مشرقی وسطیٰ مہاجرین کا بحران اور ھماری ذمہ داریاں!

0

تحریر- اسحاق محمدی
بلاشبہہ لاکھوں در بدر مہاجرین جن میں شامیوں کی تعداد سب سے زیادہ ہیں کی بر وقت مدد کیلئے اپنی سرحدیں کھولنے اور انہیں 55b72b73493c0کھلے دل سےخوش آمدید کہنے میں اھل یورپ کے ایک عام فرد سے لیکر سیاستدان اور پوپ اعظم تک سب نے بڑے پن کا مظاہرکیا اور انسانیت کا بھرم قایم رکھا۔ اس ضمن میں وہ سب مبارک باد کے قابل ہیں۔ اگرچہ اھل مغرب، جنگ عظیم دوم سے اب تک کروڑوں مہاجرین کو اپنی ہاں پناہ اور یکساں ترقی کے مواقع دیتے آے ہیں جن میں ھررنگ، نسل، خطے اور عقیدے کے لوگ شامل ہیں لیکن مہاجرین کی اتنی بڑی تعداد کا بیک وقت سامنا وہ پہلی بار کررہے ہیں جوایک نہایت مشکل مرحلہ ھے مگر چونکہ وہ عقل و منطق سے کام لینے والے لوگ ہیں اسلیے قوی امید ھے کہ وقت گذرنے کے ساتھ ساتھ وہ بخوبی اس انسانی بحران سے نمٹنے میں کامیاب ھوجائنگے۔

لیکن عین اسی وقت نام نہاد اسلامی ممالک کے کریہہ کردار بھی کھل کر سامنے آگئے ہیں جوھمہ وقت اسلامی کردار،اسلامی اقدار، اسلامی اخوت وغیرہ کے الاپ شلاپ بلند کرتے رہتے ہیں جن میں سے کئی، دنیا کے امیرترین ممالک میں بھی شمار ھوتے ہیں اور جنکی سرحدیں بھی انکے ان ھم مسلک مصیبت زدہ مہاجرین سے زیادہ دور نہیں لیکن انہوں نہ صرف اپنی سرحدیں بلکہ اپنی تجوریاں بھی بند رکھی ہیں۔ ان ممالک اور خاص طور پر سعودی عرب کیلئے جرمن چانسلر سے منسوب یہ تاریخی جملہ شرم سے ڈوب مرنے کیلئے کافی ھے کہ ” ھم اپنے بچوں سے کہینگے کہ ھم نے مسلمانوں کو اس وقت پناہ دی جب مکہ ان سے زیادہ قریب تھا”۔ ایسے میں مسلم امہ کی بے رخی بھی قابل صد مذمت ھے جو اکثر قران کی بے حرمتی یا پھر پیغمبر اسلام کے کارٹون پر آپے سے باہر ھوجاتے ہیں اورلاکھوں کی تعداد میں گلیوں میں نکل کر اپنے ھی اقلیتی ھم وطنوں کی جان ومال و ناموس پر جھپٹ پڑتے ہیں لیکن یہاں ھزاروں مسلمانوں کے قتل عام اور لاکھوں کی مہاجرت پرایسے” دم سادھے” ھوے ہیں جیسے انہیں "سانپ سونگھ” گیا ھو۔ مزید بے شرمی کی انتہا کہ "کھسیانی بلی کمبا نوچے” کے مصداق بعض حلقے اس شرمندگی کو مٹانے کیلئے یہ تحویلیں دے رھے ہیں کہ چند قریبی اسلامی ممالک نے تو کئی ملین شامیوں کوپناہ دیدی ہیں جبکہ باقی مالی امداد دے رہے ہیں۔ آیئے اس دعوے کی صداقت کو قدرے تفصیل سے دیکھتے ہیں۔

یو این ایچ سی آر ذرایع کے مطابق اس وقت چار ملین سے زیادہ صرف شامی مہاجرین میں سے ایک ملین نوے ھزار ترکی میں ایک ملین لبنان میں، چھ لاکھ تیس ھزار اردن میں، دولاکھ پچاس ھزار عراق میں اور ایک لاکھ تیس ھزار مصر میں مقیم ہیں۔ ان تمام ممالک میں چند باتیں قطعی اور مشترک ہیں کہ:
الف۔ یہاں انہیں کسی قسم کی بنیادی انسانی حقوق میسر نہیں۔ تعلیم، صحت یا شہری حقوق تو بہت دور کی باتیں ہیں۔
ب۔ بین الاقوامی امداد ان ممالک کے کرپٹ سیسٹم سے گذرکر جب مہاجرین تک پہنچیگی تو وہ "اونٹ کے منہ میں زیرہ” کے برابر رہ جایگی۔
جبکہ درج ذیل سنگین باتیں ان ممالک سے منسوب ہیں
ت۔ جنگ زدہ عراق میں مقیم شامی مہاجرین کے بارے میں زیادہ معلومات دستیاب نہیں لیکن سنی العقیدہ ترکی میں کرد مہاجرین جو عقیدہ کے اعتبار سے ترکوں کے ھم مسلک یعنی سنی ہیں انہیں شدید نسلی تعصب کا سامنا ہیں تین سالہ ایلان کا بدنصیب خاندان اسی نسلی تعصب کے شکار بنے۔
ج۔ مصر، لبنان اور خاص طورپر اردون میں مقیم شامی مہاجرین کے بارے میں ایسے معتبر شواھد موجود ہیں جنکے مطابق ریجن کے دولتمند افراد خاصطورپر خلیجی شیوخ، بڑے پیمانے پرنابالغ شامی مہاجر بچیوں کی جِنسی استحصال کررہے ہیں۔

اب ذرا سعودی عرب اور دیگرخلیجی ممالک کے حسنِ سلوک کا جایزہ لیتے ہیں۔ ان ممالک کے بارے میں یہ حقیقت کھلی کتاب کی طرح ھے کہ یہ سواے یورپین کے باقی کسی کو انسان ھی نہیں سمجھتے لہذا جنگ سے دربدر شامی مہاجروں کیلئے انکے ھاں کوئی جگہ نہیں انکی سرحدیں انپر بند ہیں۔ ان امیر ترین اسلامی ممالک کی امدادی رقوم بھی نہ ھونے کے برابر ہیں۔ یو این ایچ سی آر کے مطابق سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، کویت، قطراور بحرین نے کل ملا کر 589 ملین پونڈ کی امداد دی ہیں جیسے ایمنیسٹی انٹرنیشنل کے ڈایریکٹر براے انسانی حقوق جناب شریف السید نے شرمناک قرار دیا ھے۔ حالانکہ اس مد میں برطانیہ، 918 ملین پونڈ دے چکا ھے اور مزید ایک ارب پونڈ دینے کا وعدہ کیا ھے جبکہ امریکی امداد ان ممالک سے چارگنا زیادہ ہیں۔ تعجب کا مقام ھے کہ مذکورہ برادر اسلامی ممالک کی صرف دفاع پر سالانہ اخراجات کا تخمینہ 165 ارب پونڈ ہیں۔

اب ایک اور دولتمند اور شامیوں کے قریبی برادراسلامی ملک ایران کی طرف آتے ہیں۔ بدقسمتی سے اس ملک نے بھی اپنے دروازے شامی مہاجرین پر بند کر رکھے ہیں، البتہ بشرالاسد رژیم کو بچانے کی خاطر اربوں ڈالرنقدی اور فوجی امداد کی صورت دمشق پر لٹانے کے ساتھ ساتھ مظلوم ھزارہ مہاجرین کو اپنے چارے کے طورپراستعمال کرنے سے بھی دریغ نہیں کررھاھے۔ شامیوں کیلئے انکی یہی خدمات کافی ہیں۔ ویسے بھی اس برادر اسلامی ملک کے افغان مہاجرین کے سلسلے میں کافی شاندار خدمات ہیں جنکو دیکھتے ھوے شامی مہاجرین نے انکے بند دروازوں کو کھٹکھٹانے کی ضرورت ھی محسوس نہیں کی۔ یاد رہے کہ عرصہ 35 سال کے بعد ولی امرمسلمین و فقیہ اعظم کو حال ھی میں یہ نادر خیال آیا کہ ان مہاجرین کے بچوں کوبھی سکولوں میں داخلے کا حق دینا چاہیئے!!

باقی اسلامی ممالک میں ایک پاکستان ھے جومسایل کے دلدل میں پہلے ھی غرق ھے۔ چچن، ازبک،تاجیک، اویغور، عرب، افغان طالبان جیسے جری جنگجومہاجرین کی موجودگی میں شاید کوئی اور آنے کی جرات ھی نہ کریں۔ ملائیشیا، انڈونیشیا، بنگلہ کے دیش اورمرکزی ایشیائی ممالک کے قوانین مہاجرین کو پناہ دینے کی اجازت نہیں دیتے۔ افغانستان کی اپنی ایک چوتھائی آبادی ملک سے باھر رہنے پر مجبور ہیں۔ لہذا ان حالات میں بقول مرحوم رئیس امروھی:
اب عالمِ اسلام کو اٹھنے کی ضرورت
بیشک ھے مگروہ عالمِ اسلام کہاں ھے ؟

Publication1آخر میں ھزارہ مہاجرین کے بارے میں اور خاص طورپر انکے نام پر کام کرنے والی تنظیموں سے چند باتین کرنا بے حد ضروری ھے اور وہ یہ کہ اس وقت سب کی نظریں مشرقی وسطیٰ خصوصاً شامی مہاجرین بحران پر مرکوز ہیں ایسے میں افغانستان اور پاکستان میں جاری ھزارہ نسل کشی اور اقتصادی ناکے بندی کے نتیجے میں یورپ، آسٹریلیا اور انڈونیشیا کے کیمپوں میں پناہ لینے پر مجبور ھونے والے ھزارہ مہاجرین کا معاملہ پس منظر میں چلاگیا ھے۔ اس مسلے پراب یکساں موقف کے ساتھ موثر آواز اٹھانے کی اشد ضرورت ھے۔ مغربی ممالک، اقوام متحدہ اور دیگر متعلیقہ اداروں تک یہ حقیقت پہنچا دینی چاھیئے کہ ھمیں شامی مہاجرین کی تکالیف کا بخوبی علم ہیں اور ھماری تمام ترھمدردیاں انکے ساتھ ہیں، بھلا انکے تکالیف کو ھزارہ قوم سے زیادہ کون محسوس کرسکتی ھے جو خود گذشتہ ڈیڑھ صدی سے اس کرب اور المیے سے دوچار ھیں۔ لہذا اس ضمن میں ھزارہ المیہ کو بھی یاد رکھنا چاہیئے۔ اگردولت اسلامیہ، النصرہ وغیرہ انکے قتل عام میں مصروف ہیں تو القاعدہ، داعش، طالبان، لشکر جھنگوی وغیرہ ھزارہ خون کے پیاسے ہیں۔ ھزارہ مہاجرین کے حقوق کے داعی تنظیموں کو معلوم ھونا چاہیئے کہ انکی طرف سے غفلت اور کوتاہی، قومی خیانت کے مترادف ھوگی، انہیں فی الفور اقدامات اٹھانی چاہیئے.

ہزارہ تنظیمیں متوجہ ہو !
ایلان کرد کی موت نے جہاں تمام انسانوں کو افسردہ کر دیا وہی یورپ کے عوام نے مہاجرین کے لئے نہ صرف اپنی سرحدیں بلکہ دل کے دروازے بھی کهول دئیے ہیں ۔ اس سلسلے میں آسٹریلین وزیراعظم ٹونی ایبٹ نے 12 ہزار کے قریب شامی پناہ گزینوں کو شہریت دینے کا اعلان کیا ہے جوکہ خوشی کا مقام ھے۔ لیکن سوال یہ پیدا ھوتا ھے کہ اس وقت جو ھزاروں پناہ گزین جنکی ایک بڑی تعداد ھزارہ پر مشتمل ہیں جزایر مانوس، نارو یا انڈونیشیا کے کیمپوں میں بند پڑے ہیں کیا وہ انسان نہیں؟ کیا انکے حقوق نہیں؟

اس سلسلے میں ھزارہ مہاجرین کے حقوق کیلئے کام کرنے والی تنظیموں سے اپیل کیجاتی ھے کہ ان حساس حالات میں اپنی قومی زمہ داریوں کو ادا احساس کرتے ہوئے اگے بڑھے اور سب کو ساتھ ملا کر ان مظلوموں کی داد رسی میں اپنا فریضہ ادا کریں۔ ھماری بزرگوں کا بهی تو قول ہے کہ جب تک بچہ روئے گا نہیں ماں بھی دودھ نہیں پلائیگی۔

نرم و نازک معصوم ایلان کی موت نے سات براعظموں کی سخت جان انسانوں کی جسموں میں جھرجھری پیدا کر کے انہیں احساس دلایا کہ انسانیت کے دشمن کس قدر پستی تنزلی اور پسماندگی کی اتھاہ گہرائی تک جا پہنچی ہے کہ ایک مظلوم باپ درندوں کے خوف سے اپنے خاندان کو بچاتے ہوئے سمندر کی بے رحم موجوں میں اپنا خاندان کھو دیتے ہیں
اور بالآخر بارڈر پر خار دار تاریں اور فورسیز انسانیت کی راہ میں رکاوٹ بننے میں ناکام رہتی ہیں
براعظم آسٹریلیا کے وزیراعظم تم انسانیت کی راہ میں کیوں رکاوٹ بن رہے ہو ؟
ایک معصوم اور ننهی جان ایلان کرد کی موت نے ہمیں انسانیت کا درس دے گی

ایک وہ جو انسانیت کا قتل کرتا ہے
ایک وہ جو انسانیت کو بچاتا ہے

وزیراعظم صاحب
آسٹریلیا میں آنے والے ریفیوجیز کی زندگی اور فیملی کو اسی انسانیت کے قاتلوں سے خطرہ ہیں کہ جس سے بهاگ کر ایلان پانی میں ڈوب گئے

Leave A Reply