ھزارہ جات سے باہر ھزارہ

0

تحقیق و تحریر : اسحاق محمدی
1۔ ایران
یہ حقیقت تو سب کو معلوم ھے کہ کہ ھزارہ ترک-مغل نسلی گروہ سے تعلق رکھتے ھیں جن میں ماقبل چنگیز خان اور مابعد چنگیز خان دونوں شامل ھیں ۔ چنانچہ اس لحاظ سے کہ موجودہ افغنستان قدیم دور سے انکا مسکن رھا ھے انکا ایرانیوں سے تعلقات بھی اسقدر قدیم ھیں جنکا ذکر فردوسی نے اپنی دیومالائی کتاب شاہنامہ میں توران زمین یعنی ترک سرزمین سے کیاھے۔ لیکن ترھویں صدی میں جب ھلاکوخان نے ایران فتح کرکے "ایلخان” (چھوٹا خان) کے نام سے ایک باقاعدہ سلطنت کی بنیاد رکھی تو اس باھمی تعلقات کی نوعیت ھی تبدیل ھوگئی۔ اسی ایلخانی سلسلہ کے آٹھویں حکمران اولجایتو خان نے سنی اسلام قبول کرکے سلطان احمد خدا بندہ کا لقب اختیار کیا لیکن 1310 ء میں شیعہ اسلام کے پیروکار بن گئے اور انھی کی کوششوں سے حکمران مغلوں کے علاوہ ایرانیوں کی ایک بڑی تعداد نے بھی اسکی پیروی میں شیعیت قبول کی۔ اب تاریخ کی ستم ظریفی ملاحظہ ھو اسی شیعیت پراترانے والے ایران نے کبھی بھی اس حقیقت کا اعتراف نہیں کیا بلکہ ھمیشہ مغلوں کی منفی تاثرکو اجاگرکرنے میں پیش پیش رھے اور اسی منفی تاثرکے لپیٹ میں مغل نسب ھونے کے باعث ھزارہ قوم اب تک اسکو جھیل رھی ھیں۔ چنانچہ کھبی انھیں بربری کے نام سے یاد کیا جاتاھے اور کبھی "خاوری) (مشرق کے لوگ) کے بےمعنی نام سے ۔ اگرچہ 1335 میں مرکز سے ایلخانی حکومت کا خاتمہ ھوا تاھم گرد و نواح میں انکی چھوٹی چھوٹی ریاستیں برقرار رھی جن میں ھزارہ اوغان و ھزارہ جرمان کی حکومت بھی شامل ھے جنکی علمداری کرمان اور شیراز کے علاقے تھے (اورزگانی-ص61)۔ در اصل ھزارہ شناس مورخین چودھویں صدی کے اسی دور کو ھزارہ کے نام سے ایک نئی قوم کی ظہورپذیری کی خبر دیتے ھیں۔ تیمورخانوف اس ضمن میں لکتھے ھیں کہ "ھزارہ قوم کی تشکیل چودھویں صدی کے وسط میں ھوئی اور وہ اپنی مکمل قومی صفات کے ساتھ ھزارہ جات میں سکونت پذیر ھوئی” (تیمورخانوف ص 20)۔

جدید تاریخ میں نادر شاہ افشار وہ پہلا ایرانی حکمران تھا جس نے 1145ھ میں دو ھزاردایزنگی ھزارہ فیملیز کو ھرات اور قوچان بسایا "اورزگانی-ص53″۔ ڈاکٹرابراھیمی کے مطابق ایک اور بڑی آبادکاری شاہ ناصرالدین قاجارکے دور(1831-1896) میں ھوئی جب اس نے 2000تا 5000 ھزارہ فیملیز کو ھرات اور باد غیس سے لیجاکر جام اور باخرز میں بسایا "شیفٹ اینڈ ڈریفٹ ص5″۔ یاد رھے کہ جب ھرات ایران کا حصہ ھوا کرتا تھا تو آبادی اور عسکری لحاظ سے ھزارہم قوم کو بالادستی حاصل تھی اس ضمن میں کاوہ بیات لکھتے ھیں کہ "1880 کے قتل عام سے پہلے ھرات جو کہ اس وقت ایران کا حصہ تھا میں ھزارہ قطعی اکثریت میں تھی اور ھزارہ فوجی کمانڈرزکی حمایت کے بغیرکوئی ھرات پر حکمرانی کا تصور بھی نہیں کرسکتا بلاشبہ ھزارہ کسی کے حق میں بھی توازن تبدیل کرسکتے تھے”(کاوہ بیات-ص18)۔

مذکورہ دو واقعات کے علاوہ ایران کی طرف بڑی تعداد میں ھزارہ مہاجرت امیرکابل عبدالرحمان کے ھاتھوں 1893 ء میں حتمی شکست کے بعد شروع ھوئی جیسا کہ برٹش انڈیا اور سینٹرل ایشیا کی طرف ھوئی تھی۔ چونکہ انکی آبادی پہلے سے ھی مشہد کے آس پاس تھی لہذا نئے مہاجرین نے بھی وہاں کو ترجیح دی۔ یہ رحجان 60 اور 70 کی دھائی کے ھزارہ مھاجرین کے ھاں بھی نظر آتی ھے۔ اس ضمن میں ڈاکٹر اوتاد لکھتے ھیں کہ "امام رضاؑ سے انسیت کی خاطر ھزارہ انکے قریب رھنے کو ترجیح دیتے ھیں "اوتاد- ص 144)۔ موصوف کے مطابق ان ھزاروں کی اکثریت مشہد، تربت جام، درہ گاز، بجنورد، اسفارین،نیشاپور، فرامین اور اس سے ملحقہ 750 دیہاتوں میں آباد ھیں جہاں انکی آبادی 10٪ سے لیکر 100٪ تک ھیں” اوتاد-ص 144)۔ وہ مزید لکھتے ھیں کہ 1956 تک کل 200000 ھزارہ فیملیز ان علاقوں میں آباد تھی جنکی تعداد اگلی دھایوں میں بڑھکر 70000 فیملیزیا تین لاکھ نفوس تک جا پہنچی ( اوتاد ص- 143-44)۔ انھی اعداد و شمار کو مدنظر رکھکر جناب موسوی 1997 میں ایرانی ھزارہ کی آبادی کا اندازہ نصف ملین کے قریب بتاتے ھیں (موسوی-ص 151)۔

قارئین کرام! مذکورہ بالا اعداد وشمارصرف ایران کی ھزارہ شیعہ آبادی کی ھے جنہیں بربری یا خاوری کے نام سے یا کیا جاتاھے۔اس بارے میں جناب اوحدی لکھتے ھیں کہ "ایرانی ھزارہ اس نام (بربری) کو توھین آمیزگردانتے ھوئے اسے پسند نہیں کرتے تھے۔ اس ضمن میں ایک نوجوان ھزارہ آرمی آفیسر محمد یوسف عبقری نے رضا شاہ (کبیر) سے درخواست کی کہ انھیں انکے اصلی نام "ھزارہ” سے پکارا جاے۔ لیکن موصوف نے اسکی بجاے لفظ "خاوری” کو تجویزکیا اور 1936 سے اسے شاہی دربار کے توسط وزیراعظم اور فوج کوابلاغ کردی۔ فی زمانہ سرکاری دستاویزات میں انھیں "خاوری” کے نام سے لکھے جاتے ھیں جبکہ عام لوگوں میں ابھی تک لفظ بربری باقی ھے (اوحدی-ص56)۔ مقام حیرت ھے کہ ایران میں شیعہ ھزارہ کو بربری جبکہ سنی ھزارہ کو "ھزارہ” کے ھی نام سے یاد کیا جاتا ھے۔ جناب اوحدی اس کو "ھزاروں” کے درمیان ایک دانستہ تفرقہ ڈالنے کی کوشش سے تعبیر کرتے ھیں وہ ایک ایرانی رائیٹرکا یہ بےشرمانہ حوالہ دیتے ھیں”ھزارہ اُن بربری لوگوں سے مختلیف ھے۔بربری شیعہ مسلک جبکہ ھزارہ سنی مسلک سے تعلق رکھتے ھیں” (اوحدی-ص57 بحوالہ اھلھاوطایفہ عشایری خراسان-ص172)۔

جناب تقی خاوری 1357ھ ش (1978) کے ایرانی سرکاری دستاویزات کی رو سے ایرانی سنی و شیعہ آبادی کو تین ملین بتاتے ھیں (خاوری-ص172)، لیکن حقیقت یہ ھے کہ اس ضمن میں ایرانی قوانین اتنی سخت ھے کہ حقایق تک پہنچنا نا ممکن ھے۔
جہاں تک ھزارہ مھاجرین کا تعلق ھے۔ اس بارے میں ڈاکٹرمونسوٹی لکھتے ھیں کہ” یواین ایچ سی آر ذرایع کے مطابق ایران میں مقیم افغان مھاجرین میں سے نصف تا تین چوتھائی تعداد "ھزاروں” کی ھیں” (مونسوٹی-ص128)، اندریں بابت جناب موسوی 1992 کے ایک سروے کا ذکرکرتے ھوے لکھتے ھیں کہ "اس وقت ایران میں مقیم افغان مھاجرین کی کل تعداد کا اندازہ 28 تا 3 ملین لگایا گیا تھا جن میں اکثریت ھزارہ مھاجرین کی تھی (موسوی-ص152)۔ اسطرح ھم آسانی سے اندازہ لگا سکتے ھیں کہ ایران میں ھزارہ مھاجرین کی تعداد کم ازکم پندرہ لاکھ ھیں۔ یہاں یہ ذکرکرنا ضروری ھے کہ اب یہ نئے ھزارہ مھاجرین، کسی خاص مذہبی شخصیت سے اظہار عقیدت کی بجاے روزگارکے مواقع کو ترجیح دیتے ھیں اس لحاض سے ایران کے طول وعرض میں پھیلے ھوے ھیں.

یہ ایک تلخ حقیقت ھے کہ اگرچہ اس وقت من حیث القوم ھزاوں کو پاکستان میں وقتی طورپر نسل کشی کا سامنا ھے جبکہ افغانستان میں بھی اسے طالبان، داعش وغیرہ سے شدید خطرات لاحق ھیں مگرانھیں سب سے زیادہ نسلی، ثقافتی، سماجی اور سیاسی نابودی کا سامنا ایران میں ھیں۔ اس سے بڑھکر اور کیا ظلم ھوسکتا ھے کہ وہ اپنی قومی نام کے استعمال کے حق سے محروم ھیں جبکہ ھزارہ گی زبان سے وہ یکسرہ نابلد ھوچکے ھیں۔

2-برصغیر
جیسا کہ پہلے بتایا گیا کہ چودھویں صدی کے وسط میں مختلیف ترک اور مغل قبایل کے ملاپ سے ایک نئی قوم ھزارہ تشکیل پائی جو کہ قبل ازایں جداگانہ شناخت رکتھے تھے بلکہ ان میں سے چند نے برصغیرکے وسیع علاقوں پر طویل حکمرانی بھی کی تھی۔ اس ضمن میں درج ذیل قبایل زیادہ قبل ذکر ھیں۔

الف- خلج
یہ ایک ترک قبیلہ ھے جوبقول جناب اوحدی” چوتھی صدی سے موجودہ افغانستان اور سیستان میں بود وباش رکتھے ھیں” (اوحدی-ص 247)۔ جبکہ شادروان اورزگانی اس ضمن میں لکھتے ھیں کہ "قندھارکے شمال مشرق میں چورہ وکمسون انکی (خلج) سرزمین تھی جوپانچ وادیوں دو سودیہات اورقلعہ جات پر مشتمل تھی جنکی آبادی پندرہ ھزار خانوار اور آس پاس کو ملا کر ساٹھ خانوارتھی مگر اب ان سب پر افغان قابض ھیں” (اورزگانی-ص61)۔ ان خلج ترکوں نے برصغیر میں بنگال پر1227-1204 اور دہلی پر 1320-1290 کے ادوار میں حکومت کی۔ فی زمانہ یہ قبیلہ دایکنڈی کے قریب اپنے اسی تاریخی نام کی وادی”خلج” میں آباد ھیں جبکہ اپنی سرزمین سے بیدخل لوگ ضلع جاغوری اور نہر شاہی بلخ میں بود و باش رکھتے ھیں (اوحدی-ص245)۔

ب-ارغون
ارغون ایک مغلی لفظ ھے جسکے معنیٰ صاف،پاکیزہ اور مقدس ھیں اس نام کے کئی فوجی سالار ھمیں مغل تاریخ میں ملتے ھیں تاھم مشہور مغل فاتح حکمران امیر ذوالںون ارغون کا تعلق ایلخانی بادشاہ ارغون کی نسل سے تھا جس نے ایران پر تیس سال تک حکمرانی کی تھی۔ اسکا انتقال 1274 ء کو طوس میں ھوا تھا۔ امیر ذوالںون کی فتوحات سے خوش ھوکر ھرات کے تیموری حکمران حسین بایقرا نے 1475 میں اسے موجودہ افغانستان کی حاکمیت دی تھی۔ اسنے زمین داور(ھزارہ جات) کو اپنا اصلی دارلحکومت اور قندھارکو سرمائی دارلحکومت بنانے کے بعد تیزی سے اپنی فوجی طاقت میں اضافہ کردیا لیکن 1507 میں مشہور ازبک فاتح شیبانی خان کے ھاتھوں مارا گیا۔

امیر ذوالںون ارغون کے بعد اسکا بیٹا شاہ بیگ ارغون اسکا جانشین بنا، تاھم اس دوران ایک طرف سے بابربادشاہ، فرغانہ میں شیبانی خان سے شکست کھانے کے بعدکابل آکرارغونوں سے جنگ کا سلسلہ شروع کردیا تھا۔ جبکہ دوسری طرف شیبانی خان مرکزی ایشیا میں اور صفوی، ایران میں طاقت حاصل کرنے کے بعد ایک دوسرے کے خلاف صف آرائی میں مصروف تھے ان حالات کو دیکھتے ھوے شاہ بیگ ارغون نے قندھار سے ایک بڑی فوج لیکر پہلے شال (موجودہ کویٹہ) مستونگ اور سیوی (سبی) کو فتح کرتے ھوے1520 میں سندھ کے جام فیروز کو شکست دیکرپورے سندھ پر قبضہ کرلیا اور ایک نئی بڑی سلطنت کی بنیاد رکھی جو ھزارہ جات تا سندھ پھیلی ھوئی تھی۔ 1528ء میں ملتان بھی ارغونوں کے قبضے میں آگیا لیکن اس دوران یکے بعد دیگرے ھزارہ جات سمیت کابل،غزنی ، اورقندھار پر بابربادشاہ قابض ھوتے گئے۔

شاہ بیگ کے بعد اسکا بیٹا شاہ حسین حکمران بنا لیکن اسکی بے اولادی کی وجہ سے حکمرانی کا سلسلہ اسکے چچا عیسیٰ خان ترخان کو منتقیل ھوا۔ دھلی کے مغل حکمران اکبر بادشاہ نے 1573ء کو بالائی سندھ اور1591 کو زیریں سندھ پر قبضہ کرکے ھزارہ ارغون کی حاکمیت ختم کردی، اور اب یادگار میں صرف دیدہ زیب فن تعمیر کا شاہکار مکھلی قبرستان ھے جو یونیسکوکے عالمی ورثہ میں شامل ھے۔ یہاں یہ بتانا شاید بیجا نہ ھوگا کہ شیرشاہ سوری سے شکست کھانے کے بعد ھمایوں بادشاہ مدد کیلیے سندھ کے ارغونوں کے پاس ھی آے تھے تاھم ھزارہ جات سمیت اپنی سلطنت کے شمالی حصے پرھمایوں بادشاہ کے دادا بابر بادشاہ کے ناجایز قبضے کی وجہ سے انہوں نے مدد سے انکار کردیا جسکا بدلہ موقع ملتے ھی اکبربادشاہ نے چکا دیا۔ یاد رھے کہ اکبربادشاہ کی پیدایش عمرکوٹ سندھ میں اسی جلاوطنی کے دوران ھوئی تھی۔

رھی ارغونوں کی ھزارہ ھونے کی بات تواسکی تاید سبھی ھزارہ شناس مورخین کرتے ھیں۔ اورزگانی کے مطابق انکا علاقہ قندھار کے شمال مشرق میں”چہار شینیہ” تھا جوخلج سے متصیل تھا جو اب افغان قبایل کے قبضے میں ھے (اورزگانی-ص61)۔ کیپٹن میٹلینڈ اس ضمن میں لکھتے ھیں کہ "ارغونوں کا تعلق اسی سلسلہ سے ھے جنہوں نے جنوب مغربی ھزارہ جات سے سندھ تک پیشقدمی کی اور ٹھٹھہ سندھ میں ایک آزاد سلطنت قایم کی”(میٹلینڈ-ج4ص233)۔ جناب اوحدی رقمطراز ھیں کہ "ارغون قبیلہ علاقہ چہارشینیہ میں امیرعبدالرحمن کے دور تک بودوباش رکھتے تھے لیکن انکے ھاتھوں قتل عام کے بعد دیگرھزارہ آبادی کی طرف تیتربترھوگئے۔ فیض محمدکاتب کے مطابق امیرحبیب اللہ کے دور میں پاکستان سے مھاجرنمایندے ھزارہ زمین ہتھانے آے تھے،حکومتی حمایت اوردباوکے نتیجے میں آخرکار باقیماندہ سات سوارغون ھزارہ خانوار بھی اپنی زمینیں ترک کرنے پرمجبور ھوییں” (اوحدی-ص314)۔

پ- نیکودر
نیکودربن موچی یابہ بن چغتائی کو خاقان منگوبن تولی خان نے 1251ء کے قرولتائی کے فیصلوں کے مطابق ھلاکوخان کو ایران فتح کرنے میں مدد فراھم کرنے کیلیے بھیجا تھا لیکن آگے چلکر اس نے ایلخانی ثانی اباقا خان سے بغاوت کرکے ھرات،ھیلمند، قندھار تا خاران اپنی ایک علیحدہ حکومت قایم کردی لیکن چونکہ انہوں نے لوٹ مار کو اپنا پیشہ بنایا تھا اس لیے امیرتیمورنے ایک طویل جنگ کے بعد انکو شکست دیدی اور یہ لوگ ھزارہ جات بھاگ گئے اور وقت گذرنے کے ساتھ ساتھ دیگر ھزارہ قبایل میں گھل مل گئے۔ خاران میں انکی کئی منزلہ مقبرے اب تک موجود ھیں جنھیں حکومت پاکستان نے قومی ورثہ قراردیا ھے۔ اب انکے ھزارہ ھونے کے بارے میں تیمور خانوف لکھتے ھیں "پندرھویں صدی کے اواخرسے سترھویں صدی کے اوایل تک تاریخ میں جھاں کہیں نیکودری قبایل کا ذکر ھوا ھے ھزارہ قوم کا بھی تذکرہ کیا گیا ھے۔ اور انکے بارے میں یہی کہا گیا ھے کہ وہ وھاں کے مستقیل اور خودمختارلوگ تھے لیکن سترھویں صدی کے اواخر کے بعد کی تاریخ میں نیکودریوں کا ایک علیحدہ اور جداگانہ قوم کی حیثیت سے کہیں بھی تذکرہ نہیں ملتا اگر انکا کہیں ذکر ھوا ھے تو کسی ھزارہ قبیلے کی حیثیت سے ھوا ھے”(تیمور خانوف-ص25)۔

ت –قارلوق (قرلُق) (چچ ھزارہ)
یہ ترک ھزارہ قبیلہ تھا جو امیرتیمورکے وقت سے موجودہ ضلع ھزارہ میں مقیم تھے ۔ اندریں بابت جناب راجہ استاد خان لکھتے ھیں کہ "وجہ تسمیہ اس میدان کی بہ روایت مرجع ومعتبریہ ھے کہ امیر تیمورکی آمد تک جو آخر 1398ء میں ھوئی، قوم ترک، معروف ھزارہ قارلوق ھری پور اور اسکے گرد و نواح کے میدان پر قابض ھوئی تھی انکے نام سے یہ یہ میدان بنام ھزارہ قارلغ (قرلق) مشہور ھوا” ( تاریخ ھزارہ-ص21)۔

جدید تاریخ میں ھزارہ اجتماعی مھاجرت دیگر ھمسایہ ممالک کے ساتھ اس وقت کی برٹش انڈیا کی طرف بھی1893ء میں امیرکابل عبدالرحمن کے ھاتھوں حتمی شکست کے بعد سے ھوئی۔ انگریزوں نے ابتدا میں انھیں سنجاوی کے قریب بسانے کا پروگرام بنایا، لیکن 1904 میں ھزارہ پاینر کی تشکیل ھوئی جسکا ھیڈکوارٹر کویٹہ کینٹ (ھزارہ لین) مقرر ھوا جسکے بعد سنجاوی کی طرف بہت کم ھزارہ گئے۔غلام رضا باڈی بلڈر کا خاندان ان محدود چند خاندانوں میں تھا جسکی زمینیں اب تک سنجاوی میں ھیں۔اسکے بعد مختلیف ادوار میں مھاجرتوں کے سلسلے جاری رھےجسکی تفصیل "ھزارہ اجتماعی مھاجرت کی داستان” میں بیان کی گئی ھے قاریئن کرام وھی رجوع کرلیں۔ لیکن صرف اتنا عرض کرنا ھے کہ فی زمانہ پاکستان میں ھزارہ آبادی چھ لاکھ کے قریب ھے جنکی قاطع اکثریت کویٹہ کے دومحلوں علمدار روڈ اور ھزارہ ٹاون میں مقیم ھیں۔ اسکے علاوہ سنجاوی ، دکی، لورلائی اورشاید چند گھرانے ژوب میں بھی بود و باش رکھتے ھیں۔ اسی طرح پاڑہ چنار پختونخواہ، گلگت شمالی علاقہ جات، کراچی، حیدر آباد اور سانگھڑ سندھ میں بھی انکی چھوٹی چھوٹی آبادیاں ھیں۔ شمالی علاقہ جات کو ڈوگرہ راج کے چنگل سے آزاد کرنے اور انھیں پاکستان میں شامل کرنے کی تحریک میں مرحوم محمدعلی چنگیزی نے کلیدی کردار نبھایا جو اب وھاں کی تاریخ کا ایک روشن باب ھے۔

ھزارہ پاینر بنیادی طورپرایک انجینئرنگ یونٹ تھی جس نے کویٹہ-ژوب، ژوب-دانہ سر، کویٹہ-چمن، کویٹہ-سبی روڈ تعمیرکرنے میں کلیدی کردارادا کیا۔ دوسری جنگ عظیم کے دوران ھزارہ پاینرنوشکی، دالبندین، تفتان، زاھدان،کرمان، سیستان کے راستے عراق گئی۔ چونکہ اس زمانے میں امیر کابل کے حکم پر ھزارہ مھاجرین کے افغانستان چھوڑنے پر پابندی تھی اس لئے ھزارہ خواتین کا آنا تقریباً ناممکن تھا۔ اس لئے ھزارہ پاینرکے جوانوں کی ایک تعداد نے سیستانی بلوچ جو عقیدے کے لحاظ سے شیعہ ھیں کے ھاں شادیاں کیں جو کہ ایک اھم سماجی قدم تھا۔

ھزارہ پاینر کا شمار برصغیرکی اھم ترین پاینرزمیں ھوتے تھے ڈسپلین،حربی شعبوں، شوٹینگز اور مختلیف کھیلوں میں مھارت کے حوالے سے اسکا کوئی ثانی نہیں تھا۔ اس ضمن میں برگیڈیر بنبری کی لکھی کتاب "ھزارہ پاینرکی مختصرتاریخ” پڑھنے سے تعلق رکھتی ھے۔ اگرچہ مالی مسایل کی وجہ سے دیگرپاینرزکے ساتھ ھزارہ پاینر کو بھی 1933ء میں ختم کردئے گئے تاھم اسکے اثرات ھزارہ سماج پر تا دیرقایم رھے۔ کھیل کے مختلیف شعبوں ھاکی، فٹبال، شوٹینگز وغیرہ میں وہ سالوں متحدہ ھندوستان اور بعد ازآں متحدہ پاکستان کے چمپیئن رھے اور تمام تر اونچ نیچ کے ساتھ اب تک یہ بالادستی قایم ھیں۔ انکی اعلیٰ کارکردگی کا اندازہ اس حقیقت سے بخوبی کیا جاسکتا ھے کہ اس وقت متحدہ ھندوستان کی آبادی چالیس کروڑ جبکہ ھزارہ آبادی محض چند ھزار تھی لیکن کئی شعبوں میں چپمپیئن۔

3-مرکزی ایشیا
مرکامیرعبدالرحمن کی ھزارہ نسل کشی کی پالیسی سے بچنے کیلیے آس پاس کے دیگرممالک کے ساتھ ھزاروں کی ایک بڑی تعداد نے مرکزی ایشیا کی طرف بھی مھاجرت اختیار کیں جسکےمعتبرشواھد موجود ھیں۔ مثلاًھزارہ جنگ آزادی کے معروف جنگجو سالارعظیم بیگ نے حتمی شکست کے بعد ازبکستان کی طرف مھاجرت اختیا کی انکی کتاب "ھزارستان” 1898ء میں تاشقند ازبکستان سے چھپی۔اندریں بابت تیمورخانوف لکھتے ھیں کہ "1897ء کے دوران ھزارہ قوم کو روس میں پناہ لینے کی اجازت مل گئی جس کے بعد بڑی تعداد میں ھزارہ رعایا نے روسی سرزمین میں پناہ لی (تیمورخانوف-ص 145،46)۔ لیکن درج ذیل شواہد کے علاوہ مزید تفصیلات نہ مل سکی۔ آغلب امکان یہی ھے اپنی جڑوں سے کٹنے کے بعد گذشت زمان کے وہ مقامی لوگوں سے گھل مل میں اپنے شناخت کھودی ھو جیسا کہ ازبکستان کے درہ مرغاب کے "ھزاروں” کے ھاں ھمیں دیکھنے کو ملتی ھے۔

ایش الف- ازبکستان-ترکمانستان
ازبکستان کے علاقہ درہ مرغاب میں ھزارہ قوم کی بود و باش کے شواھد ملتے ھیں جناب اوحدی سابق سویت یونین منابع کے حوالے سے لکھتے ھیں کہ”ھزاروں کی اکثریت افغانستان میں آباد ھیں لیکن ایک تعداد جمھوری ازبکستان کے علاقہ درہ مرغاب میں بھی مقیم تھی۔1926 کی مردم شماری میں ازبکستان اور ساتھ ھی ترکمنستان کے ھزارہ کے اندراج جداگانہ طورپرکئے گئے تھے لیکن بعد کے ادوار میں انھیں دیگر اقوام کے زمرے میں رکھا گیا۔ اغلب امکان یہ ھے اب انھیں ترکمنوں میں شمارکیا جاتا ھو” (اوحدی-ص91-92)۔ ترکمانستانی ھزارہ کے بارے میں مزید معلومات دستیاب نھیں۔

ب-داغستان
جمھوریہ داغستان میں بڑی تعداد میں ھزارہ قوم کی موجودگی کی خبرھے لیکن صد افسوس کہ اس ضمن میں تفصیلات دستیاب نہیں اوحدی اس سلسلہ میں لکھتے ھیں کہ” امیرعبدالرحمن کی ھزارہ نسل کشی کے نتیجے میں ھزاروں کی ایک بڑی تعداد مختلیف ممالک میں پناہ لینے پر مجبور ھویں جن میں جمھوریہ داغستان بھی شامل ھے۔ لیکن افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ھے کہ ھمیں انکے بارے زیادہ معلومات نھیں۔صرف اتنا جانتے ھیں کہ 1367ھ ش (1988) میں جمھوریہ داغستان کے حکام نے افغانستان کے وزارت خارجہ کے توسط سے ھزارہ قومی جرگہ کابل سے درخواست کی تھی کہ اپنے نمایندے انکے ایک قومی کانفرنس میں بھیجے۔ انھوں نے اپنے آپکو افغانستان کے ناقلین ھزارہ کہا تھا اور داغستان میں اپنی تعداد نصف میلین بتائی تھی۔ لیکن حکومت وقت نے ھزارہ قومی جرگہ کے علم میں لاے بغیر تاجیکستان میں زیر تعلیم دوطالبعلموں کو وھاں بھیجنے پرھی اکتفا کی”(اوحدی-ص92)۔

4-دیگر ممالک
افغانستان میں ثور انقلاب کے بعداور خاص طورپر ھزارہ جات میں خمینی صاحب کی حمایت یافتہ گرپوں کی باھمی لڑایوں کے نتیجےمیں بڑی تعداد میں ھزارہ اپنے گھربار چھوڑکر مھاجربننے پر مجبور ھوئیں لیکن انکے نعرہ "اسلام مرزندارد” کے زیراثر مغربی ممالک کی بجاے ایران جانے کو ترجیح دی اور چونکہ مذہب کا نشہ اترنے میں وقت لگتا ھے اس لیے ھزارہ قوم کوبھی اس فریب سے نکلنے میں کافی وقت لگا۔ یوں دو دھایوں تک ایران میں ذلیل و خوار ھونے کے بعد انکی ایک تعداد، نوے کے وسط سے یورپ کی طرف جبکہ نوے کے اواخرسے آسٹریلیا جانے لگی۔یاد رھے کہ اس وقت تک ان ممالک نے نئے مھاجرین کی قبولیت کے سلسلے میں اپنی قوانین کافی حد تک سخت کردی تھیں۔ با این ھمہ اب ھزارہ پناہ گزینوں کی ایک قابل ذکر تعداد یورپ، امریکہ، کنیڈا، نوزی لینڈ اور آسٹریلیا آباد ھوچکی ھیں جبکہ تعداد کے لحاظ سے آسٹریلیا سرفہرصت میں ھے جھاں ایک لاکھ کے قریب ھزارہ پناہ گزین مقیم ھیں۔
SOURCES:

Awhidi, Jalal, .Tarkib-i-Qabayel dar sakhtar-e-Milli-e-Milliyat-e-Hazaraha،Quetta 2010.
Bayat, Kava. Saulatus Saltanah-ye Hazara wa Shorish-e Khorasan. Tehran: 1991.
Khawari,Taqi, Mardum-e-Hazara wa Khuraan-e-Buzurg, Iran 2008.
Matland, Afghan Boundary commission Report Vol-4 Simla, 1893.
Monsutti, Alessandro. War and Migration: Social Networks and Economic Strategies of the Hazaras of Afghanistan. New York & London: , 2005.
Mousavi, S.A. The Hazaras of Afghanistan: An Historical, Cultural, Economic and Political Study. London, 1997.
Owtadolajam, Mohammad. A Sociological Study of the Hazara Tribe in Balochistan: An Analysis of Socio-cultural Change. Quetta: 2006.
Temur, Khanov, Tarikh-e-Hazara Mughal, Urdu, Quetta, 1992.
Uruzgani, Mullah Afzal. Al Mukhtasar Al Manqool Fi Tarikh-e-Hazara wa Mughul. Quetta: Pakistan ., 1914.
Ustad Raja Khan, Tarikh-e-Hazara, Haripur Hazara, 1998.

Leave A Reply