تاریخ بلوچستان کا ایک نیا موڑ!

0

تحریر-علی ھزارہ

بالآخر بلوچستان میں قوم پرستوں کی پانچویں بغاوت خاموش ہوتی دکھائی دے رہی ہے اور ایسا لگتا ہے کہ جنرل مشرف کے دور سے شروع ہونی والی لڑائی اور آزاد بلوچستان کی تحریک براہمداغ بگٹی کی تحریک سے دستبرداری کے اعلان کے بعد اپنے منطقی انجام کی طرف بڑھ رہی ہے۔ مشرف، چوہدری شجاعت، آصف زرداری اور نواز شریف کی حکومتوں میں جہاں بلوچستان کے مسئلے پر مذاکرات اورسیاسی گفت و شنید کا عمل جاری رہا وہاں ساتھ ہی ساتھ فوج کے کردار اور اثر و رسوخ نے بھی اپنا کام دکھایا ۔ تینوں ادوار میں تمام پارٹیوں نے اپنے انتخابی منشور میں بلوچستان کے ایجنڈے کو سر فہرست رکها ۔ مشرف نے بلوچوں کو خوش کرنے کیلئے ظفر اللہ جمالی کو وزیراعظم، عبدالقادر بلوچ کو کورکمانڈر اور امیر الملک مینگل کو گورنر نامزد کیا لیکن بلوچ مطمئن نہیں ہوئے۔ پیپلز پارٹی کے بلوچ صدر آصف علی زرداری نے بھی اپنی حکومت کے دوران آغاز حقوق بلوچستان پیکج کا اعلان کیا لیکن بلوچوں کی اس بات سے بهی تسلی نہ ہوسکی ۔ انتخابات سے قبل موجودہ وزیراعظم کے ساتھ مل کر کراچی میں سردار عطاء اللہ مینگل نے ایک پریس کانفرنس میں کہا تھا کہ بلوچستان اب پوائنٹ آف نو ریٹرن تک پہنچ چکا ہے جس کے بعد انہوں نے سیاست سے کنارہ کشی اختیار کر لی ۔

پهر انہی دنوں 2013 کے انتخابات میں سردار اختر مینگل اپنی جلا وطنی ختم کر کے دبئی سے اسلام آباد پہنچے ۔ بظاہر سیاسی ملاقاتوں اور پاکستان کے آئین کے مطابق حلف اٹھانے کی ان کی باتوں سے لگ رہا تھا کہ شاید بلوچستان کی حکومت انہیں دی جائے گی لیکن ایسا نہیں ہوا اور خفیہ قوتوں نے ایک عام سیاسی رہنما ڈاکٹر عبدالملک کی نیشنل پارٹی کو برسر اقتدار لا کر یہ تاثر دیا کہ بلوچستان کے عوام سرداری نظام سے بے زار ھو چکے ہیں ۔ ادھر پشتونستان کا نعرہ بهی مراعات میں کہیں کهو گیا اور اچکزی صاحب اقتدار کے ایوانوں کے مزے لوٹنے میں مصروف ہوگئے حالانکہ ان کا شمار اسٹبلشمنٹ کے سب سے بڑے ناقدین میں ہوتا تھا ۔ شاید وہ اپوزیشن میں بیٹھے بیٹھے تنگ آ چکے تھے ۔ ان تمام صورت حال میں فوج، سیاسی بات چیت اورمراعات کی پیشکش کے ساتھ ساتھ اپنے اہداف کے حصول پریکسوئی سے عمل کرتی رہی اور اگر ایک طرف آپریشن کو جاری رکھا تو دوسری طرف ترقیاتی منصوبوں ، سماجی سرگرمیوں، کھیلوں کے انعقاد اور رقص و سرود پر مبنی ثقافتی پروگراموں کے انعقاد سے ماحول کو پرامن دکهانے کی کوشش کرتی رہی اور تو اور چیف جسٹس افتخار چوہدری جنہوں نے ایجنسیوں کی تحویل سے کئی دہشت گردوں کو رہا کرایا گمشدہ بلوچوں کی بازیابی میں کبھی دلچسپی لیتے دکھائی نہیں دیئے ۔ بلوچ اس مرتبہ بھی منقسم رہے ۔

جنگجوؤں نے ساحل و وسائل پر مکمل اختیار کا نعرہ بلند کیا تو دوسری طرف سے بھی ساحل وسائل کے نام پر حق مانگا گیا۔ بقول ثناء بلوچ تقسیم در تقسیم قوموں کے ساتھ یہی ہوتا ہے کہ شناخت کا نادرا اور زر اور زمین کا فیصلہ اسلام آباد کرتا ہے ۔ بلوچ رہنما خان آف قلات ، حیربیار مری اور براہمداغ بگٹی عالمی برادری کو یہ باور کرانے میں ناکام رہے کہ بلوچستان میں بلوچ آزادی کی جنگ لڑ رہے ہیں کیونکہ ملک مقامی جدوجہد اور حمایت سے زیادہ عالمی طاقتوں کی منظوری سے بنتے ہیں جیسے کہ فلسطین، کشمیر، خالصتان اور دوسری تحریکیں اس کی مثالیں ہیں ۔ خان قلات سے محمود خان اچکزئی ، ڈاکٹر مالک اور مستقبل کے متوقع وزیر اعلیٰ سردار ثناء اللہ زہری کی مسلسل ملاقاتیوں میں انہیں مزاحمت کاروں کی حمایت سے دستبردار کرانے کی کوششیں کیں۔ جون 2014 کو بزرگ قوم پرست رہنما نواب خیر بخش مری طویل علالت کے بعد کراچی کے ایک نجی ہپستال میں انتقال کر گئے، ان کی عمر 88 برس تھی۔ انکے انتقال سے بلوچ مزاحمت کار ایک مضبوط اور موثر آواز سے محروم ہو گئے اور 20 جولائ 2015 کو برطانیہ میں مقیم خان آف قلات نے بی بی سی کو دیئے گئے انٹرویو میں بتایا کہ بلوچستان میں جاری شورش میں دونوں جانب سے برف پگھلی ہے۔ انھوں نے اپنی پاکستان واپسی کے لیے حکومت اور اسٹیبلشمنٹ کو تین شرائط بھیجی ہیں جن میں بلوچستان میں لاشوں کے سلسلے کو بند کرنا، چادر اور چاردیواری کا احترام اور فوجی آپریشن کا خاتمہ شامل ہیں۔ اس دوران ڈاکٹر اللہ نذر بلوچ کی بهی ہلاکت کی متضاد اطلاعات آئیں جبکہ 26 اگست 2015 کو بی بی سی اردو کو ہی دیے گئے ایک انٹرویو میں جلاوطن بلوچ رہنما براہمداغ بگٹی نے کہا کہ اگر بلوچ عوام کی اکثریت اور ساتھی چاہتے ہیں تو وہ آزاد بلوچستان کے مطالبے سے دستبرداری اور پاکستان کے ساتھ رہنے کو تیار ہیں۔ ان پندرہ سالوں میں جہاں بلوچ مزاحمت کار قتل ہوتے رہے وہاں سیکورٹی اہلکاروں کے علاوہ مقامی سیٹلرز اور پشتون مزدور بھی قتل کر دیئے گئے ۔

55b72b73493c0ہزارہ تو خاص طور پر تختہ مشق بنے جن کے قتل عام کی نہ صرف پاکستان سمیت دنیا بھر میں مذمت کی گئی بلکہ بلوچ مزاحمت کاروں نے بهی ان کے خلاف روا رکھے جانے والے مظالم کی شدید مذمت کی ۔ سیاسی ، سماجی اور صحافیوں نے ہزارہ قتل عام کو خفیہ ایجنسیوں کی کارستانی قرار دیا جبکہ بعض نے انہیں ہمسایہ ممالک کی پراکسی وار کا نام دیا ۔ اسی طرح کسی نے فرقہ واریت کو ان واقعات کا باعث قرار دیا تو بعض لوگ انہیں مزاحمت کاروں کی کارستانی قرار دیتے رہے جبکہ خود ہزارہ قوم نے بهی ایک موقف اختیار نہیں کی ۔ آزاد بلوچستان کی تحریک بلوچ عوام کے اندرونی اختلافات ، ان کی منقسم اور منتشر قوت ، ناکافی وسائل ، مسائل کے انبار اور بیرونی ممالک میں حمایت حاصل نہ کرنے کے باعث ناکام ہوئی . نیویارک میں جشن آزادی ریلی میں بلوچستان کے وزراء اورایم پی ایز کی شرکت سے سپر پاور کو یہ تاثر دیا گیا کہ بلوچستان کی نمائندہ جماعتیں اور رہنما وفاقی پاکستان کے ساتھ رہنا چاہتے ہیں اس گریٹ گیم میں مظلوم ہزارہ برادری کا خون کیا رنگ لائے گا ؟ انکا تو نہ کوئی سیاسی نہ ہی مذہبی ایجنڈا ہے نہ کسی قوم قبیلے یا مسلک سے دشمنی. ان کا تحفظ کیسے ممکن ہوگا جنہیں خندقوں بیرئر اور ان کے علاقوں تک محدود کرنے کے باوجود اب تک ان کے دو ہزار سے زائد لوگ قتل کئے جا چکے ہیں جبکہ آج تک حکومت ایک بهی دہشتگرد کو انصاف کے کٹہرے میں نہیں لاسکی ۔ البتہ ایسا ضرور محسوس ہوتا ہے کہ حالات میں رونماء ہونے والی حالیہ تبدیلیوں سے ھزارہ قتل عام میں ملوث عناصر کچھ کمزور پڑ گئے ہیں۔ کہتے ہیں کہ وقت سب سے بڑا منصف ہے لہٰذا آنے والا وقت ہی یہ ثابت کرے گا کہ ہزارہ قوم کی قربانی دہشت گردوں کے اسلام کی سربلندی کے لئے تهی یا آزاد بلوچستان کی تحریک کو ختم کرنے کے لئے ۔۔۔۔۔ ؟ کیونکہ اب تو عام لوگ بھی یہ سوال کرنے لگے ہیں کہ ریاست بلوچوں کا اعتماد بحال کرنے اور مزاحمت کاروں کو سرنڈر کرانے میں تو کامیاب ہوگئی لیکن ہزارہ قتل عام کو روکنے اور مجرموں کو سزا دینے میں نا کام کیوں ہے ؟

حوالہ جات بی بی سی اردو اور سوشل میڈیا

 

Leave A Reply