بامیان بودا کے عظیم الجثہ مجسمے

0

تحقیق و تحریر : اسحاق محمدی

 1997کے وسط میں میرا ایک طویل مقالہ روزنامہ جنگ کے "سنڈے میگزین” میں بامیان کے عظیم بودا مجسموں کے متعلق چھپا تھا جیسے کافی سراہا گیا تھا۔ بعد میں جب مارچ 2001 میں طالبان کے ھاتھوں ان شاندار انسانی شاہکاروں کی تباہی کا دلخراش واقعہ رونما ھوا تو تب بھی میں نے اس موضوع پر کئی مقالے لکھے جنمیں سے کئی اب بھی مختلیف ھزارہ ویب سائٹس پرموجود ھیں۔ لیکن چونکہ وہ انگریزی میں ھیں اس لیے اردوقاریئن کے اصرارپردوبارہ اردومیں لکھ رہا ھوں۔

یوچی، خانہ بدوش قبایل کا ایک جتھا تھا جو پانچویں صدی عیسوی کے لگ بھگ شمالی قراقرم میں اپنے حریف قبایل سے شکست کھانے کے بعد مرکزی ایشیا کی طرف ہجرت پر مجبورھوا تھا۔ انکی نسلی شناخت کے حوالے سے مورخین میں اختلاف پایا جاتاھے ایک گروہ انھیں مغل نسب جبکہ دوسرا آریا نسب قرار دیتے ھیں۔ میں اس مسلہ میں الجھے بغیراپنے بات کو آگے بڑھاتا ھوں۔ معتبرتاریخی شواھد کے مطابق پہلی صدی عیسوی کے دوران یوچی قبایل کی شاخ کوشان نے اپنے سردارھرایوس کی سرکردگی میں دریاے آموعبورکرکے قدیم خراسان (موجودہ افغانستان) میں ایک سلطنت کی بنیاد رکھی جیسے حقییقی معنوں میں بڑھاوا اسکے جانشین کد فیزنے دی۔ بعد میں اسی سلسلے کے مقتدربادشاہ کنیشکا (120 تا 140ء) نے اسے ایک عظیم سلطنت میں بدل دی جسکے قلمرو میں پورا مرکزی ایشیا، شمالی ھندوستان اورقراقرم تک کے وسیع علاقے شامل تھے۔ کنیشکا نے اپنے عروج کے دور میں بدھ مت اختیارکی اور اسی کے دور میں گوتم بدھ کی زندگی اور تعلیمات کو پتھر سمیت دیگر دستیاب اشیاء پرکندہ اور نقش کرنے کی ریت چل پڑی جسمیں وادی بامیان کے عظیم الجسہ مجسمے بھی شامل ھیں جو مارچ 2001 میں دھشت گرد طالبان کے ھاتھوں تباہ ھونے تک دنیا کے سب سے بڑے ایستادہ مجسمے تھے۔ یہاں یہ یاد دھانی ضروی ھے کہ اُس وقت کشمیر، ٹیکسیلا، پشاور وغیرہ کے علاقے یونانیوں کے زیر اثر تھے اسی لیے جب گوتم بدھ تعلیمات اور زندگی کو نقش کرنے کی شروعات ھویں توبدھ مت کے پیروکاراس فن میں اس حد تک یونانیوں کے زیر اثرچلے گئے کہ گوتم بدھ کو یونانی "دیوتا اپالو”کے روپ میں پیش کرتے رھے۔ مجسمہ سازی کے باقی شعبوں میں بھی وہ اسی طرح انکی پیروی کرتے تھے جسکی وجہ سے ماھرین گندھارا آرٹ کو "گریکو-باخترین” کا نام دیتے ھیں۔ کوشانیوں کے عروج کے دور میں انھوں نے اسمیں اپنے اثرات بھی شامل کرنے میں کامیاب ھوے جسکی وجہ سے بعض ماھرین اسے "گریکو-کوشا نو” بھی کہتے ھیں۔ اس مسلہ کا ذکر اس لیے ضروری ھے کہ بعض ھزارہ لکھاری بامیان بودھا مجسموں کے بارے میں یہ لکھتے ھیں کہ چونکہ انکی شکل "مغلی” تھی اس لیے ھزارہ دشمن قوتوں نے انھیں تراش دی، جوحقایق پر مبنی نھیں۔

بامیان کابل کے شمال مغرب میں 140 کلومٹرکے فاصلے پر ایک تنگ مگر سبز و شاداب وادی ھے جسکی لمبائی دس کلومیٹرجبکہ چوڑائی تین تا پانچ کلومیٹرھے۔ یہ اب ھزارہ نشین صوبہ بامیان کے دارلحکومت کے ساتھ ساتھ پورے ھزارستان (ھزارہ جات) کا مرکز بھی گردانا جاتاھے۔ ماضی بعید کے دوران، کوشان دور سلطنت میں جب یہ پورا خطہ امن کا گہوارہ تھا شاہراہ ریشم کے ذریعے چین اور ھند کا باقی دنیا سے تجارتی رابطے کا ایک اھم ذریعہ یہی بامیان تھا۔ چنانچہ تجارتی ایشیاء سے لدی، بڑے بڑے کاروان شب و روز یہاں سے آتے جاتے رھتے تھے۔ تاھم دوسری صدی عیسوی کے دوران سلسلہ کوشان کے سب سے مقتدرحکمران کنیشکا نے بدھ مت اختیار کی اور گوتم بدھ کے عظیم مجسموں اور دیگر بدھ خانقاھوں کی تعمیر شروع ھویں جسکے بعد بامیان کی رونقیں مزید بڑھ گئیں۔

ماھرین آثار قدیمہ کے مطابق پہلا مجسمہ 35 میٹر اونچا جیسے مقامی ھزارہ شاہ مامہ کے نام سے یاد کرتے ھیں کی تعمیر کا آغاز دوسری صدی عیسوی یعنی کنیشکا کے دور میں ھوئی ھے اور تکمیل تیسری صدی کے دوران جبکہ سب سے بڑا 53 میٹر اونچا مجسمہ صلصال کی تعمیر چوتھی اورپانچویں کے دوران ھوئی ھیں۔ ماھرین کا خیال ھے کہ شاہ مامہ مجسمہ کے باھمی اعضاء میں تناسب صحیح نہیں تھا یعنی تن کے مقابلے میں نچلا دھڑچھوٹا تھا (تصویر ملاحظہ ھو)۔ غالباً اسی نقض کے پیش نظر منتظمین نے دوسرا مجسمہ یعنی صلصال بنانے کا فیصلہ کیا ھوگا جوھر لحاظ سے فنِ سنگتراشی کا اعلیٰ نمونہ تھا۔ ان دو بڑے مجسموں کے علاوہ انکے درمیان میں دو چھوٹے مجسمے ھر ایک دس میٹر اونچا بھی تراشے گئے تھے جنکے اب صرف دھندلے آثار نظر آرھے ھیں ۔ یہاں یہ وضاحت ضروری ھے کہ شاہ مامہ بھی مہاتما بدھ کا ھی مسجمہ تھا۔ ان میں کوئی بھی عورت کا مجسمہ نھیں جیسا کہ عام لوگ خیال کرتے ھیں۔

بودھا کے چہرے

Publication1اب ایک اورنادرست تصورکا ازالہ کرنا بھی ضروری ھے۔ عام طورپر خیال کیا جاتا ھے کہ مسلمان فاتحین یا بعض ھزارہ لکھاریوں کے خیال میں پشتون حکمرانوں نے ان مجسموں کے چہرے تراشے ھونگے جو کہ صحیح نہیں۔ مجھے کئی آرکیاجوجیکل مشنز کے رپورٹز دیکھنے کا موقع ملا ھے انکے مطابق ان مجسموں کے چہرے تعمیر کے دوران ھی نیچلے ھونٹ تک ھموار رکھے گئے تھے اور اوپر کے حصے کولکڑی کے فریم کی مد دسے مکمل کی گئی تھی۔ اس چوبی فریم کے ٹکڑے مختلیف کھودایوں کے دوران ماھرین کو ملے ھیں (1)۔ قارئین کی معلومات کیلیے ان میں سے ایک رپورٹ کا مطلوبہ صفحہ مضمون ہذا کے آخر میں منسلک کیا جاتا ھے جویونیسکواور اٹلی کی ایک یونیورسٹی کے اشتراک سے چھپی ھے۔ نیزانکی تشفی کی غرض سے دونوں مجسموں کی ایک مشترکہ تصویربھی دی گئی ھے جس سے اس نظریہ کی حقانیت ثابت ھوتی ھے کیونکہ زبردستی کی توڑ پھوڑ کے دوران دونوں مجسموں کےچہرے کےاس طرح کی یکساں ھموار سطح غیرممکن ھے۔

فرنچ آرکیالوجیکل مِشن (1922-1924)، ان عظیم الجثہ مجسموں کے بارے میں لکھتے ھیں کہ ” یہ حقیقت پیش نظر رھنی چاھیے کہ یہ چند مہینوں، سالوں یا ایک صدی کے دوران نہیں بلکہ صدیوں تک ھزاروں ماھر سنگ تراشوں نے شب و روز پہاڑکوکاٹ کر بناے ھیں جوفن سنگتراشی کے اعلیٰ نمونے ھیں "اب تھے” (2)۔ ان مجسموں کے آس پاس بدھ بھگشووں کیلیےسینکڑوں غاریں بھی کھودی گئی ھیں جن میں سے کئی ایک نہایت کشادہ اوربدھ تعلیمات کی خوبصورت تصویروں سے آراستہ تھیں جنکی باقیات بعض غاروں میں اب بھی موجودھیں، خاص طورپر دونوں بڑے مجسموں سے متصیل تراشیدہ گنبدنما کشادہ کمروں کی دیواروں اور چھتوں پر رنگین نقش نگاری دیکھنے سے تعلق رکھتی ھیں جو صدیاں گذزرنے اورتمام تر تباہی وبربادی کا سامنا کرنے کے باوجود اب تک آنکھوں کو خیرہ کرتی ھیں۔ان میں یقیناً بڑے بھگشو رھتے ھونگے۔ اسی طرح کی نقش نگار بڑے مجسموں کی چھتوں اور دیواروں پربھی موجود ھیں۔ مشہور چینی زایر ھیوتُسا نگ، جو 630ء میں بامیان آیا تھا نے ایک خوابیدہ بدھ مجسمہِ کا بھی ذکرکیا ھے جسکی لمبائی 1000 میٹرھے اسکے آثار کی نشناندہی افغان نژاد فرانسیسی ماھرآثار قدیمہ ڈاکٹرطرزی نے کئی سال کی کھودائی کے بعد 2008ء میں کی ھے لیکن فنڈز اور دیگرسہولیات کی عدم دستیابی کے باعث اب یہ پروجیکٹ تعطل کا شکارھے۔

اپنے عروج کے زمانے میں چونکہ بامیان کا شمار بدھ مذھب کے ایک اھم متبرک مراکز میں ھوتے تھے اس لیے دور درازکے علاقوں سے نہ صرف ھزاروں زایرین یہاں آتےرھتے تھے ساتھ ھی اھم ترین شاھراہ ریشم کے سنگم پر واقع ھونے کی بنا پر بڑے بڑے تجارتی قافلے بھی گذرتے رھتے تھے لہذا انکی رھایش کیلیے نزدیکی درہ فولادی و ککرک میں ھزاروں غاریں کھودی گئی ھیں۔فرنچ آرکیالوجیکل مِشن، انکی تعداد بارہ ھزار بتاتے ھیں(3)۔ اس دور میں بامیان کی شان وشوکت کا اندازہ اس امر سے بخوبی کیا جاسکتا ھے کہ جب چینی زایر ھیوتُسا نگ یہاں آیا تھا تواُس وقت سفید ھونز کے طوفانی بلا سے پورا خطہ ابھی تک سنبھل نہیں پاے تھے، ساتھ ھی ھندومذھب کی تحریکِ نشاۃ ثانی کی وجہ سے بدھ مت پرنقاھت کے آثار نمایاں تھے جسکا ذکرموصوف افسوس سے کرتا ھے لیکن زوال کے اس دور میں بھی وہ بامیان کا یوں ذکر کرتا ھے”مہاتما بدھ کے مجسموں کے ظاھری حصے یعنی چہرے ، ہاتھ، پاؤں سب طلا پوش ھیں اور ان سے متصیل دیواروں پرزرین باف ریشمی پردے آویزاں ھیں۔ دن کے وقت ان پرنظریں جمانا مشکل ھے” جبکہ وہ شبِ بامیان کی منظرکشی اس طرح کرتا ھے”مہاتما بدھ کے مجسموں اور انکے اردگرد کے غاروں میں فروزاں ھزاروں چراغ ومشعل اور وقفوں سے عظیم ناقوس کی پُرھیبت آوازیں انسان پرایک عجیب کیفیت طاری کرتی ھے”(4)۔ چینی زایر کے مطابق اس وقت وادی میں سو بدھ خانقاھیں تھیں جن میں چھ ھزار بدھ بھگشو رہتے تھے

(5)۔بہرحال خراسان کے بعض حصے خلفیہ ثانی کے دورمیں فتح ھوئے لیکن بامیان کی خودمختاری نویں صدی کی چھٹی دھائی تک برقرار رھی۔ 870ء میں یعقوب بن لیث غفاری نے یہاں سے بدھ مت کا خاتمہ کردیا اور ساتھ ھی ان مجسموں کے ساتھ دیگربدھ مت آثار کو بھی جس حد تک ممکن تھا نقصان پہنچایا (6)۔ تیرھویں صدی کے دوران(1221ء) مغل فاتح چنگیزخان بامیان آیا اور چونکہ اسکا چہتا نواسہ موتوکُن بن چغتائی یہاں میں مارا گیا تھا اس لیے خان اعظم کے حکم سے بامیان شہرکواس طرح انتقام کا نشانہ بنایا گیا کہ صدیاں گذرنے کے بعد اب تک آباد نہیں ھوسکا ھے اور آج بھی "شہرغُلغُلہ” یعنی "فریاد کناں شہر”کے نام سے ملبے کا ڈھیر ھے۔ لیکن چونکہ چنگیز خان مذہبی لحاظ سے سیکولر تھا اس لیے بدھ مت آثارکوگزند نہیں پہنچائی۔

جدید تاریخ میں ایرانی حکمران نادرشاہ افشار(1736-1747ء) اور امیرکابل دوست محمدخان (1836-1863ء) نے بامیان مجسموں کو سب سے زیادہ نقصانات پہنچایں،معروف مورخ غلام محمد غبار کے مطابق انہوں نےاس مقصد کیلیے باقاعدہ توپیں استعمال کیں (7)۔ اگرچہ امیرعبدالرحمان کا دور (1880-1901ء) ھزارہ تاریخ کا ایک سیاہ ترین باب ھے جسکے دوران انکی 62٪ آبادی ختم کردی گئی اور تمام زرخیززمینیں، افغان قبایل میں تقسیم کردی گئیں، لیکن بامیان آثار کو نقصان پہنچانے کی بابت کوئی معتبردستاویزمیری نظرسے نہیں گذری ھے۔ تاریخ کی ستم ظریفی دیکھئے کہ ایک طویل عرصہ، بے توجہی کے شکار ان مجسموں اوردیگرآثار کی طرف پہلی توجہ، اسی ظالم عبدالرحمان کے نواسہِ امیرامان اللہ خان کے دور (1919-1929ء) میں دی گئی۔ سب سے پہلے ان آثار کو قومی ورثہ قرار دیکر بڑے مجسموں اور دیگرغاروں سے عام لوگوں کو بے دخل کردیے گیے۔ یاد رھے کہ ان میں سے کچھ غاریں بطوررہایش جبکہ کچھ غلہ گودام کے طور پر زیراستعمال تھیں۔ 1922 اور 1924 کے دوران فرنچ آرکیالوجیکل مشن نے افغانستانی ماھرین کے ساتھ ملکرسروے اور ابتدائی بحالی کے کام کروائے اورباقاعدہ رپورٹ مرتب کی۔ ظاہرشاہ کے 40 سالہ طویل دورمیں ان آثار کی بحالی کی طرف خاص توجہ نہیں دی گئی البتہ ایک سیاحتی مقام کی حد تک بامیان کوپرموٹ کیا گیا۔ داود خان کے دور میں البتہ بحالی کی طرف بھی توجہ دی گئی لیکن ان دونوں میں یہ بات مشترک ھے کہ انہوں نے ھزارہ دشمنی میں اسے عالمی ثقافتی ورثہ میں شامل کرنے کی طرف قطعاً توجہ نہ دی، جسکے یہ عظیم الشان آثار حقدار تھے۔ روس نواز حکومتوں کے دور میں افغانستان سول نافرمانی کی زد میں آئی اور یہ آثار ایک بار پھرعدم توجہی کا شکار رھے۔

اگست 1988 میں کابل مخالف ھزارہ مجاھدین نے بامیان پر قبضہ کرلیا اور اگلے سال جولائی 1989 میں بابہ عدالعلی مزاری کی قیادت میں حزب وحدت کی تشکیل ھوئی جو ھزارہ تاریخ میں ایک سنگِ میل کی حیثیت رکھتی ھے۔ ابتدائی چند سالوں میں انکی تمام تر توجوھات سیاسی اور عسکری امور پر رھی انکے پاس دیگر امورکی طرف توجہ دینے کا وقت کم ھی تھا،لیکن بابہ مزاری کی شہادت کے بعد جناب کریم خلیلی نے جب بامیان کو اپنا مرکز بنایا تو موصوف نے ان آثار کی اھمیت کا اندازہ کرتے ھوے 1995 میں ان سے متصیل قدیم بازار کو چند کلومیٹر دور مشرق کی طرف منتقیل کردیا جو بلاشبہ امان اللہ خان کے اقدامات کے بعد سب سےاھم قدم گردانا جاتا ھے۔ ستمبر 1996تک، پاکستانی خفیہ ایجنسی آئی ایس آئی کی حمایت یافتہ شدت پسند وھابی ٹولہ، تحریک طالبان نے کابل سمیت افغانستان کے اسی فیصد حصے پرقبضہ کرتے ھوے ایک نئی صورتحال پیدا کردی۔ ابتدا میں اس تحریک کےامیرالمومنین، ملا عمرآخوند نے جولائی 1999 میں بامیان کے بودھا مجسموں کی حفاظت کو امارات اسلامی کی ذمہ داری قراردیا کیونکہ بقول انکے اب یہاں کوئی انکی عبادت نہیں کرتا نیزیہ کہ ان سے ملک کو کافی زرمبادلہ کی آمدنی بھی ھوتی ھے (8)۔ لیکن 26 فروری 2001 کو موصوف نے "بتوں” کو اسلامی تعلیمات کے منافی قرار دیتے ھوے انکو تباہ کرنے کا فتویٰ جاری کردیا، جس نے دنیا بھر میں انسانی تہذیب وثقافت سے محبت کرنے والوں میں تشویش کی ایک لہردوڑا دی۔ اقوام متحدہ نے 54 اسلامی ممالک کی تنظیم، اسلام کانفرنس کے توسط اور مہذب دنیا کے دیگر ممالک نے براہ راست ملا عمرسے ایسا نہ کرنے کی اپیل کی لیکن یہ سب "کوہ جنبد نہ جنبد، ملاعمر نہ جنبد” ثابت ھوئی۔ یوں 10 اور 12مارچ 2001 کے دوران، وھابی مکتبہ فکرکے انتھاپسندوں نے انسانی تہذیب کے ان شاندارنشانیوں کو ھزاروں من بارود کے ذریعے تباہ کردیا۔ افغانستان کےعوام اب ھر سال 11 مارچ کو اس دلخراش واقعہ کی یاد مناتے ھیں وہ اپنی حکومت،مقتدر ممالک وتنظیموں اور اقوام متحدہ سے اسکی دوبارہ تعمیر اور ساتھ ھی ساتھ، تہزیب کُش عناصرکو کیفرکِردار تک پہنچانے کا مطالبہ بھی کرتے رہتے ھیں جو کہ بدقسمتی سے اب تک صدا بہ صحرا ثابت ھوئی ھیں ۔

سانحہ 11/9 کے بعد امریکہ نے 7 اکتوبر سے القاعدہ-طالبان اتحاد کے خلاف کاروایاں شروع کردی۔ غیبی امداد کی پشت پناہی کے یہ دعویدار ریت کی دیوار ثابت ھوئی اور دسمبرکے پہلے ھفتہ تک امیرالمومنین ساتھیوں سمیت قندھارمرکز چھوڑکر پاکستان کی راہ لی۔ 22 دسمبر کو حامدکرزئی بون معاہدہ کے مطابق کابل میں نئے عبوری صدرکی حیثیت سے حلف اٹھائی۔ موصوف نےاپنےعبوری اور بعد ازآں پہلے باقاعدہ ادوار حکومت میں بامیان مجسموں کی دوبارہ تعمیرکے وعدے کرتے رہے لیکن عملی طور کچھ نہیں کیا اور اسکی وجہ ان آثارکا ھزارہ تعلق ھوناھی ھے۔ یونیسکو کی طرف سے بھی خاص سرگرمی دیکھنے کونہیں ملی تاھم 2003ء میں بامیان کے باقیماندہ آثار کو عالمی ثقافتی ورثہ کی حیثیت دی۔ البتہ چین، جاپان، اٹلی، فرانس اور جرمن ماھرین کی طرف سے کافی مثبت سرگرمیاں نظر آئیں۔ بطورخاص جرمن ماھرین آثار قدیمہ نے ایک مکمل قابل عمل منصوبہ بنایا ھے جس کے تحت دونوں مجسموں کی باقیات سے کم ازکم ایک مجسمہ کی دوبار تعمیرممکن ھے (9)۔ اب صورتحال یہ ھے کہ:

1۔ کم ازکم ایک بامیان مجسمہ کی دوبارہ تعمیر میں کوئی قانونی، اخلاقی اور فنی رکاوٹ نہیں
2۔ فنڈز کی دستیابی کا مسلہ بھی نہیں
3۔ ھزارہ قوم کی بھی دلی تمنا یہی ھے وہ اس ضمن میں ھر قسم کے تعاون کیلیے بھی آمادہ ھیں
تو اب رکاوٹ کہاں ھے؟

اصل رکاوٹ افغان گورنمنٹ میں وہ طاقتورلابی ھے جوھزارہ نشین علاقے میں کسی بڑے پروجیکٹ کو برداشت کرنے پر اب تک آمادہ نہیں چاھے وہ ترقیاتی ھو، تعلیمی ھو،ثقافتی ھو یا کوئی اور شعبہ ، اسکا ثبوت گذشتہ 14 سال کی تاریخ ھے جسکے دوران اربوں ڈالر بیرونی امداد میں سے ایک بھی قابل ذکرپروجیکٹ ھزارہ جات یا دیگرھزارہ نشین علاقوں کیلیے مختص نہیں ھونے دیا ھے۔ یہاں تک کہ مرنجان مرنج ںایب صدر دوم، کریم خلیلی کو کہنا پڑا کہ "خود دارلحکومت کابل کے جو علاقے بنیادی سہولیات سے محروم ھیں سمجھ لینا وہ ھزارہ نشین ھیں” (10)۔ جسکی تاید اب بھی اھل قلم حضرات کرتے ھیں (11)۔ البتہ ھزارہ سیاسی اکابرین کی غفلتوں کو بھی اس ضمن میں نظرانداز نہیں کیا جاسکتا۔ انکی طرف سے بھی کبھی سنجیدہ اور مربوط کوششیں نہیں ھوئیں۔

تاریخی اور آرکیالوجیکل نقطہ نظرسے دیکھا جاے توپوری بامیان وادی اھمیت کا حامل ھے۔ ھیوتُسانگ کے مطابق یہاں ایک ھزار میٹرلمباعظیم الجسہ خوابیدہ بدھا کے علاوہ، سوخانقاھیں بھی تھیں۔ لازمی امر ھے کہ ان خانقاھوں میں بدھا کے مجسموں کے ساتھ ساتھ کتابیں ودیگر بے شمار دستاویزات بھی ھوتی ھونگیں جن میں سے ایک بڑی مقدار دست بردِ زمانہ سے محفوظ رھی ھوگی۔ لہذا اب ضرورت اس امر کی ھے کہ ھزارہ اھل دانش اس نکتہ کو مد نظر رکھتے ھوے بین القوامی تنظیموں کے ساتھ پوری وادی کو ثقافتی ورثہ ڈیکلیرکرنے کے مِشن پرکام کریں۔

REFERENCES:

1 The Kingdom of Bamyan, p-205, Naples Rome 1989.

  1. French Archaelogical Report (Persian) p-19-20, Iran 1993.
  2. Ibid, p-16.
  3. Ibid, p-26-27.
  4. Bamyan Buddhas, p-9,D.H.Ahir, New Dehli 2001.
  5. Ibid.
  6. Afghanistan dar Masir-e-Tarikh, p-212, Mir Ghubar, , Iran 1980.
  7. http://www.theguardian.com/books/2001/mar/03/books.guardianreview2
  8. http://www.bbc.com/news/magazine-18991066
  9. Monthly Ahd-e-Jadid (New Era) Vol:No.I,p-35, May 2002 – Kabul.
  10. http://www.hazarapeople.com/fa/?p=6779

Leave A Reply