آزرگی اکیڈمی کویئٹہ کے زیر اھتمام مادری زبانوں کے عالمی دن کی تقریب

0

تحریر- امان التائی

3 مورخہ 21فروری 2015 کو ھزارہ ٹاون کویئٹہ میں آزرگی اکیڈمی کے زیر اھتمام مادری زبانوں کے عالمی دن کی مناسبت سے ایک شاندار تقریب ھوئی جس میں خواتیں و حضرات سمیت لوگوں کی ایک بڑی تعداد نے شرکت کی اس تقریب کے مہمان خصوصی ھزارہ ڈیموکرٹک پارٹی کے سیکریٹری جنرل اور سابق علاقہ ناظم جناب احمدعلی کہزاد تھے۔ یہ تقریب درج ذیل تین حصوں پر مشتمیل تھی:ـ

الف۔ مقالات- پہلے مرحلے میں جناب مصطفیٰ ایلخانی نے مادری زبان کی اھمیت، جناب مشتاق مغُل نے زبان کی تاریخ اور جناب قادرنائیل نے ھزارہ گی زبان کے پس منظر اور آزرگی اکیڈمی کی علمی 5سرگرمیوں پر روشنی ڈالی۔ قاد نائیل نے کہا کہ علمِ زبان شناسی اور تاریخی لحاظ سے یہ حقیقت ثابت ھوچکی ھے کہ ھزارہ گی ایک جداگانہ مکمل زبان ھے جیسے ماضی میں غیر علمی اور سیاسی بنادوں پر دری زبان کی ایک بولی لکھ کر نظراندازکرنے کی دانستہ کوشیش کی گئی ھیں۔ اب جبکہ ھزارہ گی کو بین الاقوامی زبانوں کے مرکزکی طرف سے ایک جداگانہ زبان کی حیثیت سے تسلیم کی گئی ھے تو ضرورت اس بات کی ھے کہ ھماری نوجوان نسل آگے بڑھکر اسکومزید وسعت اور شناخت دیں۔ تقریب سے خطاب کرتے ھوے مہمان خصوصی جناب احمدعلی کہزاد 8نے اس امر پرخوشی کا اظہار کیا کہ آج ھزارہ قوم زند گی کے دیگرشعبوں کی طرح علم و ادب اور خاص طورپر ھزارہ گی زبان کے شعبے میں بھی آگے آرھی ھیں۔ جناب کہزادنے کہا کہ یہ بات یقینی ھے کہ کوئی قوم زبان کے بغیر حقیقی معنوں میں قوم نہیں بن سکتی لہذا نوجوان نسل کو اس طرف ضرور آنا چاھیے۔ انہوں نے زور دیکر کہا کہ دنیا کوئی زبان مقدس یا نا مقدس نہیں ھوتی۔ ھاں علمی لحاظ سے جن زبانوں میں زیادہ تحقیقی کام انجام پاے ھیں وہ بڑی زبانیں کہلاتی ھیں۔

ب- شعرگوئی- دوسرے مرحلے میں درج ذیل شعراء نے ھزارہ گی زبان میں اپنا تازہ کلام پیش کیا جیسے حاضرین نے کافی سراہا۔99

عوض علی تورانی
امان آلتایی
ذبیح حیدری
سائسه باتور
صوفیه وفا
مصطفی ایلخانی
عاصی محبوب
خداد خان آزره
نثار احمد کهزاد
رازق کهزاد
ماسٹر مشتاق مغول
جواد آزره
رازق باتور
مهدی هنریار
عزیز فیاض

96ت- محفل ھزارہ گی دمبورہ۔ تیسرے مرحلے میں معروف نوجوان ھزارہ ھنرمند جناب ضیاء سلطانی نے اپنی خوبصورت آواز کے ساتھ خوبصورت ھزارہ گی دوبیتیوں کو ھزارہ گی دمبورے کے ساتھ پیش کرکے محفِل لوٹ لی۔ اس طرح یہ خوبصورت شام اختتام پذیرھوئی جو تادیر یادگاررھیگی۔4

Leave A Reply