طاہر خان هزارہ کےجلسہ عام سے خطاب کا متن (8 جون 2015)

0

ٹائپینگ :- لیاقت علی
قیام پاکستان کے بعد سے بلوچستان میں مسلسل بے چینی ہے 1970 کے انتخابات میں جو یہاں حکومت بنی اور آپ نے دیکھا کہ دو قومی نظریہ کی کشتی ڈوب گئی مشرقی پاکستان (بنگال) نے پاکستان سے علیحدگی اختیار کر لی کیونکہ مجیب الرحمٰن نے 164 سیٹ جیتی تهی جبکہ دوسری جماعت پیپلز پارٹی نے 84 سیٹ جیتی تهی لیکن مجیب الرحمٰن کو حکومت بنانے کی اجازت نہیں دی گئی. جسکے نتیجے میں وہاں جد و جہد آزادی شروع ہوئی اور بنگال پاکستان سے علیحدہ ہو گیا اس کے بعد سے آج کے پاکستان میں 5 بڑی قومیتں رہتی ہیں جنکی تاریخی شناخت زبان ثقافت اور روایات ہیں لیکن مقتدر حلقوں نے کہا کہ نہیں!

قرار داد مقاصد پاس کی گئی اور یہ باور کرانے کی کوشش کی کہ هم سب مسلمان اور ایک قوم ہے اور اس تضاد میں جو قومیتوں کے درمیان تهی اس کو دبانے کی کوشش کی گئی جس کے نتیجہ میں یہ ملک مسلسل بحران کا شکار ہے اس ملک میں مسلسل بے چینی ہے. مسلسل فکری تصادم ہے. لوگوں کے درمیان انتہائی بد اعتمادی ہے بلوچستان اس حوالے سے زیادہ حساس ہے گزشتہ 67 سالوں سے بلوچوں میں بے چینی ہے اور وہ اپنی وسائل پر اختیار کی بات کرتے ہیں 1973 میں بلوچ کہہ رہے تهے کہ همیں صوبائی خود مختاری دی جائے هم پاکستان کے ساتھ رہنا چاہتے ہیں لیکن نہیں مانی گئی مرحوم غوث بخش بزنجو اور میں ایک جماعت میں تهے وہ کہا کرتے تھے کہ آو همارے ساتھ بات کرو هم پاکستان کے ساتھ رہنا چاہتے ہیں لیکن انہوں نے بات نہیں کی اور جہاں سے حقوق غصب ہونا شروع ہو جاتا ہے وہاں سے تحریک آزادی سر اٹهاتی ہے اور آج بلوچستان میں آزادی کی جنگ لڑی جا رہی ہے اور ریاست پاکستان، بلوچ تحریک کو کچلنے کے لیے هزارہ قبائل کا قتل عام کر رہی ہے اور گزشتہ 15 سالوں سے همیں بے وقوف بنایا جا رہا ہے کہ یہاں فرقہ واریت ہے !

یہاں کی تمام اسٹیک ہولڈرز اور مستند سیاسی اورمذہبی جماعتوں نے کہا ہے کہ یہاں کوئی فرقہ واریت اور انتہا پسندی نہیں ! همارے قتل عام ریاست کرا رہی ہے جسکا مطلب کاونٹر انسر جینسی ہے یہ دنیا کو تاثر دینا چاہتی ہے کہ بلوچستان میں دہشتگردی ہے حالانکہ ایسی کوئی بات نہیں ۔هزارہ قبائل ریاستی دہشتگردی کا شکار ہے اور همارا قتل عام کیا جا رہا ہے تاکہ دنیا کو باور کرایا جا سکے کہ بلوچستان میں آزاد بلوچستان کی تحریک وجود نہیں رکھتی اور یہ اپنے حربے اور اوچھے ہتھکنڈوں پر اتر آئی ہے. آج ایک شہر قبرستان سے آباد ہو گیا ہے هم نے پہلے بھی کہا کہ یہ ریاستی دہشتگردی ہے یہ کیسی ریاست ہے جومیزبان چوک جہاں چاروں طرف ایف سی کے اہلکاروں اور 50 قدم کے فاصلے پر سٹی پولیس اسٹیشن ہے جہاں ہر وقت سیکورٹی اہلکارھائی الرٹ کهڑے ہوتے ہیں وہاں دکانوں پر حملہ کر کے بے گناہوں کو قتل کر دیا جاتا ہے اور با آسانی فرار ہونے میں کامیاب بھی ہو جاتے ہیں !؟

آج تک کوئی مجرم نہیں پکڑا گیا اور کہتے ہیں کہ نامعلوم افراد قتل کر کے چلے گئے اگر یہ نا معلوم ہے تو یہ نا معلوموں کی حکومت ہے ، یہ نامعلوم ریاست ہے نا معلوموں کا اقتدار ہے اگر یہ نا معلوم مسلط ہے تو پهر تمهاری کیا ضروت ہے جو تم پاکستان کو لوٹ رہے ہو جب تم عوام کی حفاظت نہیں کر سکتے پهر تمهاری کیا ضرورت ہے عوام کے خون پسینے کی کمائی کو لوٹنے والوں هم صاف کہتے ہیں کہ یہ تمھارےپالے ھوے ہیں ان سارے دہشت گردوں کی تم معاونت کرتی ہو یہ کوئی ڈھکی چھپی بات نہیں پاکستان کے زندہ ضمیر صحافیوں،دانشوروں، اور سیاست دانوں نے اس بات کا اعتراف کیا ہے کہ یہ نام نہاد دہشت گردی ریاست کی پیداوار ہے اسکو کثیر المقاصد کےطورپر استعمال میں لاے جا رہے ہیں.

اس کے تمام تر شواہد موجود ہیں کہ هم ریاستی دہشت گردی کا شکار ہیں همارے قتل عام فوج کرا رہی ہے همارا قتل عام فوج کے خفیہ ادارے کرا رہےہیں جو کہتے ہیں کہ یہ انتہا پسندی ہے وہ انکے ساتھ ملے ہوے ہیں هم سالوں سے ہندووں، سکھوں، عیسائیوں کے ساتھ رہتےآرے ہیں کسی نے مذہب کو بنیاد بنا کر کسی کے ساتھ زیادتی نہیں کی اگر یہ ملک جل رہا ہے اگر یہ ملک فرقہ واریت کی وجہ سے جل رہا ہے تو هم یہ زمین خالی کرائے نگے تاکہ مسئلہ حل ہو هم پہ زبردستی جنگ مسلط کی گئی ہے زبردستی هم سے یہ جگہ خالی کرانا چاہتے ہیں خدا کی زمین هم پہ تنگ کی جا رہی ہے ! هم سب سمجهتے ہیں کہ همارے قتل عام کی آڑ میں دنیا کو دهوکہ دینا کی کوششیں ہورہی ہیں۔ آج بلوچستان میں ماورائے عدالت قتل عام ہو رہا ہے ہر روز لاشیں ملتی ہیں اگر ریاست کم زور اور بے بس ہے کیا اس کا مطلب یہ تو نہیں کہ ریاست سرنڈر کر رہی ہے . بلوچستان آزادی کے قریب پہنچ چکا ہے همیں قربانی کا بکرا بنایا جا رہا ہے ہزاروں لوگ قتل ہوئے ریاست کی 26 ایجنسیاں کہاں ہیں ؟ لاکھوں کی فوج ہر روز انڈیا کو آنکھیں دکھاتی ہے یہاں کہاں ہے ؟ ریاست عوام کی حفاظت کیوں نہیں کر سکتی ؟

هم اقوام متحدہ سے اپیل کرتے ہیں کہ وہ همیں تحفظ دیں ریاست اس لیے همیں مار رہی ہے کہ هم کمزور ہے اور هم میں ریاست کے ساتھ مقابلہ کرنے کی طاقت نہیں . جبکہ ریاست طاقت ور کے سامنے بھیگی بلی بن کر رہتی ہے ریاست اپنے ملک کے اندر امریکی پالیسی کے طرز پر وسائل پر قبضہ چاہتی ہے ! هم ریاست کو واضح پیغام دیتے ہیں کہ یہاں کوئی لشکر جهنگوی نہیں یہاں کوئی فرقہ واریت اور انتہا پسندی نہیں اگر ہے تو وہ ایک ہے جو تم سے لڑائی لڑ رہی ہے اور تم همیں دہشتگردی کا شکار بنا کر اپنے مذموم مقاصد حاصل کرنا چاہتی ہو اسے بند کرنا ہوگا بصورت دیگر هم پوری دنیا میں جہاں جہاں ہزارہ رہتے ہیں چاہے 1 ہو کہ 100 هم اس نعرے کے ساتھ انہیں کال دینگے کہ وہ جلوس اور مظاہرہ کریں کہ پاکستانی فوج کے خفیہ ادارے همارا قتل عام کر رہے ہیں بقول محمود خان پاکستان کی ایجنسیاں بھوسے کی ڈھیر سے سوئی نکال سکتی ہیں لیکن بهرے بازار میں ایک دہشت گرد کو نہیں پکڑ سکتی اگر ہر سانحہ میں نا معلوم افراد ہیں تو ایک دن نا معلوم افراد تم کو شکست دے کر ایٹم بم پر بھی قبضہ کرینگے اور اس ملک پر نا معلوم افراد کی حکمرانی ہوگی هم دنیا کو بتا دینا چاہتے ہیں کہ همارے قتل عام کا مجرم پاکستانی ریاست اور اسکے خفیہ ایجنسی ہیں ایک شخص کے قاتل کو پھانسی دی جاتی ہے اور جہاں سو سو لوگ مارے گئے ! کہاں ہے ریاستی انصاف ؟ همیں مجبور کیا جا رہا ہے همیں دشمن بنایا جا رہا ہے همیں اس ملک سے بے دخل کرانے کی سازش کی جا رہی ہے هم جان چکے ہیں کہ هم ریاستی دہشت گردی کا شکار ہیں

Leave A Reply