شہید حسین علی یوسفی‘امن و محبت کا پرچارک!

0

شہید حسین علی یوسفی‘امن و محبت کا پرچارک!

تحریر‘قادر نائل

بلوچستان شہدا کی سرزمین ہے یہاں کے عظیم سپوتوں نے سماجی ناانصافی ٗ قومی جبر ٗ ملی شناخت اورحقوق کے لئے قربانیاں دے کر قومی بیداری کی شمعیں روشن کی ہیں حسین علی یوسفی بھی ان شہدا کی قطار میں نظر آتے ہیں جنہوں نے قومی ٗ سیاسی حقوق ٗ شناخت ٗ سماجی انصاف ٗ قومی نابرابری ٗ نفرتوں کے خاتمے اورمحبتوں کی ترویج کے دوران جام شہادت نوش کیا 1958ء میں یوسف علی کے گھر آنکھ کھولنے والے شہید یوسفی نے زندگی کاطویل عرصہ انتہائی غربت میں گزارا ایک غریب گھرانے سے تعلق کے باوجود انہوں نے پرائمری سے ایم ایس سی تک تعلیمی سفرکامیابی سے طے کیا شہید حسین علی یوسفی کی زندگی کانصف سے زائد حصہ سیاسی قومی اورادبی جدوجہد میں گزرا انہوں نے ہزارہ اسٹوڈنٹس فیڈریشن کے پلیٹ فارم سے اپنے سیاسی سفرکا آغاز کیا۔ شہید کے ایک انٹرویو کے مطابق انہوں نے 1976-77ء میں ہزارہ اسٹوڈنٹس فیڈریشن کواپنے دیگر دوستوں کے ہمراہ ایک خالصتاً سیاسی طلباء تنظیم بنانے میں کلیدی کرداراداکیا ٗ انہوں نے فیڈریشن کوایک منظم طلباء تنظیم اورہزارہ قوم کے لئے سیاسی نرسری کاادارہ بنایا۔
70ء کی دہائی میں اگرچہ پاکستان اوربطور خاص بلوچستان میں آباد ہزارہ قوم کی منظم سیاسی قومی جماعت نہیں بن سکی تھی تاہم ہزارہ سیاسی شخصیات ملکی اورصوبائی سیاسی منظر نامے میں ہمیشہ واردرہے شہید یوسفی نے ایچ ایس ایف اوربعدازاں تنظیم نسل نوہزارہ مغل کے پلیٹ فارم سے قوم کی سیاسی وحدت کے لئے پیش بہاخدمات انجام دیں شہید یوسفی دومرتبہ ایچ ایس ایف کے چیئرمین رہے بعد ازاں انہوں نے تنظیم نسل نوہزارہ مغل کے پلیٹ فارم سے اپنی سیاسی وقومی جدوجہد کوجاری رکھا اس دوران شہید یوسفی سیاسی کارکن اورقائد سمیت ایک ادیب شاعراورڈرامہ نگار کے طورپر بھی سامنے آتے ہیں انہوں نے کوئٹہ میں ہزارگی ڈرامہ ٗتھیٹر کی بنیادرکھی شہید چیئرمین نے نہ صرف ڈرامے تحریرکئے بلکہ بطورفنکار اسٹیج پرفارم بھی کئے انہوں نے 25 سے زائدہزارگی ڈرامے لکھے اوران ڈراموں میں بحیثیت ہدایتکار اورفنکارکرداربھی اداکئے ان کے لکھے گئے ہزارگی ڈراموںنے قوم کی زبان ٗثقافت ٗرسم ورواج کوتحفظ دینے میں اہم کرداراداکیا سلگتے ہوئے سماجی ٗ معاشی اورسیاسی موضوعات پر مبنی ان کے ڈرامے ہزارگی ادب میں شاہکار کی حیثیت رکھتے ہیں۔ ان کی 15سے زائد طویل تنقیدی نظمیں قوم کی سیاسی ٗ قومی اوراجتماعی زندگی کی عکاس ہیں ان کی نظمیں ضرررساں سماجی رسومات ٗ خرافات سے بچنے کا درس دیتی ہیں۔
شہید یوسفی کواپنی زبان سے عقیدت تھی ٗ محبت تھی ٗان کی نظموں میں زبان کی چاشنی جابجادیکھی جاسکتی ہے شہید چیئرمین نے اپنی طنزیہ اورمزاحیہ شاعری کے ذریعے قوم کوبدخواہوں سے باخبرکیا اسے اپنی مادری زبان سے محبت کی تلقین کی شہید چیئرمین کی اپنی زبان سے محبت کا اندازہ اس سے بخوبی لگایا جاسکتا ہے کہ انہوں نے 30 سال سے زائد کے عرصے کی عرق ریزی اورتحقیق کے بعد 3ہزار سے زائد ہزارگی ضرب الامثال جمع کئے نہ صرف ان ضرب الامثال کی جمع آوری کی بلکہ انہیں تین زبانوں اُردو ٗ فارسی اورانگریزی میں ترجمہ کرایا ہزارہ قوم کی تاریخ ٗ تہذیب ٗ طرززندگی ٗ رسم ورواج ٗ معاشی ٗ سماجی اورسیاسی زندگی کی عکاسی شہید یوسفی کی ضخیم کتاب ان کی شدیدخواہش کے باوجود ان کی زندگی میں شائع نہ ہوسکی تاہم ان کے رفقاء کی کوششوں سے یہ کتاب شائع کر لی گئی۔
شہید چیئرمین انسانوں سے محبت کرنے والے شخصیت تھے وہ انسانوں میں باہمی احترام ٗ ایک دوسرے کوبرداشت کرنے ایک دوسرے کے عقائد ٗ زبان اوررسم ورواج کااحترام کرنے کے قائل تھے انہیں ایک درجن کے قریب زبانوں پرعبور حاصل تھا وہ ایک جہاندیدہ شخصیت تھے آدھی دنیا گھوم چکے تھے بین الاقوامی ملکی اورعلاقائی ٗ سیاست پر گہری نظررکھتے تھے وہ پاکستان اوربلوچستان میں امن کے داعی تھے صوبے میں بھائی چارے کی فضاء ٗاخوت اوررواداری کوفروغ دینے کے لئے ہمیشہ متحرک نظرآئے وہ سیاست میں رواداری اورصبر وبرداشت کے قائل تھے فرقہ واریت ٗ شدت پسندی ٗ انتہا پسند ی کو معاشرے کے لئے زہرقاتل سمجھتے تھے ان کے روشن افکار ایک مہذب معاشرے کے آئینہ دارتھے وہ بہ یک وقت قبائلی ٗ قومی اقدار کے پاسدارتھے اورترقی پسندانہ خیالات کے پرچارک تھے شہید چیئرمین قوم پرستی میں شائونزم کے قائل نہیں تھے ان کا نظریہ قوم پرستی برادری اوربرابری ٗقوموں اورعقائد کے احترام اورباہمی رواداری پر مبنی تھا ان کی قوم پرستی کامحورسوشیالوجی کی اصطلاح ’’قومی عصبیت ‘‘ تھا جس کے تحت وہ اس سماجی حقیقت کے علمبردارتھے کہ قوم دوستی اورقوم پرستی کامقصد کسی کے ساتھ معاندانہ رویہ نہیں بلکہ تمام اقوام کی تاریخ رسم ورواج زبان وثقافت ٗ ملی تشخص کااحترام اوراپنی قوم کے رسم ورواج ٗ زبان وثقافت کی بقاء کے لئے جدوجہد اورانہیں زندہ رکھنا تھا یہی وجہ تھی کہ وہ بحیثیت انسان ٗ بحیثیت قومی لیڈر ٗ سیاسی رہنماء ٗ شاعر وادیب اوردانشور پاکستان سمیت بلوچستان کی تمام اقوام میں احترام کی نگاہ سے دیکھے جاتے تھے۔
شہید چیئرمین نے بحیثیت سیاسی ٗ رہنماء ٗ دانشور دنیا کے بیشتر سیاسی رہنمائوں سے ملاقاتیں کیں انہیں لندن ٗ امریکہ سمیت متعدد ممالک میں مختلف سیمینار اورکانفرنس میں لیکچردینے اورتقریر کرنے کا اعزاز بھی حاصل رہا جوان کی بین الاقوامی شخصیت کی حقانیت کا ثبوت ہے شہید چیئرمین کوہزارگی معاشرے میں شخصیت پرستی ٗ گروہ بندی ٗ مفاد پرست ملائوں کے طرزعمل سے شدید نفرت تھی جس کا اظہار انہوں نے اپنے ڈراموں ٗ اپنی نظموں اوراپنی تقریروں میں باربار کیا ہے یہی وجہ تھی کہ ہزارہ قوم میں جماعتی اورتنظیمی کلچر کورواج دینے کے لئے انہوں نے طویل عرصے تک جدوجہد کی ہزارہ قوم کوسیاسی اورقومی لحاظ سے منظم کرنے کے لئے ان کی اوران کے ہم نظردوستوں کی جدوجہد اس وقت بارآورثابت ہوئی جب 7جولائی 2003ء کوہزارہ ڈیموکریٹک پارٹی کی داغ بیل ڈالی گئی شہید چیئرمین ایچ ڈی پی کے بانی رہنمائوں میں سرفہرست تھے قبل ازیں شہید چیئرمین 80ء کی دہائی میں جب کونسلر منتخب ہوئے تب بھی وہ آزاداُمیدوارنہیں تھے انہوں نے تنظیم نسل نوہزارہ مغل کے پلیٹ فارم سے بلدیاتی ٗ انتخابات میں حصہ لیا اورکامیاب ہوئے بعدازاں ایچ ڈی پی کے قیام سے قبل بھی وہ 2002ء کے صوبائی انتخابات میں حلقہ پی بی 6سے اتحاد ملی ہزارہ کے پلیٹ فارم سے انتخابات میں حصہ لیا ان کا مقصد یہ تھا کہ آزاد حیثیت سے عوامی نمائندگی کی بجائے تنظیم اورجماعت کواہمیت دی جائے وہ شخص اورشخصیت سے زیادہ ادارہ کواہمیت دیتے تھے سیاست میں ایڈہاک ازم پریقین نہیں رکھتے تھے ہزارہ قوم میں سیاسی جماعتی ٗجمہوری اورادارتی کلچر کوتقویت دینے کے خواہاں تھے۔ ہزارہ ڈیموکریٹک پارٹی کاقیام ان کا خواب تھا اوراس جماعت کوقوم کے ارمانوں کی تکمیل کے لئے منظم بنانا ان کا مشن تھا۔
شہید چیئرمین دومرتبہ ہزارہ ڈیموکریٹک پارٹی کے وائس چیئرمین منتخب ہوئے اوراپنی قائدانہ صلاحیتوں کی بدولت انہوں نے پارٹی کو عوام میں مقبول بنایا نومبر2008ء کوحسین علی یوسفی ایچ ڈی پی کے چیئرمین منتخب ہوئے اورپارٹی کی لیڈر شپ سنبھالنے کے بعد انہوں نے دوماہ کے قلیل عرصے میں پارٹی کوعوام کے دلوں کی دھڑکن بنایا ملک بھر سمیت بین الاقوامی سطح پرایچ ڈی پی کومربوط کرنے کی کوشش کی پارٹی کارکنوں کومختصر اورطویل المدتی پروگرام دئیے قوم کی سیاسی واجتماعی رہنمائی کے لئے عوامی رابطہ مہم جلسوں کا سلسلہ شروع کیا شہید چیئرمین نے پارٹی کلچر کوہزارگی معاشرے میں مضبوط بنیادیں فراہم کیں انہوں نے شخصیت پرستی اورگروہ بندی کی ہرفورم پر مداخلت کی انہوں نے اپنی مدلل تقریروں اورشعلہ بیانی سے پوری قوم کواپنا گرویدہ بنارکھا تھا وہ قوم میں اتحاد اورانسجام کے حامی تھے اوران کی خواہش تھی کہ قوم کے دیگر سماجی ٗ فلاحی ادارے ٗ دانشورااورسیاسی کارکن ایچ ڈی پی کے پلیٹ فارم پر متحد ہوجائیں ۔شہید چیئرمین کی قوم دوستانہ سیاست ٗ انسان دوستی ٗ جمہوریت کے استحکام بلوچستان کے حقوق جمہوری اداروں کی بالادستی سماجی انصاف اورعوامی حقوق کے لئے جاری جدوجہد قوم دشمن عناصر کوراس نہ آئی اوراس عظیم شخصیت کو26جنوری 2009ء میں ہم سے جدا کیا۔ یہ نادیدہ قوتیں حسین علی یوسفی کوشہید کرکے پشیمان ہوگئیں۔ ان کی شہادت نے ہزارہ قوم کومنظم کیا ایچ ڈی پی کے قائدین اورکارکنوں کے حوصلوں کوبلندکیا پاکستان سمیت دنیا کے 20سے زائد ممالک میں شہید چیئرمین کے قتل کے خلاف ہزارہ قوم اوردیگر محکوم اقوام نے شدید احتجاج کیا جوپاکستان کی تاریخ میں کسی بھی رہنماء کے قتل پرکیا جانے والا وسیع پیمانے پرپہلا احتجاج ہے۔
26 جنوری 2009ء ہزار ہ قوم کی تاریخ میں ایک سیاہ ترین دن کے طورپر یادکیاجارہا ہے اس دن ہزارہ قوم کو عظیم رہنماء اوربلوچستان بالخصوص کوئٹہ شہر کے باسیوں کوامن کے سفیر سے محروم کردیاگیا امن کی آشارکھنے اورامن ومحبت کی بھاشابولنے والے حسین علی یوسفی کوامن دشمن عناصر نے ایک ایسے وقت میں ہم سے چھین لیا جب ملک بھربطور خاص بلوچستان اورکوئٹہ کے شہریوں کو محبت ٗ رواداری ٗ دوستی کی اشد ضرورت تھی اورشہید یوسفی ان خوبصورت احساسات اورجذبات کا پرچار کرنے والا تھے شہید چیئرمین کا قتل صرف ایچ ڈی پی اورہزارہ قوم کانقصان نہیں بلکہ پاکستان اوربلوچستان کی ترقی پسند جمہوری ٗ سیاسی ٗ قومی جماعتوں کے لئے بھی ناقابل تلافی نقصان ہے ان کی شہادت سے پیدا ہونے والا خلاء اگرچہ پرنہیں کیا جاسکے گا تاہم ان کے سیاسی جانشین اورپارٹی اپنے شہید چیئرمین کے مشن کی تکمیل کے لئے پرعزم ہے ۔

نوٹ: ایچ ڈی پی کے شہید چیئرمین کی 8ویں برسی 26 جنوری کو پوری عقیدت و احترام سے منائی جا رہی ہے

Leave A Reply