غور صوبہ میں 15ہزارہ مسافروں کے بہیمانہ قتل عام اور ہزارہ قوم کی نسل کشی کے خلاف ہزارہ ٹاؤن میں احتجاجی جلسہ عام

0

سانحہ غور ہزارہ قوم کی منظم نسل کشی ہے، افغان حکومت سے سانحہ کے ذمہ داروں کے خلاف سخت کاروائی اور عوام کے جان ومال کو تحفظ فراہم کرنے کا مطالبہ10553470افغانستان کے صوبہ غور میں 15ہزارہ مسافروں کے بہیمانہ قتل عام اور ہزارہ قوم کی نسل کشی کے خلاف ہزارہ ٹاؤن میں سول سوسائٹی،سماجی و تعلیمی اداروں ،طلباء تنظیموں کے زیر اہتمام احتجاجی جلسہ عام منعقد ہوا اور سانحہ غور کے شہداء کی یاد کیلئے شمعیں جلائی گئی۔اس موقع پر مظاہرے کے شرکاء سے ہزارہ ڈیمو کریٹک پارٹی کے مرکزی سیکرٹری جنرل احمد علی کوہزاد نے خطاب کرتے ہوئے سانحہ غور کو ہزارہ قوم کی منظم نسل کشی کا تسلسل قرار دیتے ہوئے افغان حکومت سے سانحہ کے ذمہ داروں کے خلاف سخت کاروائی اور عوام کے جان ومال کو تحفظ فراہم کرنے کا مطالبہ کیاانہوں نے کہا کہ سانحہ غور کسی قسم کی فرقہ واریت نہیں بلکہ یہ واقعہ افغان حکومت کی نا اہلی اور مذہبی انتہا پسندوں کی سرپرستی کرنے کی وجہ سے رونما ہواہے۔گزشتہ چند سالوں سے افغان حکومت ایسے قیدیوں کو رہا کرتی چلی آرہی ہے جن کا کردار افغانستان حکومت کے ساتھ مخا صحانہ چلی آرہی تھی اور جنہوں نے طالبان کی وسطی افغانستان کے علاقوں پر قبضوں کے بعد بڑے پیمانے پر نسلی بنیادوں پر غیر پشتوں اقوام کا قتل عام کیا تھا۔پارٹی رہنما نے کہا کہ آج بھی ہزارہ قوم کے علاقوں میں اجتماعی قبریں دریافت ہورہی ہیں جہاں طالبان مخالف ہزارہ قوم کو قتل کرنے کے بعد ان قبروں میں دفن کرکے اپنے جرائم کو چھپانے کی کوشش کی گئی۔

غور کا واقعہ پہلا واقعہ نہیں بلکہ اس سے قبل بھی افغانستان کے شاہراہوں پر ہزارہ مسافروں کو بسوں سے اتار کر ذبح کیا گیا ہے اور انہیں بدترین تشدد کا نشانہ بناکر نسلی و لسانی تعصبات کو ظاہر کی گئی ہے۔انہوں نے کہا کہ غور کے واقعہ میں بزرگوں،معصوم بچوں اور خواتین کے اجتماعی قتل عام کے پس منظر افغانستان کے انتخابات کا بھی عمل دخل ہیں۔بعض قوتیں ہزارہ قوم کی آبادی کو کم ظاہر کرنے اور اسکی اہمیت کو ختم کرنے کیلئے ایسی ظالمانہ سازشوں کا سہارا لیکر اپنی تاریخی حاکمیت کو افغانستان کے محروم اقوام پر مسلط رکھا چاہتی ہیں مگر اب وہ دور گزر چکاہے حالات تبدیل ہوگئے ہیں۔اقوام عالم صرف شیعہ ہزارہ قوم کو افغانستان کا 25فیصد تسلیم کرلی ہے جبکہ سنی اھل حدیث اور اسماعیلی ہزارہ اسکے علاوہ ہیں جنکی آؓادی 10سے 15فیصد تسلیم کر لی ہے۔

احمد علی کوہزاد نے کہا کہ غور واقعہ میں ایک نئے جوڑے کو بھی ظالمانہ طریقے سے شہید کیا گیا ہے جنکی شادی کو بمشکل چند ہفتے ہوچکے تھے۔ظالم اور وحشی دہشت گردوں نے افغانستان اور خطے کی قومی اقدار اور اسلامی روایات کا خیال بھی نہیں کیا۔کہ جس روایات اور اقدار میں خواتین پر ہاتھ اٹھانے اور انسے اونچی آواز میں بات کرنے کو جرم سمجھا جاتاہے وہاں سفاک دہشت گردوں نے نہتے خواتین معصوم بچوں اور بزرگ افراد کے سروں میں گولیاں مارکر اپنے بغض اور عداوت کا اظہار کیا۔انہوں نے کہا کہ اب وقت آچکاہے کہ دنیا بھر کے ہزارہ قوم اپنے قومی شناخت،قومی آزادی اور انسانی حقوق کیلئے آواز بلند کرتے ہوئے ایک قومی وحدت کی تشکیل کیلئے کرداراد اکرنے اور خطے کے دیگر اقوام کے ساتھ برابری کی بنیاد پر روابط قائم کرنے کیلئے متحرک ہوجائیں۔انہوں نے غور کے سانحہ کے شہداء کے لواحقین کے ساتھ دلی ہمدردی کا اظہار کرتے ہوئے افغان حکومت سے واقعہ کے ذمہ داروں کے خلاف فوری کاروائی کا مطالبہ کیا

Leave A Reply