان بخش، میرعظیم بیگ وغیرہ نے ھزارہ قوم کویکجا کرنے کی کامیاب کوششیں کیں، تاھم وہ انھیں ایک وسیع، ھمہ جہت اور واضیح مقصد نہ دے سکے جسکی وجہ سے انکے منظر سے ھٹنے کے ساتھ ھی سب کچھ اپنے پرانی ڈگرپرچلی گئیں۔ یہاں یہ بتانا شاید ضروری ھو کہ گرچہ شہیدبابہ مزاری کی سیاسی جدوجہد کئی عشروں پر محیط ھیں جسمیں ایرانی انقلاب کے کازسے متاثر ھونا اور اس کیلئے عملی کام کرنا، حزب نصرکی تشکیل اور پھر حزب وحدت کی تشکیل میں تصورِ "ولایت فقیہ” کوملحوظِ نظر رکھنا وغیرہ تاھم دوسالہ قیامِ کابل نے انپر ان تمام کھوکھلے مقدس نُما نظریات اور نعروں کی حقیقت کو "اظہرمن الشمس” کردیا اور شہیدبابہ مزاری نے بغیر کسی خوف کے انکو ایکطرف رکھکر ھزارہ قومی مفادات کے حصول میں لگ گئے، یہاں تک کہ اپنی جان کی بھی لگا دی۔ خوش قسمتی سےاس ضمن میں انکی درجنوں تقاریر،انٹرویوز،قریبی دوستوں کے سینکڑوں   ویڈیوزیا پھر مطبوعہ شکل میں دستیاب ھیں۔ دریں بابت میں صرف ایک واقعہِ کے ذکرپرھی اکتفا کرتاھوں۔ رزاق مامون کے مطابق ” ستمبر 1994 کو ایک میٹنگ کے آغازپر جب ایک ایرایی ایجنٹ مرتضوی نے خمینی صاحب کی تصویراورایک جھنڈا استاد مزاری کے سامنے  رکھتے ھوے یہ کہکر بات شروع کی کہ”  شعیوں کےاس امام بر حق” وہ اتنا کہہ پایا کہ اچانک استاد مزاری نہایت غصے کی حالت میں تصویراور جھنڈے کو اٹھاکردورپھینکتے ھوےکہا یہ تمام باتیں اپنےتک محدود رکھو،اس تمام بربادی کے پیچھے اوراس تمام ترسانحے کےدونوں طرف تم لوگ (ایران) ھی ھو” (حوالہ 3) ۔

مگربد قسمتی سے شہیدبابہ مزاری کے گیرد ایرانیوں کا حلقہ اتنا بھرپورتھا کہ بلاخیروہ انھیں فریب میں کامیاب ھوگیا۔ یاد رھے کہ ایرانیوں نے طالبان کے ظہورکے بعد نہایت عجلت میں  آئی ایس آئی کے ذریعے اھم طالبان رھنما مولوی جلیل سے اپنے مفادات کےتحفظ کی خاطر مذاکرات کے کئی دورانجام دیے چکا تھا اور بقول مامون "استاد مزاری کی طالبان کو حوالگی ایرانیوں کی طرف سے انکی نیک نیتی کی ایک نشانی تھی”۔ یہ ایک اھم دستاویزھے جسکا پڑھنا ھرذی شعورفرد قوم کیلئے ضروری ھے اور اگرکوئی فرد قوم اسکا اردو میں ترجمہ کرے توبہت اچھاقدم ھوگا۔

شہیدبابہ مزاری کی المنا ک شہادت کے بارے میں بہت کچھ لکھنے کے باوجود بہت سے پوشیدہ حقایق کوبرملا کرنا ابھی باقی ھیں۔ خاص طورپر اس سوال کا جواب ضروری ھے کہ ” حزبِ وحدت کے وہ کون سے لوگ تھے جن کے ذریعے بلاخیر ایران  شہیدبابہ مزاری کو یہ اطمینان دینے میں کامیاب ھوگیا  کہ وہ طالبان پر اتنا اعتمادکریں کہ وہ خود بمعہ اپنے انتہائی با اعتماد ساتھیوں اور کمانڈروں کےان سے مذاکرات کرنے چلے گئے؟؟؟۔ کم ازکم بابہ مزاری کے ہاتھ کا لکھا ایک خط بنام ملا بورجان میری نظرسے گذراھے جس میں شہید بابہ نے طالبان فوجیوں کی طرف سے حزب وحدت کی فوجیوں کوغیر مسلح کرنے کی کوشش کو باھمی معاھدہِ کی خلاف ورزی سے تعبیرکرکے انھیں فی لفور روکنے کو کہاگیاھے۔ کہاجاتاھے کہ یہ خط حاجی عبدالحسین مقصودی کو دیا گیاتھا کہ وہ چھارآسیاب لے جاکر اسےملابورجان تک پہنچاے، مگر موصوف نے مذکورہ خط  مُلا تک پہنچانے کی بجاے پشاورکی راہ لی، کیوں! ؟؟؟

REFERENCES

  1. http://www.hazarapeople.com/urdu/?p=302
  2. http://www.hazara.net/downloads/docs/hazaras_in_iran.pdf
  3. http://www.hazarapeople.com/2012/04/24/iran-and-hizb-e-wahdat-e-islami/

 

 

 

 

 

Leave A Reply