ایک چونکا دینے والی کتاب کا تذکرہ

0

اسحاق محمدی

سچ تو یہ ہے کہ میں “ ملا شاہی” برادری سے تقریباً مایوس ہو چلا تھا کیونکہ انکا طبقاتی مفاد براہ راست عوامی مفادات سے متصادم ہے اور ان کے مفادات کا تقاضا ہے کہ سادہ لوح عوام کو جھوٹی تسلیاں دیکر اور دلفریب لوریاں سناکر سُلاتا  رہے اور خود خواب غفلت میں پڑے بیچارے عوام کی محنت شاقہ  کی کمائی سے گل چھرے اڑاتے چلے جائیں لیکن کبھی کبھار تاریخ یورپ کے حوالے سے یہ حسرت دل میں آتی  کہ کاش اس ظلمت کدہ میں بھی کوئی مارٹن لوتھر کنگ جیسا    Clergy  پیدا ہوجائے اور اس طلسماتی دنیا کے “گرگ میش نما” باسیوں کے حقیقی مکروہ چہرے اور کرتوتوں کو سادہ لوح عوام کے سامنے بے نقاب کرکے ان کی صدیوں سے قائم فرعونی راج دھانی کی مضبوط دیواروں میں دراڑیں ڈالے اور اس طرح ہمارے ہاں بھی Renaissance    یا تحریک احیاے علوم کی شروعات کریں  کیونکہ یہ بات قطعی ہے کہ ایک ایسی علمی و فکری تحریک جسکی بنیادیں عقل و منطق، دلیل و برہان اور انسانی برابری و آزادی پر استوار ہو، کے بغیر ہم علم و ٹیکنالوجی کے اس ترقی یافتہ دنیا میں ترقی و خوشحالی کا تصور بھی نہیں کر سکیں گے۔ اور    "مردہ بودن و نان زندہ خوردن ” کے حقیقی  مصداق بنے ایسی لایعنی و احمقانہ الجھنوں میں گرفتار رہیں گے کہ مثلاً اگر نماز کے دوران یہ شک ہو جائے کہ میں نے ایک رکعت پڑھی ہے یا پانچ تو اس مسئلے کی شرعی حیثییت کیا ہوگی۔۔۔۔؟ جبکہ دوسری طرف ترقی یافتہ اقوام کی درست سوچوں نے خداوند عالم کی بہترین تخلیق حضرت انسان کی  راز حقیقت کو ڈی کوڈ کرنے میں کامیابی حاصل کر لی ہیں۔

بہر حال ” یأس و نا امیدی” کی اس کیفیت میں پچھلے دنوں ایک ہزارہ آیت اللہ( Clergy)  علی محقق نسب کی نو تنصیف شدہ کتاب "ولایت فقیہ و مرزھای جغرافیائی” پڑھنے کا اتفاق ہوا۔ یاد رہے کہ مذکورہ کتاب کو “ملاشاہی نظام” کے بندھنوں میں جکڑے ایران میں اشاعت کی اجازت نہ ملنے پر مؤلف نے اسے چند ہزارہ قوم دوست اشخاص کے تعاون سے کوئٹہ میں شائع کرایا ہے۔

اب خدا کریں کہ اس تحقیقی کتاب کی چشم گشا انکشافات ہمارے سادہ لوح روایت پرست عوام کی آنکھیں کھولنے کے باعث اور ان کے ذہن کی کھڑکی اور دروازوں پر لگے غفلت و بے خبری کے زنگ آلود قفلوں کو وا کرنے کا وسیلہ بنیں اور ایکبار پھر مارٹن لوتھر کنگ کی تاریخ  دہراتے ہوئے تعصب اور بنیاد پرستانہ تشدد کی اس گھٹاٹوپ تاریکی میں ہمیں بھی   Renaissance کی روشنی دکھائی جائے۔

کُل گیارہ ابواب اور سات سو صفحات پر مشتمل اس ضخیم کتاب میں فاضل محقق نےاپنے نقطہ نظر کی وضاحت اور صداقت کیلئے ایک سو بیانوے (192) کتابوں کی سینکڑوں حوالہ جات کا سہارا لیتے ہوئے اپنی بات کو آگے بڑھاتے ہیں۔ بنیادی طور پر یہ کتاب دو حصوں ،بخش اول اور بخش دوئم پر مشتمل ہے۔

بخش اول کے آٹھ ابواب کے موضوعات یہ ہیں:ـ

  1. نظام ولایت فقیہ ۔۔۔۔ خواب تا حقیقت
  2. نظام ولایت فقیہ میں قومی اقتدار اعلیٰ National Sovereignty اور بین الاقوامی اقتدار اعلیٰ کا باہمی تعلق
  3. نظام ولایت فقیہ میں بین الاقوامی اقتدار اعلیٰ کی بنیادیں
  4. ولایت فقیہ ۔ فقہا کی نظر میں
  5. ولایت فقیہ اور مرجعیت کا تقابلی جائزہ
  6. بے اقتدار فقہا کو خمس کے استعمال کا حق نہیں پہنچتا
  7. نظام ولایت فقیہ اور دیگر ممالک کے اقتدار اعلیٰ
  8. ملکوں کے رویے پر حاکم، اصول و قواعد

بخش دوئم کے موضوعات اس طرح سے ہیں۔

  1. ولایت فقیہ ، ایرانی ڈاکٹرین Doctrine کے تناظر میں
  2. انتخاب فقیہ اور بیعت، ولایت اور حکومت کے قیام کا بہترین معیار

ولی فقیہ کی بین الاقوامی حاکمیت، ایرانی قوانین کے تناظر میں

فاضل محقق ان گیارہ ابواب میں جہاں ایک طرف رائج الوقت شیعہ عقائد کے بظاہر مسلمہ اصولوں جیسے تقلید، مجتہدین کی واجب الاطاعتی اور خمس کی فی زمانہ جمع آوری اور استعمال کرنے کے طریقے کو نہایت مدلل انداز میں پیش کرتےہیں  وہی دوسری طرف موصوف ایرانی آئین میں موجود اسلامی تعلیمات سے متصادم شقوں کو بھی چابک دستی سے آشکارا کرتے ہیں ، مثلاً وہ پوائنٹ آوٹ کرتے ہیں کہ "ایران میں اسلامی جمہوری حکومت کے قیام سے اب تک پانچ لاکھ سے زائد لوگوں کی شہریت منسوخ کی جاچکی ہے اور ایک لاکھ اسی ہزار بچے صرف غیر ملکی باپ کی نسبت سے انکی رجسٹریشن معرض التوا میں ہے حتیٰ کہ وہ تعلیم کے حق سے بھی محروم ہیں” (صفحہ 186) موصوف ولی فقیہ کی اہلیت کی شرائط اور صدر مملکت کی اہلیت کی شرائط میں ایک عمدی تضاد کی نشاندہی کرتے ہیں کہ “ دستور کے شق 109 کے جس میں رہبر (ولی فقیہ) کی شہریت کو نظر انداز کیا گیا ہے جبکہ اسی دستور کے شق  115 میں صدر کی اہلیت کیلئے شہریت کے ساتھ ساتھ ایرانی الاصل اور ایرانی نسب ہونے کی شرط بھی لگادی گئی ہے، نیز  کلاز 982 منظور شدہ 1370 ھ ق (1991) کی رو سے ایرانی گرین کارڈ ہولڈرز کو تمام سرکاری نوکریوں کیلئے نا اہل جبکہ صرف چھوٹے موٹے کاروبار کا حق دیا گیا ہے۔ ان حقائق کو دیکھتے ہوئے ہم برملا کہ سکتے ہیں کہ اسلامی جمہوریہ ایران میں قانون سازی کا عمل عادلانہ اور متوازن نہیں  بلکہ دستور بنانے والے کی مرضی و منشأ کا تابع ہے۔ یوں ان دستور سازوں کی نہ تو سخت گیری اور نہ ہی  سہل اندیشی کسی قاعدہ قانون و ضابطہ کے مطابق ہے انکی سوچوں کا محور محض وقتی مفادات کا حصول ہی ہے “بقول” انکے  چونکہ رہبریت کے سلسلے میں خمس اور بیرونی تشہیر جیسے مفادات کے حصول کا تقاضا ہے کہ “شہریت” کی شرط کو فراموش کردیا جائے سو انہوں نے اسے فراموش  کردیا ہے جبکہ صدارت کے آب و تاب والے حکومتی عہدہ کیلئے وہ شہریت سے کئی قدم آگے بڑھتے ہوئے (مسلمہ اسلامی اصولوں کو پائمال کرتےہوئے) نسل اور نسب کی شرائط لگانے سے بھی نہیں چوکتے (ص669-670) اس ضمن میں علی محقق نسب ایک اور قابل غور نکتہ کی طرف توجہ دلاتے ہیں کہ ایک طرف ایرانی سرکاری ذرائع ابلاغ رہبر انقلاب یعنی ولی فقیہ کو “ولی الامر مسلمین”رہبر مسلمانان جہان” کے طور پر پیش کرتے ہیں حالانکہ اسی رہبر کے انتخاب میں ووٹ ڈالنے کا حق صرف اور صرف ایرانیوں کو ہی حاصل ہے!!!

اب کتاب کے اس حصے کی طرف آتے ہیں جس میں اجتہاد، تقلید کے واجب ہونے اور خمس کی جمع آوری و تقسیم کے عمل سے متعلق اہم چونکا دینے والے انکشافات سامنے آتے ہیں۔ اجتہاد کے لغوی و اصطلاحی تعریف اور تاریخ کا پس منظر بیان کرنے کے بعد فاضل مؤلف  لکھتے ہیں کہ “ اجہتاد کی اصطلاح حضور اکرمؐ کی رحلت کے بعد مذّمتی معنوں میں استعمال ہوا ہے۔ جسکی شیعہ ائمہ ؑ نے مسلسل مذمت کی ہے”   آگے چل کر لکھتے ہیں کہ “ ائمہ معصومین ؑ کے دور سے لے کر ساتویں صدی ہجری تک لفظ اجتہاد اسی معنی (مذمتی) میں آیا ہے اور انکی مسلسل مذمتی روایتوں سے ثابت ہوتا ہے کہ اجتہاد کو ایک ذاتی رائے کے طور پر شرعی احکام کے بنیادی ماخذ ( قرآن و سنت) میں ایک غیر ضروری اضافہ تصور کیا گیا ہے اسی لیے شیعہ فقہا و عالموں نے حضرت امام زمانؑ کے دور سے ہی اجتہاد کی ردوتردید کیلئے کمرہمت باندھی اور اپنے گفتار و کردار کے ذریعے "اجتہاد” کے خلاف اپے تند و تیز حملوں کا آغاز کردیا (ص 300-301)۔ اس کے بعد موصوف معتبر حوالوں کے ذریعے شیعہ فقہا کے مختلف ادوار کا تفصیلی جائزہ پیش کرتے ہیں جو کہ نہایت اہم ہونے کے باوجود میں مضمون کی طوالت کے خوف سے قارئین  سے معذرت کرکے صرف انہی کی نتیجہ گیری کا ترجمہ پیش کرنے پر اکتفا کرتا ہوں۔ "تیرہویں صدی ہجری کے اوائل سے شیعہ فقہا (فقیہ کی جمع) کی اجتہاد سے اُنسیت ہوگئی اور اس سے یوں دوستی کرلی کہ نہ صرف اجتہاد مقدس قرار پایا بلکہ اجتہادی صلاحیت عطیہ الہٰی تصور ہونے لگی”آگے چل کر وہ یوں رقم طراز ہوتے ہیں کہ:

  1. بلاشبہ ائمہ معصومینؑ کے دور سے قریب تر کے یہ سات سو سال جو شیعہ فقہ کا روشن ترین باب ہے، ان سالوں میں اجتہاد کی اصطلاح نہ صرف مقدس نہ تھی بلکہ اسے مسترد شدہ اور نامقدس گردانا جاتا تھا۔ شیعہ علماء ، اجتہاد کو مذہب سے ایک قسم کا انحراف یا ائمہ ؑ کی تعلیمات کے برخلاف اور اسلامی عبادی اصولوں سے روگردانی خیال کرتے اور اسے امام ابوحنیفہ اور انکے پیروکاروں کی روش گردانتے تھے۔
  2. ابن ادریس کے زمانے چھٹی صدی ہجری کے اواخر یا محقق حلی کے زمانے ساتویں صدی ہجری کی دوسری دہائی سے ایک حد تک اجتہاد کی اصطلاح شیعہ کلچر میں نہایت محدود معنوں میں شرف قبولیت پا سکی اس لیے ہم کہ سکتے ہیں کہ تیرہویں صدی ہجری تک یہ اصطلاح اور یہ عمل شیعہ علماء کے درمیان اتفاق نظر حاصل نہیں کر سکا۔ اسی لیے تاریخ فقہ جعفری کے بارہ سو سالوں کے طویل عرصے میں نہ تو   آجکل کی طرح کوئی اجتہادی کتاب “توضیح المسائل” وجود رکھتی تھی اور نہ ہی کسی خاص مجتہد سے تقلید کرنا واجب تھا اس کے برعکس عقلاء کی سیرت کے بموجب قرآن و سنت آشنا عالموں سے دینی احکام سیکھنے جاتے اس عرصے میں مرجع یا عالموں سے رجوع کا عمل نہایت آسان تھا۔ مکتب تشیع میں اجتہاد کی اس جدید اصطلاح کیلئے کوئی گنجائش نہ تھی یہ "اجتہاد” اور یہ "تقلید” ایک جدید ریت ہے۔ (ص-311)

مندرجہ بالا حقائق کی روشنی میں جناب علی محقق نسب برملا اعلان کرتے ہیں کہ۔۔۔

الف   عقل ومنطق کا تقاضا ہے کہ کسی خاص مجتہد سے تقلید بالکل ضروری نہیں بلکہ ہر مسلمان آزاد و خودمختار ہے کہ وہ کسی بھی مجتہد یا غیر مجتہد (عالم دین) سے (صرف شرعی احکام نماز،روزہ وغیرہ کے سلسلے میں) اپنی کامل اطمینان تک رجوع کرسکتا ہے۔

ب     عقل سلیم کا تقاضا یہ ہے کہ کسی بھی مجتہد سے رجوع و برگشت (ترک کرنا) ہمہ وقت جائز ہے۔ یہ غیر عقلی بات ہوگی کہ کسی خاص شرعی مسئلہ سے متعلق محض ایک سوال پوچھنے کے بعد آپ کو یہ حق نہ ہو کہ اسی مسئلہ یا دیگر مسائل سے متعلق کسی اور عالم سے رجوع کریں ۔ اس کے برعکس آپ ایک مسئلہ کو ہزار مجتہد سے معلومات لیکر انکی یا ان میں سے ایک کی پیروی کر سکتے ہیں اور بعد ازاں انہیں (مجتہدین کو) ترک کرنے میں بھی آزاد ہونگے۔ بالکل اسی طرح جیسے آپ کسئ ڈاکٹر، انجینیئر یا کسی خاص شعبے کے کئی ماہرین سے کسی خاص مسئلے پر اپنی اطمینان کامل کے حصول تک مشورہ کرنے میں آزاد ہیں۔ (ص 42-341)

خمس:ـ              خمس کی تاریخ، جمع آوری اور خرچ کے سلسے میں بھی فاضل مولف کے انکشافات چونکا دینے والے ہیں۔ مثلاً وہ قرآنی آیت المعروف بہ “خمس” پر تفضیلی بحث کے بعد کہتے ہیں کہ اس آیت مبارکہ کا نفس مضمون مال غنیمت کی تقسیم ہے اور دیگر اسلامی مکاتب فکرِ اہل سنت و جماعت کے علماء کا اس پر اتفاق نظر ہیں۔ بعد ازاں  وہ آیت اللہ منتظری کی خمس پر آوردہ چند اعتراضات کا ذکر کرتے ہیں جن میں پہلا اعتراض اس طرح سے ہے “تاریخ اسلام کے پہلے سو سالوں میں (سالانہ) انکم پر “خمس” جمع کرنے پر کوئی توجہ نہیں دی گئی۔ رسول اکرمؐ،  آپکے خلفاء حضرت ابوبکرؓ، حضرت عمرؓ، حضرت عشمانؓ، حضرت علیؑ و دیگر ائمہ کرامؑ حضرت امام  حسنؑ، حضرت امام حسینؑ اور امام سجادؑ نے خمس کو نہ تو واجبات دینی کے ضمن میں کبھی گردانا اور نہ ہی خود انہوں نے اس پر عمل فرمایا”۔ آگے چل کر آقای منتظری کے قول سے مزید لکھتے ہیں “اگر ہم ایک نسل کا دورانیہ (بلوغت کے لحاظ سے) بیس برس میں فرض کرلیں تو اوائل اسلام کی کم از کم پانچ نسلیں خمس کو ایک دینی فریضہ کےطور پر نہیں لیتی تھیں اگر خمس واقعاً ایک اسلامی ٹیکس کے طور پر واجب ہوتا تو حتمی طور پر آنحضرتؐ اور آپ کے خلفاء کی  طرف سے اس کے قواعد و ضوابط مرتب کراکے اس پر باقاعدہ عمل درآمد کرائے جاتے کیونکہ زکوۃ  جو کہ ایک واجب اسلامی ٹیکس ہے کی خوب تشہیر بھی ہوئی اور زکوۃ ادا نہ کرنے والوں کو تادیبی اقدامات کا سامنا بھی کرنا پڑا، نیز یہ کہ اس وقت اس نوزائیدہ اسلامی حکومت کو خمس کی آمدنی کی اشد ضرورت بھی تھی۔ (ص 83-382) گرچہ آیت اللہ منتظری نے محض قیاس کی بنیاد پر مندرجہ بالا اہم اعترضات کا جواب دینے کی کوشش کی ہے مگر علی محقق نسب نہایت مدلل و منطقی انداز میں اسے غیر تسلی بخش قرار دیتے ہیں ( ملاحظہ ہو ص 384 تا 387) لیکن خمس سے متعلق اس طرح کے کئی سوالات اٹھانے کے باوجود وہ خود ائمہ ؑمتاخرین کی روایتوں کے رو سے اسے فی زمانہ واجب قرار دیتے ہیں؟ (صفحہ 390) ۔

بہر حال اب جبکہ خمس واجب قرار پایا ہے تو ذرا اسکے استعمال سے متعلق فتوؤں کا جائزہ مولف کے قلم سے لیتے ہیں جس نے  آقای منتظری کی تحقیقات کا حوالہ پیش کرتے ہیں جس کے رو سے اس ضمن میں 17 نکتہ ھای نظر یا فتوے سامنے آتے ہیں (جن میں چند از حد مضحکہ خیز ہیں مضمون نگار) مثلاً

  1. شیخ مفید (413-336ھ) کا فتوی ہے کہ تمام خمس کی رقم جمع ہو کر ایک امانت دار مومن کی سپرد ہو اور اسکی وفات پر کسی اور مومن اور ۔۔۔۔۔۔ اور حتیٰ کہ یہ تمام رقم بالاخر امام زمانہؑ کے ظہور پر اسکی سپرد کی جائے۔
  2. بعض علماء جیسے سلار دیلمی متوفی 463 ھ۔ فاضل خراسانی، ملا محمد باقر سبزواری متوفی 1090 ھ اور کئی اخباری علماء کا عقیدہ ہے کہ غیبت امام زمانؑ کے دوران خمس دینا سرے سے واجب ہی نہیں ہیں۔
  3. جبکہ بعض دانا عالموں نے اسے خفیہ دفن کرنے کا فتویٰ دیا ہے تا کہ ظہور امامؑ ہونے کے بعد آپ خود انہیں نکال کر مصرف فرمائیں ۔۔۔؟ (دفینہ اگر نوٹ کی صورت ہو تو اس کا اللہ ہی حافظ) (صفحہ 409)

17ویں نظریہ کے متعلق مولف لکھتے ہیں کہ “سب سے بہترین و منطقی نظریہ وہی ہے جسے آیت اللہ خمینی ؒ  (کتاب البیع ج 2 صفحہ495) و آیت اللہ منتظری خود پیش کرتے ہیں اور جسکی ،موجودہ ایرانی رہبرآقای خامنہ ای احتیاط کی شرط کے ساتھ تائید بھی کرتے ہیں۔ اس نظریے کے مطابق “خمس در حقیقت ایک اسلامی ٹیکس ہے جسکی جمع آوری و استعمال کا حق اسلامی حکومت کے سربراہ کو حاصل ہے”اس ضمن میں علی محقق نسب کی نتیجہ گیری انتہائی اہمیت کی حامل ہے جو کہ درج ذیل ہیں:-

الف-  خمس نہ سادات اور نہ ہی امامؑ کا ہے بلکہ ایک طرح کا اسلامی ٹیکس ہے جسے انتظامی امور کی انجام دہی اور معاشرے کی فلاح و بہبود کیلئے لاگو کیا گیا ہے۔

ب     خمس اسلامی بیت المال کے ذرائع آمدن کا ایک ذریعہ اور دیگر ٹیکسوں کی طرح سوسائٹی کی ملکیت ہے۔ جسے حاکم وقت جمع کرواکے درست کاموں میں استعمال کرتے ہیں۔

ج      چنانچہ جس طرح ہر سوسائٹی کیلئے حکومت کی موجودگی ضروری  ہے اور حکومت مالی وسائل کے بغیر نہیں چل سکتی پس کوئی اسلامی حکومت بھی اس سے مستثنیٰ نہیں۔

د       اب یہ اسلامی حکومت کے سربراہ کا فرض ہے کہ وہ ان تمام محصولات (زکوۃ، خمس وغیرہ) کو میرٹ کی بنیاد پر زیر استعمال لایں۔

ھ      چونکہ ہر حکومت کو مالی وسایل کی ضرورت ہیں لہذا حکومت کی اجازت کے بغیر خمس کی رقم باہر بھیجنا جائز نہیں۔

کیونکہ

۱۔ جس طرح A حکومت کو رقم کی ضرورت ہے  B  حکومت کو بھی اتنی ہی ضرورت ھے۔

۲۔ اللہ تعالیٰ نے کسی قوم کیلئے جائز قرار نہیں دیا ہے کہ وہ غیر ممالک یا اقوام کو محصولات (خراج یا جزیہ) دیں بلکہ یہ بات روز روشن کی طرح عیاں ہے کہ اگر قومیں حاکمیت ، شہریت، رہبریت اور سیاسی و اجتماعی مفادات میں ایک دوسرے کے شریک نہ ہوں تو پھر بیت المال میں بھلا کس طرح شریک ہو سکتی ہیں۔(صفحات 416 تا 419)۔

خمس کے استعمال کے رائج الوقت طریقے

جیسا کہ ہمیں معلوم ہے کہ فی زمانہ اکثر مجتہدین یا انکے نام نہاد ایجنٹ مختلف طریقوں اور حربوں سے مالدار شیعہ افراد سے خمس کی پوری رقم (سالانہ آمدنی کا پانچواں حصہ) لیکر  اس کا نصف حصہ چند انگشت شمار سادات میں حاتمانہ سخاوت سے تقسیم فرماتے ہیں اور بقایا نصف میں سے بھی ایک خاص پرسنٹیج  (%) اپنے پاس رکھ کر (گویا پاکستان کی طرح صوابدیدی اختیار) باقی رقم ایران، عراق اور شام جیسے مالدار ملکوں کے ارب پتی مجتہدین (بلاشک) کو ارسال کرتے ہیں۔ اب ماشاءاللہ ہمارے جید مجتہدین کی اکثریت اس خطیر شیعی اسلامی ٹیکس کو کس طرح زیر استعمال لاتے ہیں یہ المناک داستان بھی جناب محقق نسب کی زبانی سنتے ہیں۔ یہاں یہ بتاتا چلوں کہ مؤلف کا یہ انکشاف کسی طرح ایٹمی دھماکہ سے کم نہیں کہ مجتہدین حضرات کی ایک بڑی تعداد خود یہ رسائل   (توضیح المسائل) لکھنے کی زحمت نہیں کرتیں بلکہ اسے اپنے شاگردوں یا دیگر لکھاریوں ( شاید پیشہ وروں) سے لکھواکر آخر میں محض طائرانہ نظر سے (کم فرصتی کی وجہ سے ) رنجہ فرماکر فی الفور مہر تصدیق ثبت فرماتے ہیں (صفحہ 294)۔ کئی درجن مختلف الادوار توضیح المسائل کو اگر سامنے رکھا جائے تو فاضل مؤلف کا یہ کہنا اس طرح صد فیصدی سچ نظر آتا ہے کہ انکی نوے فیصد سے زائد جملہ بندیاں یکساں ہوتی ہیں (یعنی نقل بہ مطابق اصل) اور شاید یہ چند فیصدی فرق بھی محض بھرم رکھنے کی خاطر روارکھا جاتا ہے؟ یوں مرجع و آیت اللہ کا ٹائٹل اختیار کرکے پوری دنیا سے خمس کا پیسہ بٹورنے کا بلا منازعہ حقدار بن جاتے ہیں ( ممکن ہے چند ایک مستثنیٰ ہو)

بہر کیف فاضل مؤلف کی تحقیقات کے مطابق جدید تاریخ میں جاری سیکولر دور حکومت میں خمس کی رقم کسی مجتہد کے پاس رقم جمع کرنے کی ریت سید ابراہیم قزوینی کے دور سے ہوئی (ایک وسیع و منظّم کمپین کے نتیجے میں) جسے بعد ازاں شیخ حسن نجفی متوفی 1266 ھ اور شیخ انصاری متوفی 1281 ھ کی کوششوں نے ریت سے بہت آگے بڑھا کر ایک دینی واجبی فریضے کی حیثیت دی (صفحہ 448) اس طرح اس نو وارد فریضہ دینی کی عمر بمشکل ڈیڑھ دو سو سال ہی ہے۔ اب یہ ممکن ہے ان صدیوں میں چند خدا ترس حضرات اس رقم کو ایک مقدس امانت سمجھ کر استعمال کرتے ہونگے اور اب بھی کر رہے ہوں تا ہم “گرگ میش نما” افراد کی تعداد بہر حال ہمیشہ زیادہ ہی رہی ہیں۔ بقول فاضل مؤلف اس لوٹ مار کے خلاف بعض حضرات جیسے آیت اللہ شاہرودی ، آیت اللہ حجت، آیت اللہ خوانساری، آیت اللہ باقرصدر و غیرہ نے آواز اٹھائیں لیکن "نقار خانے میں طوطے کی آواز” ثابت ہوئی (صفحہ 451) اور وقت کے ساتھ ساتھ اس بہتی گنگا میں عیش کی ڈبکیاں لگانے والوں کی تعداد بڑھتی گئی مؤلف، آیت اللہ آذری قمی کے حوالے سے اس لوٹ مار کی تفصیل بیان کرتے ہوئے لکھتے ہیں کہ :

۱ ۔ خمس کی امانت کا ایک  بڑا حصہ بے قاری توضیح المسائل کی چھپائی کی نذر ہوجاتا ہے جو کہ بعد ازاں ردی میں تبدیل ہوتے ھیں۔

۲ ۔ ایک موٹی رقم مراجع حضرات کے حاشیہ نشین چمچے ہضم کر جاتے ہیں۔

۳ ۔ دینی علوم حاصل کرنے کے نام پر ہزاروں مفت خوروں کی عمر بھر کی دیاڑیاں لگتی رہتی ہیں اور ماشاءاللہ یہ تشنہ گان علم ہمیشہ تشنہ (جاہل) ہی رہتے ہیں۔ فاضل محقق اس شرمناک فہرست میں مزید اضافہ کرتے ہوئے لکھتے ہیں کہ ”بہت سے مراجع حضرات خفیہ طور پر بڑی بڑی رقم (خمس سے) کی سرمایہ کاری کرتے ہیں جو کہ انکی وفات کے بعد براہ راست انکے وارثوں کو وراثت میں منتقل ہو جاتی ہیں۔ نیز بعض دور اندیش مجتہدین (مندرجہ فراڈی طریقے سے) اپنے فرزندوں کو مجتہد ڈیکلر فرما کر یہ بہتی گنگا ان کے حوالے کردیتے ہیں۔ (صفحہ 477)

اب جناب علی محقق نسب کا ایک دلچسپ تبصرہ کہ “سالوں بعد جب ایرانی مرکزی بینک میں 123 ارب تومان کا غبن سامنے آیا تو ہر طرف شور و غوغا بر پا ہوا حالانکہ دوسری طرف ہمارے دینی مدرسوں میں براجمان نمائندہ امام زمانہؑ، حاکم شرع مقدس ، تقدس اور عدالت کے دلفریب لبادے  اڑھنے والوں کے سامنے  یہ غبن ایک معمولی اور عام سی بات ہے (صفحہ 475) یا للعجب!!!

اور آخر میں

مندجہ بالا تمام تلخ اور افسوسناک بلکہ شرمناک حقائق کی روشنی میں فاضل محقق یہ منطقی اور نہایت مدلل نکتہ، خمس کے صحیح استعمال سے متعلق دیتے ہیں

"وہ شیعہ افراد جن کے ہاں اسلامی حکومت نہیں یا انکے حکمرانِ عادل نہیں ، انہیں چاہئیے کہ وہ اپنے ہاں عادل اور ایماندار اشخاص پر مشتمل ایک کمیٹی تشکیل دیکر اپنی وجوہات شرعیہ (خمس، زکوۃ) انکے پاس جمع کرائیں اور ان کے درست طریقہ استعمال سے متعلق ایک مکمل دستورالعمل بناکر انہیں اجتماعی مفاد کے کاموں میں زیر استعمال لائیں اور کسی اور کو یہ حق نہ دیں کہ وہ انکی اس حق حلال کمائی پر آقائی کریں چاہے وہ بہت بڑا فلسفی، علامہ دہر، کئی رسائل (توضیح المسائل) یا کتابوں کا مصنف ہی کیوں نہ ہوں” (صفحہ 484) ۔

قارئین کرام! آج یہ دردناک تلخ حقیقت ہم سب کے سامنے ہے کہ گذشتہ چودہ، پندرہ سالوں کے دوران کرائے کے تکفیری، دھشت گردوں کے ہاتھوں ھمارے ھزاروں بے گناہ لوگ شہید یا عمر بھر کیلئے معذور ہوگئے ہیں جسکی وجہ سے ھزاروں گھرانے  “نان شبینہ” کے محتاج بن گئے ہیں ان حالات میں کیا ھمارے لئے دینی اور ملی لحاظ سے واجب نہیں ہوا کہ نہ صرف خود بلکہ اپنے دیگر بھائیوں کو بھی جناب آیت اللہ محقق نسب کی اس ھدایت کے تحت اپنے تمام شرعی واجبات (خمس ، زکو ٰۃ، فطرانہ  اور نذرات) اپنے ہاتھوں یا قابل اعتماد افراد یا اداروں کے ذریعے اپنے ہی مستحق افراد میں تقسیم کرنے کیلئے عملی اقدامات اُٹھائیں۔یادرہے کہ شرعی لحاض سے یہ ھم پرواجب بھی ھیں۔

کمپوزر- ارباب نسیم

 

 

 

Leave A Reply