کویٹہ میں ھزارہ قوم کا معاشی قتلِ عام

0

تحریر- اسحاق محمدی
پچھلے دنوں معروف بلوچ قوم پرست رھنما اور وزیر اعلیٰ بلوچستان جناب ڈاکٹر مالک بلوچ نے بی بی سی کو انٹرویو دیتے ھوے ھزارہ قوم کی اقتصادی ناکہ بندی سے پیداھونے والے تباہ کن اثرات کا اعتراف توکیا لیکن پھرایک روایتی پاکستانی سیاستدان کی طرح اسکی ذمہ داری قبول کرنے کی بجاے اسے بری طرح سے نسل کشی کا سامنا کرنے والی ھزارہ قوم کے کھاتے میں ڈالتے ھوے کہا ھے کہ”انھیں خود کو اس تنھائی سے نکال لینی چاھیے حکومت اس سلسلے میں کچھ نھیں کرسکتی”۔ 6یاد رھے کہ 2002 کے بعد ھزارہ قوم پر دہشت گردانہ حملوں میں شدت آنے کے ساتھ اندرون بلوچستان اورصوبائی دارلحکومت کویٹہ کے اکثرعلاقوں اور خاص طورپر سریاب روڑ اور اس سے ملحقہ علاقوں میں ھزارہ کاروباری و ملازم پیشہ حضرات پرمنظم حملوں کے پیش نظروہ بتدریج اپنے کار وباراورملازمت ترک کرنے پرمجبورھوتےگئے ۔ تاھم جنوری 2013 میں علمدار روڑ سنوکر کلب پر دوھرے خوفناک دہشت گرد حملے کے بعد دونوں ھزارہ نشین محلوں علمدار روڑ اور ھزارہ ٹاون کو سیکوریٹی کے نام پرمکمل سیل کردی گئی ھیں حالانکہ عقل ومنطق اور انصاف کا تقاضا یہ تھا کہ حکومت خواہ مرکزی ھو یا صوبائی، وہ دھشت گردوں کوانکے کیفرکردارتک پہنچاد یتی ، اُلٹا انھوں نےلاکھوں کی ھزارہ آبادی کی دیگرعلاقوں اورلوگوں سے آزادانہ میل جُل پر قدغن لگا کر انھیں دیگرمصایب کے ساتھ شدید معاشی مشکلات میں مبتلاکرکے رکھدی ھیں۔ unnamedانسانی حقوق کی بین القوامی تنظیم ھیومن رایٹس واچ نے اپنے جون 2014 کے ایک جامع رپورٹ (ھم زندہ لاشیں ھیں)میں ھزارہ نسل کشی کے دیگر پہلوں کے ساتھ اس "ھزارہ معاشی قتل عام” کا بھی بطورخاص احاطہ کیا ھے۔

اگرچہ 2014 کے دوران پاکستان اور خاص طورپربلوچستان میں گذشتہ سالوں کی نسبت ھزارہ نسل کشی کی شدت میں کمی رھی لیکن مسلح دھشت گرد تنظیموں جیسے لشکرِ جھنگوی، جیش الاسلام اور انکے سیاسی وینگز اھل سنت ولجماعت اورغلامان صحابہ کے آے روزاعلانیہ دھمکیوں کیوجہ سے سیکورٹی تھریٹ اسی طرح برقراررھی،ھزاروں لوگ بیرون ملک ھجرت کرنے پر مجبور ھوے (درست اعداد وشمار دستیاب نھیں بی بی سی نے انکی تعداد تین لاکھ بتائی ھے)، سینکڑوں ھزارہ اسٹوڈنٹس تعلیم سے محروم رھے، ملازم پیشہ اورکاروباری ھزارہ، ملازمت اورکاروباری جگہوں پر نہ جا سکے یوں معاشی قتل عام کی شدت میں مزید اضاف ھوتی رھی۔

چنانچہ آج ھزارہ آبادی کی افرادی قوت کی ایک بڑی تعداد جو تعلیم یافتہ نوجوانوں پرمشتمیل ھے بیروزگاری کی لعنت سے دوچارھے، حالانکہ ھزارہ قوم کی جفا کشی، ایمانداری اورھنرمندی کے سبھی معتریف ھیں۔ انھی اوصاف کی وجہ سے جب حالات پرامن تھے توصوبے کے تمام چھوٹے بڑے شہروں اورقصبوں میں انکے کاروبارپھیلے ھوے تھے  hqdefaultجھاں انکی آبادیاں بھی تھیں جو اب کویٹہ منتقیل اور صرف دو محلوں میں محصورھوکے رہ گیئں ھیں، جھاں پہلے ھی آبادی اوربیروزگاری کا بےپناہ دباوھیں نیزمحاصرے میں ھونے کیوجہ سے مہنگائی آسمان سے باتیں کررھی ھیں۔ کل ھی، میں لوکل چینل ‘مِرر” میں اسی بارے میں ایک دل ھلا دینے والا پروگرام دیکھ رھا تھا مثلاؐ ایک ھزارہ سبزی فروش کہہ رھا تھا کہ "ھزارہ خود منڈی نھیں جا سکتے جبکہ غیر ھزارہ میڈل مین حالات کا فایدہ اٹھاتے ھوے ھرچیزکی منہ مانگی قیمت وصول کر رھے ھیں جبکہ محلے کے اندر عام لوگ مہنگی چیزیں فروخت کرنے پر سارا غصہ ھم ھی پر اتارتے ھیں جسمیں ھماراکوئی قصورنھیں اورنہ ھی ھمارے پاس دوسرا راستہ ھے”۔ جبکہ ایک یتیم بچی جسکےسر سے دہشت گردوں نے اسکے والد کا سایہ چھین لیاھے بی بی سی کے ساتھ انٹرویو کے دوران ، کرایوں میں بے پناہ اضافے (ارتکاز آبادی کی وجہ سے) کا ذکر کرکے رورھی تھی۔ یہی حال دیگر شعبہ ھای زندگی کا بھی ھے۔
بد قسمتی سے ھزارہ نسل کشی اورقتل عام کے خلاف موثرآواز اٹھانے اوراس مسلے پرعالمی توجہ مبذول کرانے میں کامیابی حاصل کرنے کے باوجود، ھزارہ معاشی قتل عام کی جانب اب تک کوئی توجہ نھیں دی گئی ھے۔ حالانکہ اقوام متحدہ کے چارٹرکے روسے کسی خاص نسلی، لسانی، مذھبی گروہ کی قصداؐ اقتصادی ناکہ بندی بھی قتل عام کے زمرہ میں آتی ھے۔ اب یہ تمام ذی ربط ھزارہ تنظیموں اور شخصیات کا فرض بنتا ھے کہ وہ اس جانب عالمی برادری کی توجہ مبذول کرانے کیلیئے یک سو ھو کرکام کریں کیونکہ یہ بات طے ھے کہ پاکستان کے مقتدر حلقے یعنی آرمی اب تک "اچھے دھشت گرد اوربرے دھشت گرد” کے خونی کھیل سے دست بردارنھیں ھوئی ھے۔اس کا واضح ثبوت نام نہاد قومی ایکشن پلان پر بلوچستان میں سرے سے عمل درامد کا نہ ھونا ھے ۔ ایسےمیں، ھزارہ نسل کشی میں ملوث دھشت گردوں کے خلاف کسی موثرکاروائی کا امکان کم ھی ھے۔

پس اس صورت میں اگر عالمی دباوکے نتیجے میں ھماری جسمانی نسل کشی اور قتل عام کی شدت میں کمی بھی آجاے تو معاشی قتل عام جاری رھیگی جیسے تا دیر برداشت کرنا غیرممکن ھے۔
آخرمیں جناب ڈاکٹرمالک بلوچ کے مذکورہ انٹرویوکے بعض دیگر حصوں کے بارے میں چند مختصرتوضیحات قاریین کی خدمت میں پیش ھیں :-
– امن و امان کی صورت حال اب پہلے کی نسبت کافی بہتر ھے-
اگلےھی دن کئی سالہ اقتصادی ناکہ بندی کے مارے تین ھزارہ بیروزگار نوجوان تفتان اڈہ پہنچے ھی تھے کہ ھزارہ شکار پر مامور "نامعلوم”دھشت گردوں کے ھاتھوں چھلنی ھوگئے۔

– سریاب روڈ سب کیلیے کھلا ھے۔
حالانکہ یہ پورا علاقہ، ھزارہ "نو گو” بن گئے ھیں اور اسی سریاب روڑ اور اسکی ملحقہ گلیوں میں ابتک کم ازکم دو سو بیگناہ ھزارہ دن دھاڑے قتل ھوے ھیں ۔

– مری آباد سریاب روڑ سے زیادہ ترقی یافتہ ھے۔
حالانکہ گذشتہ کئی عشروں کے دوران دو گورنر، آٹھ وزراے اعلیٰ (بشمول ڈاکٹر مالک) ، درجنوں وزیر و مشیر،سنیٹرز، ایم این ایز،ایم پی ایز، سینکڑوں ناظمین وغیرہ کا تعلق اسی سریاب سے رھے ھیں ۔ اب اگر انھوں نے اپنی سرکاری صوابدیدی فنڈز جسکا حجم بلاشبہ کئی سو ارب تک جا پہنچتے ھیں کواپنے غریب عوام اور علاقے کی ترقی پر خرچ کرنے کی بجاے اس کی لوٹ مار کی ھیں تو اسمیں بیچارے ھزارہِ کا کیا دوش !!!؟؟؟

Leave A Reply