ھزاروں‘‘ کا زوال کیسے شروع ہوا اور مہاجرت کی وجوہات’’

0

تحقیق و تحریر : اسحاق محمدی

پہلی مھاجرت اور پس منظر:
گزشتہ ایک صدی کے دوران ھزارہ قوم کی تاریخ و ثقافت پر کی جانے والی تحقیقات کی روشنی میں اب بجا طور پر کہا جا سکتا ہے کہ انکا تعلق ترک منگول (Turko-Mangol)نسلی گروپ سے ہیں جن میں ما قبل چنگیر خان اور مابعد چنگیز خان آنے والے ترک و مغل قبایل کو کلیدی حیثیت حاصل ہیں۔ خوش قسمتی سے اندریں بابت سینکڑوں تحقیقی کتب اور ہزاروں مقالات دنیا کی تمام اہم زبانوں میں دستیاب ہیں۔ اس موضوع پر تفصیل سے روشنی ڈالنا اس مقالے کے دائرے سے باہر ہے تا ہم ھزارہ سرزمین یعنی ھزارستان یا ھزارہ جات پر قدرے روشنی ڈالنا ضروری ہے تا کہ ھزارہ قوم کی اجتماعی مہاجرتوں کے پس منظر کو بخوبی سمجھا جا سکے۔
Behsood_Kuchi_Pashtun_Attack_om_Hazaras_June2012-3
ھزارہ قوم پر تحقیق کرنے والے محققین جن کی بڑی تعداد غیر ھزارہ پر مشتمل ہیں کا کہنا ہے کہ ماضی میں ھزارہ جات ؛ کابل، قندھار، ھرات اور مزار شریف کے درمیانی علاقوں کی وسیع و عریض زمینوں پر محیط تھا، سولویں صدی میں ھرات کے تیموری حکمران سلطان حسین بایقرا نے ھزارہ سردار امیر زوالنون ارغون کو قندھار اور غور کی حاکمیت دی جس نےبہت تیزی سے موجودہ افغانستان کے بیشتر علاقوں پر اپنی حاکمیت مستحکم کرنے کے بعد زمین داور (ھزارہ جات کا ایک علاقہ) کو اپنا اصلی دارلحکومت اور قندھار کو سرمائی دارلحکومت قرار دے کرایک نئی سلطنت کی بنیاد رکھ دی اور اپنی فتوحات کا دائرہ شال (موجودہ کوئٹہ) اور بعد از آں سندھ تا ملتان تک بڑھا دیا اس ضمن میں مشہور مورخ اعجازالحق قدوسی لکھتے ہیں کہ ’’انکی (امیر ذوالنون ) کے ان اقدامات سے خوش ہو کر سلطان حسین مرزا نے قندھار، فراہ، غور (ھزارہ جات) کا پورا نظم و نسق مستقلاً امیرذوالنون کے حوالے کردیا اور اس نے اس ملک پر مستقل حکومت حاصل کرنے کے بعد شال، مستونگ اور اس کے نواح پر بھی قبضہ کرلیا 1‘‘۔

امیر موصوف کی وفات کے بعد اس کا بیٹا شاہ بیگ ارغون اس کا جانشین بنا مگر اس وقت تک بابر بادشاہ نے پہلے کابل بعد از آں غزنی اور بلا خبر 1522 ءمیں قندھار پر قبضہ کرکے موجودہ افغانستان سے ارغون ھزارہ کی حکمرانی ختم کردی تا ہم بلوچستان، سندھ تا ملتان انکی حکمرانی کا سلسلہ1591ء تک جاری رہا۔ٹھٹہ سندھ انکا نیا دارلحکومت تھا جہاں اب صرف مکلی قبرستان انکے شاندار دور حکومت کا یادگار رہ گیا ہے جو کہ یونسکو کی طرف سے عالمی ثقافتی ورثہ (World Heritage) قرار پایا ہے۔

بابر بادشاہ نے 1526ء میں ابراھیم لودھی کو شکست دیکر ھندوستان میں شاندار مغلیہ سلطنت کی بنیاد رکھ دی تا ہم قندھار، غزنی، کابل سمیت موجودہ افغانستان کا بیشتر حصہ مغل سلطنت کا حصہ رہا جنہوں نے زیادہ تر توجہ امن و امان کی برقراری اور محصولات کے حصول تک مرکوز رکھی۔ مگر آگے چل کر صفویوں کے بڑھتی قوت اور انکی ھوسِ ملک گیری Strategicاہمیت کے حامل قندھار شہر پر 1588 ء میں قبضہ حاصل کرلیا مگر اکبر اعظم نے 1594ء میں اسے دوبارہ حاصل کرلیا۔

بعد کے ادوار میں کئی بار یہ شہر مغلوں اور ایرانیوں کے ہاتھوں آتا جاتارہا تا ہم 1625ء میں ایک طویل محاصرے کے با وجود فتح میں ناکامی کے بعد شاہجہان نے قندھار سے دست برداری کا اعلان کردیا اور یہی سے ھزارہ قوم کی مشکلات کا آغاز ھوگیا ، بظاھر دو آتشہ (شیعہ) صفویوں نے قندھار پر اپنا قبضہ مستحکم کرنے کیلئے یہاں سے ھزارہ آبادی کو بے دخل کرکے انکی جگہ کوہ سلیمان کے دامن میں آبادسنّی ا لعقیدہ پشتون خانہ بدوش قبائل کو آباد کرنے کی سازش تیار کی اور اس پر عمل درآمد کیلئے ایک ظالم گرجستانی گرگین خان کو قندھار کا والی بناکے بھیجا جو بقول حاج یزدانی ’’موصوف نے یہ کام بخوبی پایہ تکمیل تک پہنچایا اور بہت جلد قندھار کے میدانی علاقوں سے ھزارہ آبادی کو نکال کر انکی جگہ افغان قبائل کو آباد کرنے میں کامیاب ہوا‘‘ 2 ، ان حقایق کی تصدیق مغربی مورخین بھی کرتے ہیں چنانچہ جلال اوحدی، خانم فرڈیننڈ (Ferdinand) کے حوالے سے لکھتے ہیں ’ ’ایسا لگتا ہے کہ احمد شاہ ابدالی کے اقتدار کے دوران 1747ء۔1773ء یا بہ قول راورٹی (Mr. Raverty) اس سے ذرا قبل ھزاروں کو شمال مغربی پہاڑوں کی سمت دھکیلے گئے تھے‘‘ 3۔ جبری بے دخلیوں کا یہ سلسلہ ابدالیوں کے اگلے ادوار میں جاری رہا اس ضمن میں معروف ھزارہ شناس تیمور خانوف لکھتے ہیں کہ ’’ھزارہ جات کا رقبہ انسویں تک گٹھتارہا ہے چنانچہ مختلف اعداد و شمار کے مطابق اسمیں ایک تا ڈیڑھ لاکھ مربع میل تک کمی واقع ہوئی ہے‘‘ 4۔ یہاں یہ بتانا ضروری ہے کہ اسمیں امیر عبدالرحمن اور اسکے بعد کے ادوار کی ھزارہ زمینیں شامل نہیں، تا ہم ان تمام جبری بے دخلیوں کے با وجود فطری طور پر جفا کش ھزارہ قوم نے ھزارہ جات کے دشوار گزار تنگ درّوں اور کم حاصل خیز وادیوں کو اپنی انتھک محنت کے ذریعے حاصل خیزبناکرآسودہ زندگی گزارنے لگی چنانچہ ھمسایہ ممالک کی طرف مھاجرت کی ضرورت پیش نہیں آئی، تا ھم انسویں کے وسط سے زارِ روس کی سنٹرل ایشیا کی طرف فوجی پیشقدمی شروع کرنے کیوجہ سے حالات نے ایک نئی ڈرامائی کروٹ لی۔

قارئین کی معلومات کیلئے مختصراً عرض کرنا ہے کہ پیٹر اعظم کے دور 1602ء۔1725ء میں روس ایک طاقتور سلطنت کا روپ دھار چکا تھا خشکی اور برفانی سمندر سے گھیری اس نئی سلطنت کوگرم پانیوں کی ضرورت تھی مگر طاقتور سلطنت عثمانیہ کی موجودگی کے باعث پیٹر اعظم اور اسکے جانشینوں کی یہ آرزو پوری نہیں ہوسکی تا ھم سلطنت عثمانیہ پر جیسے جیسے زوال کے آثار بڑھتے گئے زار روس کے دل میں یہ دیرینہ آرزو ایکبار پھر جاگ گئی چنانچہ اس نے 1844ء میں سلطنت برطانیہ کو زوال پذیر عثمانی سلطنت کو باھم بخرے کرنے کی باقاعدہ تجویز دیدی مگر جغرافیائی دوری اور نامناسب جنگی وسائل کو مدِنظر رکھتے ہوئے انگریزوں نے یہ تجویز رد کردی۔

1853ء میں روس نے ایکبار پھر اپنی اس تجویز کا اعادہ کیا اور برطانیہ کیطرف سے منفی جواب پاکر ارتھوڈوکس عیسائیوں کی محافظت کی آڑ لیکر سلطنت عثمانیہ پر حملہ کردیا جیسے تاریخ میں (Crimean War)کے نام سے یاد کیا جاتا ہے دلچسپ نکتہ یہ ہے کہ اس جنگ میں برطانیہ، فرانس سمیت کئی یورپی ممالک کی افواج نے سلطنت عثمانیہ کے مسلمان فوجوں کے شانہ بشانہ میدان کا رزار میں اتریں اور روس کی گرم پانیوں تک رسائی کے خواب کو ناکام بنا دیا ، یوں (Eastern Question)کے نام سے تاریخ کا یہ باب ایک طرف سے تو بند ہوگیا مگر زار روس نے مرکزی ایشیا کی طرف فوجی فتوحات کا آغاز کرکے دوسری طرف تاریخ میں ایک نئے باب کی شروعات کی جسے بازی بزرگ یعنی(Great Game) کے نام سے یاد کیا جاتا ہے۔

برطانوی سامراج ایک حد تک مرکزی ایشیا میں روسی پیشقدمی کو برداشت کرتا رہا مگر آگے چلکر جب انکی فتوحات میں وسعت اور تیزی آتی گئی تو انہیں’’سونے کی چڑیا‘‘ ھندوستان کو بچانے کی فکر ہوئی چنانچہ انگریزوں نے اپنے اعلی تربیت یافتہ کارندوں کو مرکزی ایشیا سمیت پورے خطے میں پھیلا دیا اور انکی مرتب کردہ رپورٹوں کی روشنی میں ایک با قاعدہ (Forward Policy)بنائی جس کے تحت انگریزوں نے تیزی سے پیشقدمی کرتے ہوئے کوئٹہ اور پشاور تک رسائی حاصل کرنے کے بعد ھنگامی بنیادوں پر ان کو سڑک اور ریل کے ذریعے کراچی کی بندرگاہ سے منسلک کردیا۔ پہلے پہل انکا منصوبہ افغانستان پر براہ راست قبضہ کرکے روسی پیشقدمی کو دریائے آموں کے اُس پار روکنے کا تھا تا ہم پہلی(Anglo Afghan War 1839ء-41) میں زبردست شکست سے دوچار ہونے کے بعد اسے اپنے جیرہ خوار گماشتوں کے ذریعے ایک بفر اسٹیٹ کے طور پر چلانے کا فیصلہ کیا ۔

قارئین کرام! اس پس منظر میں جب امیر شیر علی خان کا جھکاوء زارِ روس کی طرف ہونے لگا تو برطانوی سامراج نے دوسری (Anglo Afghan War 1878ء-80) کےذریعے اسے تخت کابل سے بے دخل کرکےبخارا میں مقیم اپنے ایک دیرینہ گماشتہ عبدالرحمن خان کو تخت کابل پر بٹھا دیا جو اپنی شقی القلبی میں مشہور اور ساتھ ہی اقتدار کی خاطر انگریزوں کی غلامی میں آخری حد تک جانے کیلئے تیار تھا اس کا اندازہ موصوف کے اس خط سے بخوبی کیا جا سکتا ہے جسے انہوں نے افغانستان میں موجود انگریز فوج کے سپہ سالار کو لکھا تھا جو کہ اسکی خود نوشت تاج التواریخ میں یوں درج ہے ’’ اسے امید ہے کہ ایک دن یہ قوم اور میں، باھم اتفاق کرکے آپکی خدمت کریں،گرچہ برطانوی حکومت کو ان خدمات کی ضرورت نہیں مگر امکان ہے کبھی نہ کبھی اسکی ضرورت پیش آئے گی‘‘ 5۔

بہر حال ’’سونے کی چڑیا‘‘ ھندوستان پر اپنا تسلط قائم رکھنے کی خاطر انگریز سامراج نے عبدالرحمن خان جیسے شقی القلب شخص کو تخت کابل پر بیٹھا کر اسے ایک نیا ملک اور ایک مضبوط مرکز حکومت قائم کرنے کیلئے بے پناہ امداد دی حالانکہ قبل از ایں موجودہ افغانستان کے چند بڑے شہروں جیسے کابل، غزنی، قندھار و غیرہ کی حد تک ہی بعض خاندانی سلسلوں کے لوگ محدود حکمرانی کرتے تھے خاص طور پر ھزارہ جات کے عوام توصدیوں سے خود مختار چلے آرہے تھے جسکی تائید سبھی مورخین کرتے ہیں اندریں بابت خود امیر عبدالرحمن خان لکھتا ہے کہ ’’صدیوں سے یہ لوگ خود مختار طور پر زندگی گزارتے آئے تھے‘‘ 6۔

اپنی آزادی اوراس خود مختاری کے بارے میں ھزارہ قوم کو مکمل یقین تھا جو کہ انکے اس مکتوب کے ایک ایک لفظ سے عیاں ہے جیسے انہوں نے کابل حکومتی کارندوں کے جواب میں لکھا ہے اس خط کے ایک حصے میں لکھا گیا ہے کہ ’’ اے افغانوں! تم نے اپنے مراسلہ میں یہ کیوں لکھا ہے کہ تمھاری چار ھمسایہ حکومتیں ہیں کیوں یہ نہیں کہا ہے کہ تمھاری پانچ ھمسایہ حکومتیں ہیں تمھیں ہماری حکومت کو بھی شامل کرلینا چاہئے تھا۔ اب تمھاری اپنی بھلائی اور سلامتی کیلئے ہمارا یہ مشورہ ہے کہ ہم سے فاصلے میں رہو‘‘ 7۔

نئے امیر کابل کو وقت کے سب سے بڑے سامراج یعنی سلطنت برطانیہ کی بھر پور معاونت حاصل تھی اس لئے طویل جنگوں میں پے در پے شکستوں سے دوچار ہونے کے بعد امیر کابل نے سینکڑوں درباری ملُاوْں کے ذریعے ھزارہ قوم کے ’’کافر‘‘ ہونے کا فتوی اگست1892ء میں جار ی کروادیا اور اس نام نہاد مقدس جنگ میں شرکت کرنے والوں کو کامیابی کی صورت میں زرخیز ھزارہ زمینوں کے ساتھ ساتھ انھیں ھزارہ کنیز و غلام رکھنے کی نوید بھی سنائی ، اس ضمن میں تیمور خانوف لکھتے ہیں کہ ’’ ھزارہ قوم کی تحریک کو کچلنے کیلئے بہت طاقت کا اھتمام کیا گیا۔

اس ضمن میں تقریباً 40 ہزار پیادہ ، 10 ہزار سوار بمعہ ایک سو توپوں کے باقاعدہ فوج کے علاوہ ایک لاکھ پیادہ اور بیس ہزار سوار پر مشتمل رضاکار لشکر تشکیل دی گئی 8‘‘۔ یوں اس غیر مساویانہ توازن قدرت میں تمام تر شجاعتوں کے با وجودھزارہ قوم مغلوب ہوگئی، لاکھوں قتل ہوئے، لاکھوں کنیز و غلام بنائے گئے، تمام زرخیز زمینیں رضا کار پشتون کوچی قبائل اور باقیماندہ کو برٹش انڈیا سے بلوائے گئے پشتون مھاجرین کو بخش دی گئی ، اس طرح اپنی طویل تاریخ میں پہلی بار لاکھوں بچے کچھے تباہ حال ھزارہ اجتماعی ہجرت کا کٹھن راستہ اختیار کرنے پر مجبور ہوگئے اور ھزارہ جات میں اپنے محل وقوع کے حوالے سے جغرافیائی لحاظ سے قریبی ھمسایہ ممالک روس، ایران اور برٹش انڈیا تک جا پہنچے۔

ابتدا میں جب تک امیر جابر فتح کا جشن منانے ، اسکی فوج ھزارہ جات میں لوٹ مار اور کوچی رضاکار لشکر زرخیز ھزارہ زمینوں کی بندر بانٹ میں لگے ہوئے تھے، انکی توجہ ھزارہ مھاجرت کی طرف مبذول نہیں ہوئی تھی تو یہ سلسلہ چلتا رہا مگر بعد میں امیر کابل نے ایک فرمان کے ذریعے اسے بھی غیر قانونی قرار دیا۔ شاد روان حسن فولادی کے مطابق ’’ امیر کابل نے جلال آباد، خوست، کرم، قلات، کاکڑستان (ژوب)، قندھار، شالکوٹ، فراہ، بلوچستان، سیستان، مقر، ھرات، میمنہ اورترکستان کے سرحدی مقامات پر متعین حکومتی اہلکاروں کو فرمان جاری کردیا کہ وہ اپنے مقامات پر کڑی نظر رکھیں اور کسی صورت ’’ھزاروں‘‘ کو سرحد پار ممالک کی طرف مہاجرت نہ کرنے دیں اور ایسی کوشش کرنے والوں کو فوراً قتل کردیئے جائیں‘‘

9۔ ایسے مشکل ترین حلات میں کتنی بڑی تعداد میں ھزارہ قوم کے مرد و زن ان مھاجرتوں کے دوران قتل کردی گئی اس کا اندازہ لگانا غیر ممکن ہے تا ھم مھاجرین کی کثرت اور وسعت کو دیکھتے ہوئے برملَا طور پر کہا جا سکتا ہے کہ یہ لاکھوں میں ہونگی۔ متحدہ ھندوستان میں ان ھزارہ مھاجرین کی اکثریت کوئٹہ میں آباد ہوگئی تا ہم ایک قلیل تعداد پاڑہ چنار، گلگت تک جا پہنچی، بقول ڈاکٹر اوتات ایران میں مشہد شہر کے آس پاس کے 750 دیہات انہی ھزارہ مھاجرین پر مشتمل ہیں 10۔جبکہ سابقہ سوویت یونین کے مستقل ریاستوں کیطرف ہجرت کرنے والے ھزاروں کے بارے میں زیادہ معلومات حاصل نہیں تا ہم تیمور خانوف کے مطابق ’’ 1897ءکے دوران ھزارہ قوم کو روس میں پناہ لینے کی اجازت مل گئی جس کے بعد بڑی تعداد میں ھزارہ رعایا نے روسی سرزمین میں پناہ لی‘‘ 11 ۔اسی طرح جناب اوحدی داغستان جمہوری ریاست میں ھزارہ آبادی کا تذکرہ کرتے ہیں جنکی تعداد 1980ء کے دوران نصف ملین (5 لاکھ) بتائی گئی ہے 12۔

*** دوسری ہجرت ****
تمام تر خطرات اور مشکلات کے باوجود افغان حکام کے وحشیانہ ھزارہ مخالف اقدامات کیوجہ سے ھزارہ اجتماعی مھاجرت کا یہ سلسلہ امیر جابر کی وفات 1901ء اور بعد از آں اس کے جانشین بیٹے امیر حبیب اللہ خان کے ابتدائی دور تک جا ری رہا تا ہم بعد از آں اس نے ھزارہ قوم کی دلجوئی اور ایک حد تک اپنے باپ کے مظالم کی تلافی کی سیاست اپنائی اور اس ضمن میں انکی اشک شوئی کی خاطر ایک فرمان کے ذریعے ھزارہ مھاجرین کو افغانستان آنے کی دعوت دی اور انکی دوبارہ آباد کاری کا وعدہ بھی کیا (قارئین کی معلومات کی خاطر اس شاہی فرمان کے فارسی متن کا ترجمہ مضمون ھذا کے آخر میں شامل کیا جاتا ہے) تا ہم بقول تیمور خانوف ’’ ھزارہ قوم کو جدید امیر کے ان وعدوں کا کم ہی اعتبار ہوا چنانچہ انکی ایک قلیل تعداد ہی اور وہ بھی ایران سے واپس آئی، برٹش انڈیا یا سنٹرل ایشیا سے انکی واپسی نہ ہونے کی برابر ہوئی‘‘ 13۔

مگر میرے نزدیک بیرون از ملک ھزارہ مھاجرین کی عدم دلچسپی کی ایک بڑی وجہ یہ تھی کہ کابل حکومت انہیں انکی آبائی علاقوں (ھزارستان) کی بجائے ترکستان میں بسانا چاہتی تھی تا ہم یہ ایک حقیقت ہے کہ امیر حبیب اللہ خان کی ان قدرے نرم پالیسیوں اور ساتھ ہی اندرون ملک ھزارہ مھاجرین[Internally Displaced People (I.D.P)] کی ترکستان میں دوبارہ آباد کاری جنہیں وہاں ایک عرصےتک ناقلین کہا جاتا تھا جیسے اقدامات سے انکی بیرون ملک مہاجرت کا سلسلہ تقریباً بند ہوگیا۔

قارئین کرام! ھزارہ اجتماعی مہاجرت کی یہ بندش 1953ء تک جاری رہی مگر بہار 1954ء میں صوبہ غزنی کے ضلع جاغوری میں پیش آنے والے ایک واقعہ نے ھزارہ اجتماعی مہاجرت کی ایکبار پھر شروعات کی جو کہ ’’ جنگ جوری‘‘ کے نام سے مشہور ہے، یہاں یہ بتانا ضروری ہے کہ ھزارہ مھاجرین کی بندش کا یہ مطلب نہ تھا کہ ھزارہ عوام پر افغانوں کے وحشیانہ سلوک کا سلسلہ بند ہوا تھا یا انکا استحصال نہیں ہو رہا تھا وہ سلسلہ اسی شدت سے جاری و ساری تھا بلکہ یہ کہنا بے جا نہ ہوگا کہ امیر عبدالرحمن کا دور (1892۔1901) شدیدترین مگر اس کا دورانیہ کم تھا جبکہ بعد کا دور افغان حکام کی ھزارہ دشمن رویے ، بطور خاص پشتون کوچیوں کے مظالم کی داستانیں طویل مدت پر پھیلی ہوئی ہیں جو بد قسمتی سے ایک مختصر عرصے 1980 ء تا 1998ء (یعنی روس نواز کابل حکومت سے ھزارہ جات کو آزاد کرنے کے بعد تاطالبان کے ہاتھوں دوبارہ غاصبانہ قبضے تک چلے جانے سے پہلے) کو چھوڑ کر اب تک جاری ہیں، چنانچہ اس بظاھر جمہوری دور اور متمدن دنیا کے 42 ممالک کی کئی لاکھ افواج کی موجودگی میں ہر سال جدیدترین اسلحوں سے لیس افغان کوچی دنداتے ہوئے ھزارہ جات میں زبردستی داخل ہوکر ھزارہ عوام کا قتل عام کرتے ہیں، لوٹ مار کے بعد انکے گھروں، سکولوں، طبی مراکز، مساجد، کھڑی فصلوں کو نذرآتش کرکے چلتے بنتے ہیں اور یہ تمام سیکوریٹی ادارے چاہے ملکی ہوں یا بین الاقوامی محض تماشائی کا کردار ادا کرتے ہیں، جہاں تک حامد کرزئی کی حکومت کا تعلق ہے وہ ان قاتلوں کی باز پرسی کی بجائے ان کیلئے کبھی دائمی آبادکاری، Permanent Settlement کے نام پر اور کبھی Emergency Relief کے نام پر کروڑوں افغانی نوازتی آئی ہے۔ جہاں تک ماضی کا تعلق ہے وہ ھزارہ قوم کیلئے ایک طویل وحشتناک دور ہے جسکا اختتام ہونا ابھی باقی ہے، مغربی سکالرز Paula G. RobelاورRaman Abraham کی مشترکہ تحقیق کے مطابق ’’ پوری دنیا میں صرف افغانستان کے یہ خانہ بدوش (افغان کوچی) ہی ایک مثال ہے جنہیں سیاسی وجوہات کے بنا پر مقامی (ھزارہ) آبادی پر بالادستی حاصل ہیں اور مقامی انتظامیہ (جو کہ غیر ھزارہ پر مشتمل ہے) کی مکمل ھمدردی بھی ان کوچیوں کے ساتھ ہیں‘‘ 14۔ بقول فیض محمد کاتب ’’ یہ کوچی اپنے آپکو بادشاہ قوم (یعنی حاکم قوم) گردانتے ہوئے صرف بادشاہ(King) کے سامنے ہی جوابدہ تصور کرتے ہیں‘‘ 15۔ دولت آبادی ، افغان کوچیوں کو ھزارہ و ھزارہ جات کیلئے طاعون کہتے ہیں 16۔

قارئین کرام! شعوری بالادستی کے اسی زعحم میں مبتلا افغان کوچی قبیلہ جوری (Jawri)کے تیس چالیس مسلح ڈاکو4 195ء کے موسم بہار اور ماہ مبارک رمضان کی ایک شام ناوہ ْگری یا انگوری میں واقع ھزارہ نشین بازار ’’حوتقول ‘‘پر دھاوا بول کر لوٹ مار میں مصروف ہوجاتے ہیں ، یہاں یہ بتاتا چلوں کہ حوتقول ان ھزارہ نشین قصبات میں سے ایک ہے جو پشتو ن نشین علاقوں سے براہ راست متصل ہے، روایتی نسلی، لسانی، عقیدتی اور سیاسی اختلافات کے باعث ایسے علاقے کے لوگ ھمیشہ آمادہ باش حالت یعنی(Alert) رہتے ہیں بقول کئی بزرگ ھزارہ لوگوں کے ماضی بعید میں ان متصل علاقوں میں Watch Towers بنے ہوتے تھے جن پر باقاعدہ پہرہ دیا جاتا تھا ، جنہیں ھزارہ گی میں ’’ کوشہ ‘‘ کہا جاتا ہے اور انکی باقیات اب تک بھی موجود ہیں ، نیز ان علاقوں میں کسی ایمرجنسی کی صورت میں ایک دوسرے کو اطلاع دینے کی انوکھی ترتیب نکالی تھی وہ دن کے اوقات میں کسی بلند مقام سے گروہ کی صورت میں بلند آوازوں کے ساتھ خاک پاشی شروع کرتے جبکہ رات کے اوقات میں بڑے بڑے الاوْ جلاکر ’’ھزاروں‘‘ کو خطرے کی اطلاع دیتے تھے، اس شام حوتقول میں بھی وہی ہوا، اچانک فائرنگ کہ آواز سنکر جب بازار کے قریب رہائش پذیر ’’ھزاروں ‘‘ کو خطرے کا احساس ہوا تو انہوں نے بڑے بڑے الاوء جلانا شروع کردیا جس کی پیروی یکے بعد دیگری ہوتی رہی اور یوں پوری وادی روشنی سے جگمگا اٹھی جس سے لوٹ مار میں مصروف کوچی ڈاکووں کے اوسان خطا ہو جاتے ہیں اور وہ گھبرا کر لوٹے گئے مال و نقدی کے ساتھ اپنی پڑاوء کی طرف بھاگنے لگتے ہیں لیکن بھاری بوجھ کی وجہ سے انکی رفتار دھیمی رہتی ہے جس کا فایدہ اٹھا کر ھزارہ مسلح افراد کا پہلا گروہ بہت جلد انکا پیچھا کرتے ہوئے ان کے نزدیک پہنچ جاتا ہے اور فائرنگ کا سلسلہ شروع ہو جاتا ہے، گرچہ کوچی ڈاکووں کے 303 یا 7mm رائفلز کے مقابلے میں ’’ھزاروں‘‘ کی ایک گولی والی ’’سربی‘‘ (Short Lever) کوئی معنی نہیں رکھتی تھی مگر علاقے سے واقفیت کے باعث وہ فاصلے سے انکو جنگ میں الجھائے رکھنے کی پالیسی پر عمل پیرا تھے تا کہ با قاعدہ لشکر پہنچ جائےجس میں وہ صد فیصدی کامیاب رہے چنانچہ با قاعدہ ھزارہ لشکر کے پہنچنے اور صبح تک جاری جنگ میں بغیر کسی جانی نقصان یہاں تک کی بغیر کسی شدید زخمی ہونے کے ھزارہ جان باز تمام ڈاکووں کا صفایا کردیتے ہیں ، یوں2 189ءمیں اپنی تاریخ کی سب سے بڑی شکست سے دوچار ہونے اور ابراہیم خان گاوء سوار کی 1946 ء میں ظالمانہ محصولات کے خلاف بغاوت کے بعد یہ بالا دست حاکم قوم کے خلاف ایک بھر پور کاروائی تھی یہاں بتانا ضروری ہے کہ ابراھیم خان گاوء سوار کی بغاوت حکومتی مشینری کے خلاف تھی مگر یہاں بالادست حاکم قوم کو للکاراگیا تھا لہذا حکومتی ایوانوں میں تو ایک بھونچال سا آگیا جبکہ دوسری طرف جذبات کو ابھار کر ایک بڑی قومی لشکر کے ذریعے جنگ کے نقارے بھی بجائے گئے جس کے جواب میں ھزارہ قوم بھی پہاڑ کی طرح ڈٹ گئی جس سے گھبرا کر اس وقت کے وزیر اعظم سردار داود خان کو براہ راست میدان میں آنا پڑا۔ چنانچہ موصوف نے تمام حکومتی حلقوں اور قومی معتبرین کی تمام تر دباوء کے با وجود ایک طرف تمام متعلقہ حکام کو کسی بھی قسم کی مہم جوئی کو سختی سے روکنے کا حکم دیدیا جبکہ دوسری طرف فریقین کیلئے عام معافی کا اعلان کرتے ہوئے با اثر جاغوری سردار نادر علی خان کو ایک نکاتی ایجنڈہ کے ساتھ فوراً جاغوری روانہ کردیا کہ وہ اس معاملے کو ’’ قومی جرگہ ’’ کے ذریعے حل کرائیں۔
گرچہ یہ حقیقت ’’اظہر من الشمس‘‘ تھی کہ ان افغان کوچی ڈاکووۥں نے ھزارہ نشین بازار پر حملہ کرکے تین بے گناہ ھزارہ دکانداروں کو شہید اور لاکھوں مالیت کے نقدی و دیگر مال و اسباب لوٹنے کے جرم کا ارتکاب کیا تھا مگر متعصب فاشیستی حکام اور قومی غیرت پر آنچ کا احساس کرتے ہوئے حکمران طبقہ کے معتبرین کی یہ حتی المقدور کوشش رہی کہ وہ کم از کم قریہ حوتقول کے ھزارہ باشندوں کو سخت سے سخت سزا دلوادیں۔ چنانچہ ایک طویل اور مشکل ’’قومی جرگہ‘‘ کے دوران بے گناہ ساکنان حوتقول پر بھاری جرمانہ عائد کیا گیا۔ جناب اخلاقی فی مفقود الاثر کوچی ڈاکو کے عوض مبلغ تیس ھزار افغانی جرمانہ بیان کرتے ہیں جبکہ معروف ھزارہ دانشورو سیاسی رہنما پائلیٹ شریف خان اسکی مجموعی رقم مبلغ سات لاکھ افغانی بتاتے ہیں ۔17،18

در اصل ھزارہ قوم کے مخالفین اور انکو سزا دینے کی حامی قوتیں اس خوش فہمی میں تھے کہ چونکہ ساکنان قریہء حوتقول یہ بھاری رقم ہر گز ادا نہیں کرسکینگے لہذا انہیں روایات کی رو سے یہ پورا علاقہ کوچیوں کے حوالے کرنا پڑینگے۔ ، یوں عبدالرحمن خان کا دور ایکبار پھر لوگوں کے ذہنوں میں تازہ ہوجائیگا اور انکی قومی بالادستی کا بھرم پھر سے قائم ہوجائیگا مگر ’’ بساآرزوھا ئیکہ خاک شد‘‘ کے مصداق، ھزارہ قوم نے تمام تر مجبوریوں ، حکومتی انتقام جوئی کے خوف اور رابطوں میں فقدان کے با وجود قابل ستائش حد تک اپنے دلیربھائیوں کی مدد کی مگر با آن ھمہ، راویوں کے بقول ساکنان حوتقول کو فی گھرانہ مبلغ پانچ ہزار افغانی اور ایک گوسپو یعنی دنبہ تاوان کی مد میں ادا کرنا پڑا جو اس وقت کے لحاظ سے ایک بڑی رقم تھی۔ جیسے انہوں نے قرض لیکر یا پھر اپنی زمینوں کو گراوء میں رکھ کر پورا کردیا اور دشمنوں کے ناپاک عزائم کو خاک میں ملاکر رکھ دیا۔

قارئین کرام! جنگ جو اس کے حالات و واقعات کا زیادہ تر تانا بانا میں نے کئی عینی شاھدین اور اس پورے مسئلے میں شریک لوگوں سے طویل انٹرویوز کے بعد بنانے کی کوشش کی ہےجن میں سے ایک علی یاور نامی شخص آج بھی ھشاس بشاش حالت میں ہے بہر حال بھاری قرض کے بوجھ تلے یہاں کے لوگ پریشان تو تھے مگر جلد ہی انہوں نے اس کا حل موسمی ہجرت کی صورت میں اس طرح نکالا کہ وہ تیر ماہ یعنی موسم خزاں میں اپنا سرمائی اناج کاشت کرنے کے بعد محنت مزدوری کیلئے جدید التاسیس پاکستان کا رخ کرتے اور مارچ کے آخر میں دوبارہ آکر اپنی قرض کی ایک اور قسط ادا کرتے روزمرہ کے معمولات میں جت جاتے۔

یہاں یہ بتانا ضروری ہے کہ ضلع جاغوری کے ھزارہ نشین لوگوں کی ایک تعداد نے ’’ھزارہ پائینر‘‘ میں خدمات انجام دینے کیوجہ سے یہاں کے لوگوں اور حالات سے واقفیت رکھتے تھے لہذا انہیں کسی خاص دشواری کا سامنا نہیں کرنا پڑتا، یہاں دلچسپ نکتہ یہ ہے کہ انکا یہ سفر پا ی پیادہ اور افغان کوچیوں کے ساتھ طی ہوتا تھا مگر یہ وہ افغان کوچی تھے جو کئی پشتوں سے اسی علاقہ کے قریبی سرسبز چراگاہوں میں اپنے مال مویشیوں سیمت موسم بہار میں پڑاوء ڈالنے کیلئے آتے تھے اور اپنے ساتھ بھاری مقدار میں پاکستانی مصنوعات جیسے پارچہ جات، چائے ، نمک اور روزمرہ ضروریات کی دیگر اشیا ء لا کر انہیں مقامی ھزارہ آبادی پر مال کے بدلے مال (Bartered Trade) کے طرز فروخت پر یہاں سے اون ، اونی پارچہ جات، دیسی گھی، خشک میوہ جات اکٹھی کرکے موسم خزاں کے دوران واپس پاکستان جاکر انہیں منہ مانگی قیمت میں فروخت کرکے بھاری منافع کماتے تھے۔ چنانچہ انسانی سمگلنگ کی اس نئی کارو بار نے انہیں منافع بٹورنے کا ایک اور سنہرا موقع فراہم کردیا تھا لہذا وہ کسی ھزارہ مسافر کو نقصان پہنچانے کا تصور بھی نہیں کر سکتے تھے جبکہ دوسری طرف ھزارہ مسافرین کو بھی ایک محفوظ راستہ مل گیا تھا یوں دونوں فریقین خوشی اور مطمئن تھے ایک انٹرویو کے دوران ستر سالہ (2009ء میں ) علی یاور جس نے پانچ بار ان بہ اصطلاح مقامی کوچیوں کے ساتھ سفر کیا تھا کے مطابق یہ کوچی فی کس دو سو افغانی لیتے تھے جبکہ کھانے پینے کا بندو بست مسافر کے ذمہ تھا جس کیلئے عام طور پر ہر ھزارہ مسافر تقریباً تین کابلی من (22 کلو) آٹا اپنے ساتھ لاتا جسکی باربرداری اور پکانے کی ذمہ داری کو چیوں کی تھی جبکہ سوکھی لکڑیاں پانی و غیرہ کا انتظام ھزارہ مسافرین کو کرنا ہوتا تھا، بقول علی یاور دن بھی مسلسل پیدل سفر طے کرنا اور پھر شام کے پڑاوء پر پانی اور سوختنی ایندھن کا بند و بست کرنے کیلئے دو ڑ دھوپ کے بعد ہر ایک کی یہی کوشش ہوتی جلدی سے کچھ کھاکر سوجائے تا کہ اگلے دن کے ایک اور طویل سفر کیلئے اپنے آپکو آمادہ کر سکے، کم و بیش یہی حال خود کوچیوں کا بھی تھا لہذا باہمی تلخ کلامی ، لڑائی جھگڑے کی نوبت شازو نادر ہی آتی۔ موصوف کے بقول ہر قافلہ پاکستانی سرحدی حکام سے اپنی اپنی انڈراسٹندینگ (Understanding)کے مطابق پاکستان میں داخل ہوتا اور یہ سفر عموماً بائیس دن تا ایک مہینہ ژوب ، مسلم باغ یا لورالائی میں اختتام پذیر ہوتا جس کے بعد ھزارہ مسافرین کی اکثریت کوئٹہ کا رۥخ کرتی جہاں سے وہ کول مائننگ (کان کوئلہ) اور تعمیراتی شعبوں سے وابستہ ہوکر پیسہ کمانے میں لگ جاتی، اپنی فطری محنت ، ایمانداری، اور سلیقہ مندی (چم رستوئی) کیوجہ سے مقامی لوگوں کی اولین ترجیح یہی ھزارہ محنت کش ہوتے تھے، شاید یہی ابتدائی پڑاوسبب بنا کہ مذکورہ شہروں میں ھزارہ محلات وجود میں آگئے۔

جیسا کہ پہلے بتایا گیا کہ ابتداء میں افغان کوچیوں کے ساتھ اس طویل اور پر مشقّت سفر کی حیثیت ایک طرح سے موسمی ہجرت تھی جس کا آغاز ناوہ گری کے بطور خاص ان خاندانوں سے ہوا تھا جو ’’جنگ جوری‘‘ کے نام پر ایک ظالمانہ فیصلے کیوجہ سے بھاری قرضوں کے بوجھ تلے دبے ہوئے تھے جسے اتارنے کی خاطر انہوں نے یہ پر مشقت راستہ اختیار کیا تا ہم جلد ہی یہ روش پورے ھزارہ جات بطور خاص مالستان ، ارزگان خاص، جیغتو، ناھور، قرہ باغ تک پھیل گئی گرچہ اس مھاجرت کی بنیادی ماھیت وہی موسمی ہی رہی تا ہم آگے چل کر درج ذیل عوامل کیوجہ سے اس میں قدرے تبدیلی آگئی:۔

۱۔ فاشست افغان حکام جو ’’ جنگ جوری‘‘ اور بعد از آں جرگے کے فیصلوں کے نامطلوب نتائج سے سخت ناخوش تھے ، انہوں نے سر شناس ھزارہ شخصیات اور انکے قریبی عزیز و اقارب کو اس جنگ کیلئے عوامی جذبات کو بھڑکانے کے نام نہاد الزامات کے تحت پابند سلاسل کرنے اور اذیت و آزار دینا شروع کردیا جسکی ایک مثال معروف ھزارہ دانشور و سیاسی رہنما پائیلیٹ شریف خان جاغوری کی اسی الزام کے تحت گرفتاری اور سالوں تک قید میں رکھنا بھی شامل ہے، حالانکہ موصوف مدت سے کابل میں مقیم تھے اور اس دوران جاغوری سرے سے آئے نہ تھے جسکا تفصیلی ذکر موصوف نے اپنی آٹو بائیوگرافی میں کیا ہے ۔ بہر حال ایسے ھزارہ خاندانوں سے متعلق حضرات پاکستان آنے کے بعد حالات کی بہتری کے انتظار کرتے کرتے بالآخر تھک ، ھار کر یہی دائمی قیام کرنے لگے۔

۲۔ جدید التاسیس پاکستان بشمول بلوچستان سے ھندووں اور سکھوں کی ایک بہت بڑی تعداد کی ھندوستان ہجرت کرنے سے یہاں سرکاری و نجی اداروں میں ملازمتوں کے زیادہ مواقع پیدا ہوگئے تھے اس پر طرہ یہ کہ امیر جابر عبدالرحمن کی ھزارہ نسل کشی کی پالیسی سے بچ کر بلوچستان میں آباد ہونے والے ’’ ھزارہ ‘‘ اپنی محنت، قابلیت اور ایمانداری میں سند کا درجہ حاصل کر چکے تھے جبکہ یہ نو وارد ھزارہ بھی تعلیم کے سوا انہیں اوصاف کے حامل تھے لہذا ان نئے آنے والے ’ھزاروں‘‘ میں سے نوجوانوں کو بخوشی ان اداروں میں لیئے جانے لگے جبکہ ایک تعداد تجارتی شعبے میں پیدا شدہ خلاء میں جگہ بنانے میں کامیاب ھوگئی اور یوں یہاں انکے دائمی قیام کے اسباب بنتے گئے ، آ گے چل کر ان کی ایک بڑی تعداد نے ھزارہ جات میں اپنے رشتہ داروں کے ہاں شادی کرنے کو ترجیح دی اس طرح اور مزید لوگ آتے گئے ، یوں دوسری بڑی مھاجرت کی تاریخ رقم کی۔

یہاں یہ بتانا ضروری ہے کہ اِنہیں ھزارہ مھاجرین کی ایک تعداد نے بعد از آں پاکستان سے ایران، عراق، شام اور لبنان کی بھی راہ لی اور وہی مقیم ہوگئے جسکی بیشتر تفصیلات دستیاب نہیں ، دیگر ھزارہ شناس مورخین کے ساتھ ساتھ جناب جلال اوحدی نے بھی انکا اجمالی (سرسری) ذکر کیا ہے ملا حظہ ہو انکی کتاب ترکیب قبائلی۔۔۔۔ صفحات 52 اور 93۔ اس ضمن میں علی حائری کی عربی زبان میں لکھی گئی کتاب ’’الھزارہ ولافغانیون‘‘ مطبوعہ نجف اشرف سال 1970ء ایک اہم دستاویز ہے جو راقم کیcollection میں تو موجود ہے مگر فی زمانہ نہیں، یہاں یہ بتانا خالی از دلچسپی نہیں کہ ھزارہ اجتماعی تاریخ میں ایک باقاعدہ آرگنائزیشن کی بنیاد 1960ء میں ’’ الشباب الھزارہ‘‘ (جوانان ھزارہ) کے نام سے عراقی شہر نجف اشرف میں انہی ھزارہ مھاجرین کی طرف سے ڈالی گئی جو اکثر اجتماعی نوعیت کی تقاریب حتّی’ کہ سینہ زنی و ماتمی تقاریب میں بھی نہایت فخر کے ساتھ الھزارہ کے نام سے شرکت کرتے تھے (ابراھیمی19) عراقی ھزارہ کے بعد یہ فخر کوئٹہ میں آباد ’’ ھزاروں‘‘ کے حصے میں آئی جنکے چند درد دل رکھنے والے حضرات نے 1963ء میں ’’ انجمن فلاح و بہبود ھزارہ‘‘ کے نام سے ایک سماجی آرگنائزیشن کی بنیاد رکھی۔ معروف شاعر محمد علی اختیار اس کے بانی اراکین میں شامل تھے، اسی دوران آارگنائزیشن نے غریب ھزارہ گھرانوں کے ہونہار طالبعلموں کو اعلی’ تعلیم کے حصول میں قابل قدر خدمات انجام دی۔ در اصل ھزارہ اعلی’ تعلیم یافتہ جوانوں کی ایک بڑی تعداد جو آگے چل کر اعلی سرکاری عہدوں پر فائز ہوئی اسی ’’انجمن فلاح و بہبود‘‘ کی مرہون منت ہے۔

*** تیسری مھاجرت ***
جیسا کہ بتایا گیا کہ افغان حکمرانوں کا رویہ اور سلوک ھزارہ قوم کے ساتھ ھمیشہ مخاصمانہ اور ظالمانہ رہا جسکی شروعا ت احمد شاہ ابدالی سے ہوئی جس نے قندھار کے گِرد و نواح اور غزنی کے آس پاس سے ’’ ھزاروں‘‘ کی جبری بے دخلی کرائی جیسے بعد از آں امیر عبدالرحمن نے تمام ھزارہ جات پر غاصبانہ قبضے کی صورت پایہ تکمیل تک پہنچائی اور اس کے بعد بھی مظالم کا یہ سلسلہ جاری و ساری رہا ، اس مدت دراز کے دوران صرف امیر امان اللہ خان نے افغانستان کی 1923ء کی آئین کے رو سے ھزارہ غلام و کنیز کی فروخت پر پابندی لگاکر انہیں ایک بڑی مصیبت سے نجات تو دلادی مگر عمومی مظالم کا سلسلہ جیسے کوچی سیاہ طاعون Black Plight of Kuchi کی بربریت اور افغان انتظامی مشینری کی لوٹ مار ، جوں کی توں رہی ، چونکہ شاہ ظاہر کے والد نادر خان کا قتل ایک ھزارہ طالبعلم عبدالخالق ھزارہ کے ہاتھوں ہوا تھا ، لہذا موصوف کی چالیس سالہ طویل دور حکومت کے دوران ھزارہ عوام اور بالخصوص ھزارہ جات کی طرف بے اعتنائی کی پالیسی زوروں پر رہی، علم کے دروازے ان پر بند رکھے گئے اس کا اندازہ جناب دولت آبادی کے اس جملے سے لگایا جا سکتا ہے کہ ’’ یقینی طور پر 1962ء تک پورے ھزارہ جات میں دھاتی طرز (کچی مٹی) کی پرائمری سکولوں کی تعداد 20 سے زائد نہیں تھی۔ 20 پختہ سڑکوں کا تصور تک نہ تھا ، ستم بالائے ستم ، یہ کہ ضلعی مراکز کو مرکزی شاہراہ تک ملانے والی تمام رابطہ سڑکوں کی مرمت و دیکھ بھال اور سرمائی موسم میں کسی ایمرجنسی کی صورت برف کی صفائی بھی عام ھزارہ عوام کے کھاتے میں ڈال دیئے گئے تھے۔ ھزارہ جات کے بعض علاقوں میں موسم سرما کے دوران 6 فٹ تا 9 فٹ برفباری کی اوسط شرح کو دیکھتے ہوئے یہ ایک جان جوکھوں کا کام تھا۔

بہر حال اسی پس منظر کے دوران کئی سالوں کی خشکسالی کے بعد 1979ء میں ھزارہ جات میں خوفناک قحط پڑا جس نے لاکھوں ھزارہ عوام کو زندگی اور موت کی کشمکش میں مبتلا کر دیا ۔ مرکزی ، صوبائی اور مقامی حکومتوں کی غفلت کیوجہ سے جب نوبت فاقوں تک پہنچی تو قحط زدہ ھزارہ عوام کی ایک بڑی تعداد اپنی بچی کچی زمین، مال و اسباب کو فروخت کرکے ھمسایہ ممالک پاکستان و ایران کی طرف ہجرت اختیار کرنے پر مجبور ہوئی، گرچہ انکی بڑی تعداد ایران ہجرت کرگئی تا ہم ایک تعداد پاکستان بھی آگئی ، بین الاقوامی اداروں کی دباو کیوجہ سے بعد از آں کابل حکومت امداد رسانی اور بحالی کی طرف توجہ پر مجبور ہوئی مگر اس وقت تک ھزارہ اجتماعی مھاجرت کی تیسری تاریخ رقم ہوگئی تھی۔ ایک دلچسپ تذکرہ یہ کرنا ہے کہ ھزارہ جات کے بعض علاقوں میں پاکستان کی طرف امدادی اشیاء بھیجی گئی تھی اس اس دوران مشرقی پاکستان بنگلہ دیش بن چکا تھا، اسی مناسبت سے آج تک ھزارہ جات کے ان علاقوں کے بزرگ سال لوگ اسے ’’ سال بنگلہ دیش ‘‘ کے نام سے یاد کرتے ہیں، اس مھاجرت کے رویداد کے سلسلے میں میری ملاقات کئی لوگوں سے ہوئی جسکا خلاصہ یوں بنتا ہے:۔

’’ مقامی انسانی سمگلر جو کہ ھزارہ ہی ہوتے تھے فی کس ایک مقررہ رقم پیشگی Advance لیکر گروہ کی شکل میں قندھار پہنچا کر قندھار یا چمن کے اچکزئی قبیلے کی کسی سمگلر کے حوالے کرتے ، یہ اچکزئی سمگلر جو کہ پاک افغان چمن بارڈر کے دونوں طرف آباد ہیں ، انہیں کوئٹہ پہنچا کر ان سے بطور اجتماعی یا انفرادی ایک مخصوص ’’ نشانی ‘‘ لیکر واپس قندھار پہنچ کر اپنی وصولی کرتے، در اصل یہ ’’ نشانی ‘‘ ایک طرح سے ھزارہ مسافر کی با خیریت کوئٹہ پہنچنے کی علامت تھی ۔ اب چونکہ یہ ایک نفع بخش کار وبار تھا جس میں مقامی ھزارہ ایجنٹ کا کِردار بنیادی نوعیت کا تھا ، ساتھ ہی ساتھ سرحد کے دونوں طرف کے متعلقہ حکام کے بھی وارے نیارے تھے لہذا بغیر کسی سانحے کے کافی عرصے تک چلتا رہا ‘‘ ۔ بد قسمتی سے ایران کی طرف ہجرت کرنے والے ’’ ھزاروں ‘‘ کی رویداد کا علم نہ ہو سکا۔
*** چوتھی مہاجرت جو تا حال جاری ہے ***
اپریل 1978ء میں افغانستان میں ایک بڑی سیاسی تبدیلی آئی جیسے ایک طرز تفکر کے حامی ’’ انقلاب ثور ‘‘ جبکہ مخالفین ’’ کودتا ثور ‘‘ کے نام سے یاد کرتے ہیں ، میں اس بحث میں پڑے بغیر اپنی موضوع کی طرف آتا ہوں، ابتداء میں چونکہ یہ تبدیلی ، ظالمانہ خاندانی استبدادی نظام کے خلاف تھا اس لئے عموماً ہر ھزارہ عوام نے اس کا خیر مقدم کیا مگر حفیظ اللہ امین کی آشکارا ھزارہ دشمنی پالیسی اور بعد از آں ایران میں اسلامی انقلاب نے ھزارہ عوام کی اکثریت کو اس نئی سیاسی تبدیلی کے مقابل کھڑا کردیا، اس دوران شہر نشین ’’ ھزاروں ‘‘ کی ایک بڑی تعداد مھاجرت پر مجبور ہوگئی مگر ان کا رۥخ آزاد ھزارہ جات کی طرف زیادہ جبکہ کمتر کا رۥخ جدید اسلامی جمہوری ایران کی طرف رہا ، جس کا نعرہ تھا ’’ اسلام مرزندارد‘‘ ، اسلام کی کوئی سرحد نہیں ، بد قسمتی سے یہ نعرہ کبھی وفا نہ ہو سکا۔

بہر حال ایران میں جدید انقلاب کے بعد مختلف سیاسی قوتوں کی اندرونی کشمکش اور جغرافیائی لحاظ سے دوری کی نسبت، پاکستان کی حمایت یافتہ تنظیم نسل نو ھزارہ مغل ، اتحادیہ مجاھدین اسلامی کے پرچم تلے ایران سے پہلے ھزارہ جات پہنچنے میں کامیاب ہوا اور ’’ ردِانقلاب‘‘ کی باقاعدہ شروعات ہوئی۔ ستمبر 1980ء میں تاریخی شہر بامیان ھزارہ جات میں ایک نئی سیاسی و عسکری ھزارہ پارٹی شوری’ اتفاق اسلامی کے نام سے تشکیل پائی جس میں بیک وقت روایتی مْلا اور خان کے ساتھ جدید تعلیم یافتہ ھزارہ بھی شامل تھے ، انہوں نے ھزارہ جات کوسات صوبوں میں تقسیم کرکے ایک طرح سے علیحدہ حکومت قائم کردی، پاکستانی اسٹبلیشمنٹ نے بہت جلد شوری ‘ اتفاق پر بھی اپنی شفقت کا ہاتھ رکھ دیا ، یوں اتحادیہ اور شوری اتفاق کے در میان ھزارہ جات پر کنٹرول کے حصول کی دوڑ لگ گئی مگر باہمی جنگوں کی نوبت نہ آئی لیکن اسی دوران’’ جبھہ آزادی بخش اسلامی ‘‘ کے نام سے ایرانی حمایت یافتہ گروہ پاکستان کے ذریعے جاغوری پہنچنے میں کامیاب ہوا جس کے لیڈر’’ اخلاقی‘‘ نے شوری اتفاق کے ساتھ مل کر اتحادیہ مجاھدین اسلامی کے حامیوں کو چین نواز کافر قرار دیکر جنگ کے ذریعے جاغوری سے نکال باہر کیا جسمیں بزرگسال علی مدد خان سمیت کئی لوگ ہلاک کردئے گئے ، بات یہی نہیں رْکی بہت جلد ایران نواز مسلح گروہوں نے شوری اتفاق کو ’’ غیر خطِ امام‘‘ قرار دیکر انکے خلاف جھاد شروع کردیا جو بقول ابراھیمی 1983ء کے اواخیر تک جاری رہا جس میں شوری اتفاق کا مکمل صفایا ھزارہ جات سے کردیا گیا، لیکن چونکہ انکی لگامیں بیرونی آ قاوءں کے ہاتھوں میں تھی لہذا 1984ء کے اوائل سے یہی ’’ پیروان خط امام‘‘ آپس میں دست بہ گریباں ہوگئیں اور یہ سلسلہ 1989ء کے اواخیر میں حزب وحدت اسلامی کی تشکیل تک جاری رہی، اسی طویل خانمان سوز اور برادر کشی خانہ جنگی کے دوران بلا شک و شبہ ہزاروں ھزارہ مارے گئے اور لاکھوں مہاجرت پر مجبور ہوئے جہاں تک میری معلومات کا تعلق اس ضمن میں شادروان محمد عیسیٰ غرجستانی ھزارہ مقتولین کی تعداد 23 ہزار بتاتے ہیں۔

بہر حال اس داخلی خانہ جنگی کی وجہ سے چوتھی ھزارہ اجتماعی مھاجرت کی داستان شروع ہوئی جو آگے چل کار 1994ء میں کابل میں مجاھدین تنظیموں کی باہمی جنگوں اور بعد از آں طالبان کے ہاتھوں ھزارہ جات کی اقتصادی ناکہ بندی ، مزار شریف ، بامیان، یکاولنگ و غیرہ ھزارہ قتل عام کے واقعات کی وجہ سے مسلسل جار رہی ، یہاں یہ بتانا ضروری ہے کہ متاثرین ھزارہ جات خانہ جنگی کی بہت بڑی اکثریت ایران کی طرف چلی گئی جبکہ جنگ کابل و غیرہ کے متاثرین کی ایک تعداد پاکستان بھی آگئی مگر بعد ازآں انکی اکثریت یورپ و آسٹریلیا منتقل ہوگئی۔

قارئین کرام! اسی چوتھی ھزارہ مھاجرت کی داستان کو میں نے سرسری انداز میں لینے کی ضرورت یوں محسوس کی کہ ایک تو ان پر کافی تحقیقی مواد دستیاب ہیں اور ثانیاً موجودہ نسلوں کی اکثریت کے سامنے وقوع پذیر ہوئے ہیں ، لیکن اس چوتھی ہجرت کے ایک اور دردناک خیز حصے کا ذکر کرنا بے جا نہ ہوگا جس کا تعلق کوئٹہ یا بہ الفاظ مناسب تر بلوچستانی ھزارہ سے ہے۔ ایک فارسی محاورہ ہے کہ ’’ حصہ بقدر جُثّہ‘‘ کے برعکس اپنے جثّہ یعنی تعداد سے کہی زیادہ ’’ حصہ‘‘ ڈالتے آئے ہیں چاہے وہ درہء بولان و خوجک کے پتھریلے سینوں کو چیر کر سڑک و ریلوے لائینز کی تعمیر کا مرحلہ ہو یا پھر مختلف شعبہ ھای زندگی میں اپنی محنت، صلاحیت اور ایمانداری کے ذریعے اندرون و بیرون مُلک بلوچستان کا نام روشن کرنے کا تعلق ھمارا حصہ تمام دیگر اقوام کے سامنے روز روشن کی طرح عیاں ہے، مگر افسوس صد افسوس بلوچستان میں آباد ھزارہ قوم اکتوبر 1999ء میں اس وقت کے صوبائی وزیر جناب سردار نثار خان ھزارہ پر فرقہ پرست ، تشدد پسند مسلم گروپ (اور اب گروپوں ) کے حملوں سے لیکر اب تک کم از کم تیرہ سو بے گناہ ھزارہ شہید اور پانچ ہزار سے زائد زخمی جبکہ بی بی سی کے مطابق دو لاکھ سے زائد مھاجرت پر مجبور کردئے گئے ہیں ۔تین سو سے زائد انڈونیشیا اور آسٹریلیا کے در میان سمندر بُرد ہو چکے ہیں ، ہزاروں دیگر انڈونیشیا ، ترکی ، یونان، حتیٰ کہ ترقی یافتہ یورپی ممالک و آسٹریلیا کے جیلوں یا مھاجر کیمپوں میں بہ حالت کسمپرسی پڑے ہوئے ہیں جن میں اعلیٰ تعلیم یافتہ اور تعلیم یافتہ افراد کی ایک بڑی تعداد بھی شامل ہیں، نیز گذشتہ سوا سو سال کے طویل عرصے کے دوران کئی نسلوں کی محنت سے جو اقتصادی کامیابیاں حاصل کی گئی تھیں وہ بھی منجمد ہوتی جارہی ہے ، اسی طرح اگر عمومی لحاظ سے ھزارہ قوم کی کُلی حالات پر نظر دوڑائے تو حالات اطمینان بخش دکھائے نہیں دیتے ، اس وقت پندرہ لاکھ سے زائد صرف ایران میں مقیم ہیں جس کے سر پر مُلک بدری کی تلوار یوں تو ہمیشہ سے ہے مگر گذشتہ کئی سالوں کے دوران ہر چند مہینہ کے بعد ایرانی حکومت کی طرف سے جبری مُلک بدری کی ڈیڈ لائن دیکر ان سے ایک گھناونا کھیل کھیلا جارہا ہے ، دو ہزار سے زائد ھزارہ مھاجرین شام کے دارلحکومت دمشق میں ’’ نہ جای ماندن و نہ پای رفتن ‘‘ والی صورت حال سے دوچار ہے گویا چوتھی ہجرت کے اس آخری فیز میں ھزارہ قوم مھاجرت در مھاجرت کی صورتحال سے دوچار ہے، ایسے میں یہ سوال سامنے آتا ہے کہ آخر کب تک ؟ کیا اب وہ وقت آں نہیں پہنچا ہے کہ ھزارہ اہل دانش تمام جغرافیائی وابستگیوں سے قطع نظر اس بنیادی ’’ قومی المیہ‘‘ کے دائمی حل کیلئے ’’گفتن‘‘ سے آگے بڑھ کر ’’کردن‘‘ کیطرف قدم بڑھائیں ، ہمیں یہ جان لینا چاہیے کہ اس بنیادی مسئلے کو حل کئے بغیر ھزارہ قوم کی مشکلات کبھی کم نہ ہوگی.Capture

Leave A Reply