امدادی اداروں میں باھمی رابطہ، وقت کی اھم ترین ضرورت

0

تحریر: اسحاق محمدی

بلاشبہ گذشتہ کئی دھائیوں سے پاکستان خاص طورپر پختونخوا اور بلوچستان صوبے ایک بین الاقوامی طوفان کی زد پر ھیں جسمیں ایک شدید ترین متاثرین میں بلوچستان میں ڈیڈھ سو سال سے آباد ھزارہ قوم بھی شامل ھے۔ اب اس طوفان کے اسباب و علل پر جائے بغیر یہ کہنا ھے کہ عقل سلیم اور فطری قوانین کا تقاضا تھا اور ھےکہ ھم حتی القدور اس طوفان بلاخیز سے اپنے آپکومحفوظ رکھنے کی کوشش کرتے۔اس صورت میں یقینی طورپریہ نقصانات آجکے مقابلے میں ھر لحاظ سے بہت کم ھوتی لیکن بدقسمتی سےسیاسی "ملاوں” نے مذھب کی آڑ لیکراسے حق و باطل کا معرکہ بنا دیا اورلوگوں سے ھوش چھین کر انھیں جوش کی وادی میں دھکیل دیا جسکے سبب، ھزارہ قوم کو بھاری جانی مالی سمیت دیگرنا قابل تلافی نقصانات برداشت کرنا پڑی اور اگر صورتحال یہی رھی تو مزید کرنا پڑیگی۔ حالانکہ یہ حقیقت روز روشن کیطرح واضح ھے کہ یہاں نہ تو مکہ و مدینہ کو کفار سے بچانے کا فریضہ ھے اور نہ ھی نجف و کربلا و دیگر مقامات مقدسہ کوجھاد کے ذریعے فتح کرنے کی بات ھے۔یہاں صرف اس طوفان سے اپنے آپکوبچاناھے لیکن چونکہ ھم مجموعی طورپر فطرت اور فطری قوانین یعنی الہی قوانین (کیونکہ یہ فطری قوانین اللہ تعالی ھی کے بنائے ھوئے ھیں) کی خلاف ورزی کے مرتکب ھوے لہذا اسکا خمیازہ بگتنا ھی پڑیگی۔ چنانچہ اب صورتحال ایک تلخ حقیقت کی صورت اس طرح سے ھے کہ گذشتہ پندرہ سالوں کے دوران، خوارج دھشتگردوں کے ھاتوں ھمارے :-
1۔ 1500 سے زائید لوگ شہید ھوے ھیں۔uu
2۔ 3500 سے زائید لوگ زخمی ھوے ھیں جنکی ایک بڑی تعداد کوھمیشہ کیلئےمعذوری کاسامناھیں۔
اسطرح گویا کوئٹہ کی ھزارہ آبادی پر ان ھزاروں متاثرین کی تمام تر اقتصادی،تعلیمی اور سماجی مسائل کو ایک لمبے عرصے تک حل کرنے کی بھاری ذمہ داریاں آن پڑی ھیں۔ اگرچہ ان ذمہ داریوں کو نبھانے کیلئے کئی تنظیمیں میدان عمل مٰیں ھیں لیکن ایک تو ان میں باھمی رابطوں کا فقدان ھےجسکی وجہ سے امداد کے ایک قابل ذکرحصے کا ضیاع ہورہاھے اور دوسرا انکےکام کرنے کے انداز سے صاف دیکھ رھا ھے کہ انھیں اس کام کی گہرائی،وسعت اور طویل المدتی کا کما حقہ ادراک نھیں یا پھر ممکن ھے کہ پے درپے بڑےبڑے اندوھناک سانحات کیوجہ سے انھیں اسطرف توجہ دینے کی فرصت ھی نھیں ملی ھو۔ بحرحال اگرانھیں اپنی اجتماعی ذمہ داریوں کا احساس ھیں اور اپنے عمل میں مخلص ھیں تو اسطرف توجہ دینے کی اشد ضرورت ھے ورنہ انکی اس غفلت کا خمیازہ ھزارہ قوم کو بگتنا پڑیگی جیسے تاریخ اور آنے والی نسلیں کبھی معاف نھیں کریگی۔ ھمیں یہ تلخ حقایق پیش نظر رکھنی چھاھیئے کہ:-
الف۔ بالفرض اگر دھشتگردی کا یہ سلسلہ رک بھی جاے تو پھر بھی ان ھزاروں متاثرین کے بچوں کوانکے پاوں پر کھڑا کرنے کیلئے کم از کم ایک عشرہ جبکہ بےوارث خواتین بطورخاص بیواوں کو کئی عشروں تک امدادرسانی کی ضرورت ھیں۔
ب۔ وقت گذرنےکےساتھ ساتھ عطیات کے حجم میں کمی آتی رھیگی جبکہ افرادزر کی وجہ سے امدادرسانی کی شرح بڑھتی جائیگی۔
ایسے میں حالات کی نزاکت کا تقاضاھے کہ یہ تمام امدادی تنظیمیں اپنے تمام اختلافات کو بالاے طاق رکھکر باھمی رابطوں کا ایک فول پروف میکینزم کوآرڈینشن کمیٹی کی فوری تشکیل کریں جسکے تحت:-
– امدادی کاموں کی شعبہ بندی کریں۔مثلا لاوارث خاندانوں کا شعبہ، تعلیم کا شعبہ،ھنرسکھانے کا شعبہ، متاثرین کی نفسیاتی و سماجی مسایل کے حل کا شعبہ وغیرہ وغیرہ۔
– ھر آرگنائزیشن ایک ھی شعبے کی ذمہ داری لے جس سے ایک طرف امدادی رقوم کے ضیاع کو روکنے میں مدد ملیگی جبکہ دوسری طرف انکی مجموعی کارکردگی بھی کھل کر سامنےآئیگی جس سے کام کی شفافیت پر نظر رکھنا ممکن ھوجایگی۔
– جیسا کے عرض کیا گیا کہ وقت گذرنے کے ساتھ ساتھ عطیات کے حجم میں کمی کا آنا یقینی ھے لہذا اس کمی کو پوراکرنے کرنے کی غرض سے دو طرح کے اقدامات،مناسب فوائد لا سکتےھیں۔ جسمیں سب سے اھم اپنے لوگوں کو اسطرف راغب کرنا کہ وہ اپنی شرعی وجوھات جیسے خمس، زکوۃ، فطرات، نذرات بطورخاص ماہ محرم الحرام کے دوران دیئے جانے والےبھاری نذرات کو اس عظیم نیک مقصد کیلئے ان امدادی اداروں کودیں جبکہ دوسراعام لوگوں کے کم مقدار مگر روزانہ بنیادوں پر دیجانے والےعطیات کواکٹھا کرنے کیلئےایک مناسب اورشفاف میکینزم کا بنانا شامل ھیں۔یاد رھے کہ دنیا کے چند بڑے خیراتی اداروں جیسے "ون سینٹ ڈونیشن” اور پاکستان میں چھیپا (ایک روپیہ عطیہ) ایسے ھی بظاھر حقیر عطیات کے بل بوتےپرقائم ھیں۔
یہ حقیقت پیش نظر رھے کہ مندرج بالا اقدامات کی کامیابی اس وقت تک ممکن نہیں جب تک ان اداروں پر عوام کا اعتماد قائیم نہ ھو یہ "عوامی اعتماد” ان اداروں کی کارکردگی اور انکی شفا فیت سے ھی ممکن ھے جبکہ "کارکردگی اور شفافیت” بغیر تقسیم کار اور تقسیم کار، بغیر باھمی کوآرڈینشن کے ممکن نہیں۔ یہ بھی یاد رھے کہ ان ھزاروں متاثرین کی بحالی کے بغیر ھم کبھی بھی من حیث القوم طرقی، خوشحالی، عزت و شرف کا تصور بھی نہیں کرسکتے۔
آخر میں دو نکات کی طرف ایک بارپھر اشارہ کرنا ضروری ھے کہ :-
الف۔ "بے وارث خاندانوں” کی سماجی اور نفسیاتی مسائل کی طرف توجہ دینا اتنا ضروری ھے جتنا انکا "نان و نفقہ” ورنہ اجتماعی اخلاقی لحاظ سے سماج گراوٹ کا شکار ھوکر تباہ و برباد ھوجایگا۔
ب۔ متاثرہ خواتین کو فنی تربیت یعنی "ووکیشنل ٹرینگ” کے ذریعے خود اپنے پاوں پرکھڑا کرنا زیادہ مشکل کام نھیں اسطرح انھیں معاشرے میں ایک معزز مقام دلا کر اس اجتماعی بوجھ کو مزید کم جا سکتا ھے۔
فرض کریں ھمارے یہ ادارے پھر بھی بے حسی کا مظاھرہ کرتےھوے یوں ہی قوم کی تقدیر سے کھیلتے رھینگے تو۔۔۔۔!! تواسکا سادہ سا جواب پھر ھمارے سول سوسایٹی کے حلقوں کوآگے آکر اپنافعال رول ادا کرناپڑیگا جنکا شمار خوش قسمتی سے صوبہ بلوچستان کیا پورے پاکستان میں سب سے زیادہ متحرک حلقوں میں ھوتےھیں۔

Leave A Reply