دہشت گردی۔ اسباب، اثرات اور سدباب

0

تحریر:رحمت بہریاب

تمہید:۔

hallدہشت گردی کی اصطلاح کا کینوس بہت بڑاہے۔مثال کے طورپرفی زمانہ دُنیاکے مختلف خطوں اور ممالک میں تین نظریات کے تحت مسلح جدوجہد ہورہی ہیں۔بعض ممالک میں مذہبی بنیاد پر مسلح جدوجہدہورہی ہیں۔ بعض ممالک میں قومیت کی بنیاد پر توبعض ممالک میں لادینی یادوسرے لفظوں میں ترقی پسند یا کمیونزم کی بنیاد پرمسلح جدوجہد ہورہی ہیں۔آج کی اس نشست میں ہم قومی اور لادینی قوتوں کی مسلح سرگرمیوں کو ایک طرف رکھتے ہوئے مذہبی مسلح کاروائیوں کوزیربحث لائیں گے۔ اگرمزیدگہرائی کے ساتھ اس موضوع کو زیربحث لایاجائے تو میں کہونگاکہ مذہبی مسلح کاروائیوں کاکینوس بھی بہت بڑاہے۔ کیونکہ دُنیاکے بڑے مذاہب جیسے عیسایت، یہودیت، ہندومت اور اسلام وغیرہ کے پیروکاروں نے تاریخ کے مختلف ادوارمیں مسلح جدوجہدکیں ہیں اوراُن تمام مذاہب کے پیروکاروں کی مسلح جدوجہداس عنوان کے تحت شمارہونگی۔ لہذا مذہبی مسلح سرگرمیوں میں ہماراموضوع سُخن اسلام ہے۔ لیکن اسلام کے بھی مختلف مکاتب فکرکے پیروکاروں نے تاریخ کے کسی نہ کسی موڑپرمسلح جدوجہدکیں ہیں۔ لہذا اسلام کے اندرہم دوسرے مکاتب فکرکوایک طرف رکھتے ہوئے سلفی مکتب فکر (Salafism)کے پیروکاروں کی حالیہ دہشت گردانہ کاروائیوں کو آج زیربحث لائیں گے۔سلفی اور دیوبند مکاتب فکرکے اتحادسے آج اس قدرمذہبی دہشت گردتنظیمیں وجودمیں آنے کے بعددُنیاکے کئی خطوں میں پھیل چکی ہیں کہ اُن سب کی جنگی حکمت عملیوں اور تزویراتی حملوں کا بغورمشاہدہ کرناایک شخص کیلئے ناممکن نہیں تومشکل ضرورہے۔

مروجہ بین الاقوامی اُصول کے مطابق مسلح جدوجہدایک فریق کے نزدیک دہشت گردی کی حیثیت رکھتی ہے توفریق مخالف کیلئے حُریت و آزادی کی مقدس جنگ۔

وجوہات اور اثرات:۔

آج کی اس نشست میں ہم سلفی اور دیوبندمکاتب فکرکی دہشت گردی کی کاروائیوں کی وجوہات کااگرمجموعی جائزہ لیں تواس موضوع کے پھیلنے کاامکان پیداہوجاتاہے۔سلفی اوردیوبندمکاتب فکرکی مسلح کاروائیوں اور دہشت گردی کے واقعات کومجموعی طورپردوحصوں میں تقسیم کیاجاسکتا ہے۔ ایک حصہ اس پر مشتمل ہے جسمیں یہ مذہبی دہشت گردتنظیمیں دوسرے مذاہب اور مکاتب فکرکودہشت گردی کانشانہ بنارہی ہیں۔جبکہ دوسرا حصہ اس پر مشتمل ہے جسمیں اس خطے کے اہل تشیع کونشانہ بنایاجارہاہے۔ لہذا تنگئی وقت کومدِنظررکھتے ہوئے میں اپنے اس مقالے کواہل تشیع اورہزارہ قوم کے ساتھ رونماہونے والے مذہبی دہشت گردی کی وجوہات اوراثرات پرمرکوزکرناچاہتاہوں۔

اس سلسلے میں پہلاسوال یہ پیداہوجاتاہے کہ اہل تشیع اورہزارہ قوم کے ساتھ رونماہونے والے مذہبی دہشت گردی کے واقعات کا تاریخی پس منظربھی ہے یانہیں؟ جب تک ہم تاریخی پس منظرکاجائزہ نہیں لیں گے تب تک شایدہم صحیح نتیجہ اخذنہ کرسکیں۔

سلفیوں کی دہشت گردانہ کاروائیوں کی وجوہات پرغورکیاجائے توہمیں دووجوہات نظرآئیں گی۔ پہلی وجہ یہ ہے کہ سلفیوں کے مذہبی پیشواؤں اور اماموں نے اپنے پیروکاروں کوایسی کاروائیاں کرنے کیلئے مذہبی طورپرپابندبنایاہے۔آپ سب حضرات اس حقیقت سے باخبرہیں کہ اہل سنت کے چارآئمہ کرام ہیں۔ یعنی امام ابوحنیفہ، امام مالک، امام ادریس شافعی اور امام احمدبن حُنبل۔ ان چارمیں سے آخری امام احمد بن حُنبل نے سب پہلے مسلمانوں کومشرک اورمُرتدقراردیکراُنکے خلاف قتل و قتال کرنے اوراُنکے مال و اسباب کومالِ غنیمت قراردینے کافتویٰ جاری کیاتھا۔ دسویں صدی میں بغداد کے ایوان اقتدارپرجب حُنبلی فرقہ غالب آگیاتھاتواُس دَورمیں اہل تشیع کے مساجد، مذہبی جلوسوں اور رہائشی علاقوں پر آئے دن حملے ہوتے تھے جبکہ ریاست کیطرف سے اُن حملہ آوروں کو مکمل آزادی ملی ہوئی تھی۔ گیارہویں صدی میں حُنبلی فرقہ نے اہل تشیع کیلئے حالات کو اس قدر ناقابل برداشت بنادیا تھا کہ اُنکی طرف سے یہ فتویٰ جاری ہواتھاکہ اہل تشیع کاکوئی فرد کسی نمازِ جماعت کاپیش امام نہیں بن سکتا۔ اسی طرح اہل تشیع کا ذبح کیاگیاحلال جانور کا گوشت اہل سُنت کیلئے کھاناحرام قراردیاگیاتھا۔ حُنبلی فرقہ اس بات پر یقین رکھتاہے کہ اہل تشیع اسلام کیلئے عیسائیوں اور یہودیوں سے بھی زیادہ خطرناک ہے۔

امام احمدبن حُنبل کا ایک پیروکارجو امام ابنِ تیمیہ کے نام سے تاریخ میں مشہورہے، اپنے ہی مسلمان بھائیوں کے خلاف جنگ وجدل کے اس فتویٰ کومزیدپھیلایااوراسلام کے اندرفرقہ وارانہ قتل و قتال کی آگ کو مذہبی لبادہ پہنایا۔امام ابن تیمیہ کی کئی جلدوں پر مشتمل کتاب منہاج السنہ النبوۃمیں اہل تشیع کے عقیدے کو غلط ثابت کرنے کیلئے کئی اقسام کی الزام تراشیاں کی گئیں ہیں۔امام احمدبن حُنبل اور امام ابن تیمیہ کے بعداسی مکتب فکرکاایک اور مشہورمذہبی پیشوامحمدبن عبدالوہاب تھاجواپنے پیشرو اماموں سے بھی کئی قدم آگے نکل گیا۔ امام احمدبن حنبل سے لیکرامام محمدبن عبدالوہاب تک ان تینوں اماموں کی تبلیغات کا مرکز سعودی عرب رہاہے جسکانتیجہ اسطرح ہمارے سامنے آجاتاہے کہ ایک مغربی محقق اور مصنف پیٹرتھیراکس اپنی کتاب دی اسٹرینج ڈِس اپئیرنس آف مُوسیٰ الصدرمیں رقمطراز ہے کہ آجکل سعودی عرب کی یونیورسٹیوں کی درسی نصاب میں باقاعدہ طورپراس موضوع کوزیربحث لایاجاتاہے کہ اہل تشیع کا دُم بھی ہے۔جبکہ ایک اورامریکی محقق و دانشورپروفیسرڈاکٹرولی نصرکی تحقیق کے مطابق سعودی عرب میں یہ افواہ حقیقت کی شکل اختیارکرچکا ہے کہ اہل تشیع جب دوسرے مکاتب فکرکے افرادکواپنے ہاں مہمان بناتے ہیں تواُنکے کھانوں میں تھوکتے ہیں۔ اسی طرح اُن میں یہ بھی مشہورہے کہ اہل تشیع سے ہاتھ ملانے سے انسان ناپاک ہوجاتاہے لہذااپنی اس ناپاکی کودُورکرنے کیلئے وضولیناضروری ہوجاتاہے۔ پھرمصنف خودنتیجہ اخذکرتے ہوئے لکھتاہے کہ اس مذہبی تعصب کامقصد اہل تشیع اوردوسرے مکاتب فکر کے درمیان سماجی و مذہبی روابط کوختم کرناہے۔

حُنبلی فرقہ کی ایک خاص حکمت عملی یہ ہے کہ کسی بھی ملک میں اپناپاؤں جمانے کیلئے ابتدامیں یہ ریاستی حکام کی قربت حاصل کرتے ہیں۔ریاستی حکام پراپناغلبہ قائم کرنے کے بعدیہ دوسرے مکاتب فکرکے پیروکاروں کوواجب القتل قراردیکرریاستی طاقت کواُنکے خلاف استعمال کرتے ہیں۔اس ضمن میں اگرہم تاریخ کیطرف رجوع کریں تو اس مکتب فکرنے کئی مرتبہ دوسرے مکاتب فکرکے خلاف ریاستی طاقت استعمال کی ہے۔تاریخ کی کتابوں میں معتزلہ فرقہ بھی ہوگزراہے جسکے خلاف حُنبلی فرقہ نے ریاستی طاقت استعمال کرکے اُنہیں اس قدر تہہ تیغ کیاکہ آج اسکاکوئی وجودنہیں ہے۔ اسکے بعد اس حُنبلی فرقہ نے ریاستی طاقت کے بل بُوتے پراہل تشیع کے خلاف اسی قسم کی تادیبی اقدامات کئے۔ اہل تشیع اور انکے اماموں کے خلاف قتل و قتال کاسلسلہ اس قدر شدت کے ساتھ روارکھاگیاکہ اہل تشیع کے امام اور امام زادے سرزمین عرب ہی میں قتل نہیں کئے گئے بلکہ فارس، خراسان اور ہندکے وسیع علاقوں تک اُنکا پیچھاکرکے ُان سرزمینوں کو بھی اُن پر تنگ کردیاگیا۔ آپ افغانستان کے شمالی صوبہ مزارشریف جائیں توسرِپُل کے مقام پر، لاہورجائیں تو بی بی پاکدامن اور کراچی جائیں تو شاہ عبداللہ غازی کے مزارات اسی سلسلے کی کڑیاں ہیں۔ ماضی میں اہل تشیع کے اماموں اور امام زادوں کے ساتھ ساتھ اُنکے پیروکاروں کے خلاف بھی ظلم و جبرکی انتہاکردی گئی تھیں۔ تاریخ کی کتابیں شاہدہیں کہ ظلم و جبراورقتل و قتال کے واقعات کی بہتات سے جب عباسی خلیفہ ہارون الرشید مطمعین ہوکراپنے مشیرخاص سے سوال کیاکہ اب تو ہمارے اقدامات کے باعث اہل تشیع نابُودہوچکے ہونگے تو چالاک مشیرنے جواب میں کہاکہ اہل تشیع تتربترہوکرکم ضرورہوئے ہیں لیکن بالکل ختم نہیں ہوئے ہیں۔ جان و مال کے خوف کیوجہ سے اہل تشیع اپنی شناخت چھپانے کی پالیسی اپنائی ہوئی ہے جسے وہ تقیہ کانام دیتے ہیں۔مشیرنے خلیفہ کوکہاکہ اگرآپ چاہتے ہیں کہ کسی شیعہ کو پہچان لیں تو میرامشورہ ہے کہ اپنے دارالامارہ سے کچھ فاصلے پر ایک بڑاگھڑا کھدوائیں اور اُس گھڑے میں ایک لہو لہان ذخمی شخص کو ڈال دیں تاکہ وہ لوگوں سے مددکی التجاکرتارہے۔اُسکی حالت پر ترس کھاکر اُسے گھڑے سےنکالنے کیلئے آگے بڑھنے والاشخص جوبھی ہوگا اسکاتعلق اسی فرقہ سے ہو گا۔خلیفہ نے اپنے مشیرکے منصوبے پر من و عن عمل کیااورنتیجہ بھی وہی برآمدہواتھا۔اس تاریخی واقعے کے بعد میں یہاں اہل تشیع کے تقیہ کے حوالے سے ایک مرتبہ پھرامریکی مصنف پروفیسرڈاکٹرولی نصرجوامریکہ کی یونیورسٹی میں پروفیسرہی نہیں بلکہ ایک امریکی تھنک ٹینک کارُکن بھی ہے، اُنکاواقعہ بیان کرناچاہونگا۔ اُنکاکہناہے کہ وہ اپنے ریسرچ کیلئے پاکستان آکراہل سنت کے ایک بڑے عالم دین کاانٹرویوکررہاتھاجوایک بنیادپرست اورکٹرشیعہ مخالف تھا۔ موضوع بحث کے متعلق اہل تشیع کے تقیہ کے متعلق جب ایک ضمنی سوال کاجواب دیاتواُس عالم دین نے اُسے اپنانام ظاہرنہ کرنے کی شرط پر بتایاتھاکہ اُسکے آباؤ اجدادبھی ماضی میں شیعہ تھے۔ظلم وجبرسے بچنے کیلئے اُسکے آباؤ اجدادنے ایک لمبے عرصے تک تقیہ کرنے پرمجبورہوئے تھے۔ایک لمبے عرصے تک مکمل تقیہ کرنے کے بعدآہستہ آہستہ وہ اوراُسکاخاندان سُنی ہوگئے۔اس شعبے کے ماہرین اسلام میں اہل تشیع اوریہودی مذہب کاایک فرقہ جوIberian Jews کے نام سے مشہورہے کاتقابلی جائزہ لیاہے۔ان دونوں فرقوں میں ایک چیزمشترک پائی جاتی ہے اوروہ ہے تقیہ۔ چونکہ دونوں کی تاریخ ظلم و جبرکے واقعات سے بھری پڑی ہیں لہذاان دوفرقوں کو اپنے عقائد کوبچانے کیلئے تقیہ پرمجبورکئے گئے۔

اہل تشیع جس قومیت سے تعلق رکھتے تھے اورجہاں آبادتھے اُنکے خلاف ریاستی طاقت اورمذہبی ہتھیارکااستعمال کرکے اُنہیں جب کافی و شافی نقصانات سے دوچارکرتے ہوئے اتناکمزوربنادیاگیاکہ خلفائے وقت اوراُنکے جانشین حکمرانوں کیلئے اہل تشیع کاوجودکسی قسم کاخطرہ نہیں بن سکتاتھاتو اُن حکمرانوں کا آپس میں ایک دوسرے کے خلاف پنجہ آزمائی اُنکی ملکی پالیسی کی فہرست میں اولیت درجہ اختیارکرگیا۔آپس کی جنگوں میں اُنکے مقبوضات تقسیم ہوتے گئے اورنئے مسلمان ممالک دُنیاکے نقشے پراُبھرنے لگے۔اس دَورمیں اہل تشیع کی اقتصادی، معاشرتی اورسیاسی قوت میں ایک مرتبہ پھر بہتری آتی گئی (یہاں اس بات کاتذکرہ بیجانہ ہوگاکہ اسی طرح کادَوراس سے قبل چھٹے امام جعفرصادقؑ کی زندگی میں بھی آیاتھا۔اُن دنوں بنواُمیہ اور بنوعباس کے درمیان خلافت حاصل کرنے کیلئے ایک جنگ کاماحول تھا۔ اُنکی آپس کی سیاسی چپقلش کیوجہ سے امام جعفرصادقؑ کودینی تبلیغات کاموقع میسرآیاتھاجسکی وجہ سے اُنکے شاگردوں اورپیروکاروں کی تعدادمیں اضاہوگیاتھا۔ جبکہ خلفائے وقت نے باقی گیارہ اماموں کواسطرح کاموقع نہیں دیاتھا)۔

اہل تشیع کے خلاف ریاستی طاقت کے استعمال کاپہلادَورسرزمینِ عرب میں کچھ عرصے تک رُک گیاتھالیکن فرقہ وارانہ تعصب اور قتل و قتال کی آگ کو اُنیسویں صدی کے آخری عشرے میں افغانستان میں روشن کیا گیاجہاں 1890کی دہائی میں ہزارہ قوم کے خلاف پہلی مرتبہ ریاستی سطح پرجہادکااعلان کیا گیا۔اسکوہم اس قضئے سے متعلق دوسرادَورقراردے سکتے ہیں۔ اس جنگ میں ہزارہ قوم کے خلاف ریاستی طاقت کے استعمال کے ساتھ ساتھ مذہبی فتویٰ بھی جاری کیا گیاتھاجسمیں اُنہیں واجب القتل قراردیاگیا تھا۔اُنیسویں صدی کے دوران، اُس سے پہلے اوراُسکے بعدبھی مختلف اقوام اور مذاہب کے درمیان بہت سے جنگیں لڑی گئیں لیکن اس جنگ کی خصوصیت یہ تھی کہ اسمیں مذہبی فتویٰ کاسہارالے کرہزارہ قوم کوصرف شکست سے دوچار کرنامقصدنہیں تھابلکہ انہیں صفحہئ ہستی سے مٹانایاکم از کم اُنہیں اُنکے مکتب فکرسے دستبردارکرنااس جنگ کابنیادی مقصدتھا۔کم از کم اس نکتے کی حدتک ہمارااورہمارے ہمسایہ اکثریتی قوم بلوچوں کی تاریخ میں ایک حدتک مماثلت پائی جاتی ہے۔ انکی تاریخ سے یہ حقیقت ہمارے سامنے آجاتی ہے کہ قومیت کے لحاظ سے یہ اگرچہ عرب النسل ہیں لیکن ماضی میں شیعہ فرقے سے تعلق رکھنے کی بناپر اُس دَورکے خلفأ نے انکے خلاف اس قدرریاستی جبرواستحصال کاسلسلہ شروع کیاتھاکہ ہماری طرح یہ بھی مجبورہوکراپنے آباؤ اجدادکی سرزمین کوترک کرکے موجودہ سرزمین کے باسی بن گئے۔

سرزمینِ عرب کے مسلمان حکمرانوں کے مابین سیاسی چپقلش سے طرفین کسی حدتک کمزورہوگئے تواہل تشیع کی آبادی میں ایک مرتبہ پھراضافہ ہوتا گیااورایران میں بالآخروہ اس قابل ہوئے کہ ایک شیعہ اسلامی حکومت قائم کرسکیں۔ چونکہ ایرانی انقلابی حکومت اپنے اردگردکے مسلمان ممالک میں شیعہ طاقت کواستعمال میں لاناچاہتی تھی لہذا دُنیائے اہل سنت خصوصاً عرب ممالک کے حکمران جوتیل کی دولت سے مالامال ہوکر زندگی کی آسائشوں میں مبتلاتھے ایک مرتبہ پھر سابقہ پالیسی پرعمل کرناشروع کیا۔اسطرح ہم اس تاریخی قضئے کے تیسرے دَورمیں داخل ہوتے ہیں۔اس مرتبہ عرب ممالک آپس میں اتحاد قائم کرتے ہوئے مشترکہ طورپرایرانی حکومت کی اس پالیسی کے خلاف کام کرنے لگ گئے۔تیل کی دولت سے مالامال ان عرب خلیجی ممالک نے آپس میں ہی اتحادقائم نہیں کیابلکہ مغربی ممالک اوراُنکے سرخیل امریکہ بھی ایک عرصے سے اُنکے سیاسی، اقتصادی و تزویراتی اتحادی بنے ہوئے ہیں۔اسطرح اس قوی جہانی اتحاد،جسکے لئے ہم اتحادکی بجائے کنسورشیم بھی استعمال کرسکتے ہیں، نے اپنی بے پناہ اقتصادی، مذہبی،سیاسی،دفاعی طاقت اور وسائل کویکجاکرکے خطے میں ایرانی حکومت کی پالیسیوں کوناکام بنانے کیلئے پوری طرح استعمال میں لارہے ہیں۔ نتیجہ ہم سب کے سامنے ہے۔جب اتنے بڑے پیمانے پرفنڈزکی دستیابی اوراتنی بڑی تعدادمیں عسکری تنظیمیں وجودمیں آجائیں توان مذہبی دہشت گرد تنظیموں کی سرگرمیوں کادائرہ کارلوکل، قومی، علاقائی سطح سے ہوکربین الاقوامی سطح تک پہنچناباعث حیرت نہیں ہے۔ ان دہشت گرد مذہبی تنظیموں کے توسط سے ایرانی مفادات کو جنوبی ایشیا، مشرق وسطیٰ اوردیگرخطوں میں سخت نقصانات پہنچائے گئے۔ ان خطوں میں جب ایرانی مفادات پرحملے ہوتے تو اُن ممالک کے رہائشی اہل تشیع براہِ راست اُن حملوں سے متاثرہوتے۔ جسکانتیجہ اسطرح سامنے آیاکہ ایران کے اِردگردبعض ممالک کے اہل تشیع ایرانی حکومت کی پالیسیوں سے دلبرداشتہ ہوکر اُسکے خلاف ہوتے گئے۔اسطرح ایران کے اِردگرداہل تشیع کے حلقے کو نقصانات پہنچانے کے بعدان مذہبی دہشت گردتنظیموں نے اپنی کاروائیاں ایرانی مملکت کے اندرتک لے گیااوروہاں کئی خودکُش حملے اور کاربم دھما کے کئے گئے۔

ان مذہبی دہشت گردتنظیموں کے مُربی ممالک نے بِلاشُبہ اپنے حریف ملک ایران کے مفادات کوکسی حدتک زَک توپہنچایالیکن اسکاتاریک پہلو اُنکے لئے اسطرح سامنے آیاکہ یہ عسکری تنظیمیں اس قدرطاقتور ہوئیں کہ ان میں سے قابل ذکرتعداد اپنے مربی ممالک کے کنٹرول سے آزادہوگئے۔ انگریزی کاایک مقولہ ہے کہ to err is human۔ اُردو میں کہاجاتاہے کہ انسان غلطی کاپُتلاہے۔ لیکن اسکایہ مطلب ہرگزنہیں کہ انسان دُرست کام یا قدم نہیں اُٹھاتا۔ اس مقولہ کویہاں بیان کرنے کامقصدیہ ہے کہ انسان جتنے بڑے پیمانے پرکام کرتاہے اُس بڑے مقام پرہوتے ہوئے اگرچہ وہ بہت سے اچھے کام بھی کرتاہے لیکن اگرکوئی غلطی کربیٹھتاہے تو اُسکے بھی دُور رس اثرات ہوتے ہیں۔مذہبی عسکریت پسندتنظیموں کے مربی ممالک ان پراکسی جنگی گروپوں کواپنے حریف ممالک کے خلاف استعمال توکئے لیکن اس پہلو پر کبھی سنجیدگی کے ساتھ غورنہیں کیاکہ اتنے بڑے پیمانے پران دہشت گردتنظیموں کی امداداُنہیں ایک طاقتورعفریت میں تبدیل کرسکتاہے جواُنکے کنٹرول سے آزاداوربے لگام بھی ہوسکتے ہیں۔ایک اچھاخاصاعرصہ گزرنے کے بعدوہ سرجوڑ کربیٹھ گئے کہ انسان جیسی پیچیدہ مخلوق کو مشینی اندازسے استعمال توکرتے رہے لیکن یہ اندازہ اور پیمانہ کسی کے پاس نہیں کہ کس وقت، کس کسطرح کے ماحول میں کن وجوہات کی بناپریہ مخلوق اپنے خالق کے کنٹرول سے آزادہوجاتا ہے۔اُسکے بعدسارے منصوبے اور پیشن گوئیاں دھرے کے دھرے رہ جاتے ہیں۔ اس سلسلے میں حالانکہ مثالیں تو لاتعدادہیں لیکن میں نے اپنی کتاب سانحات میں دو تین مثالیں پیش کی تھیں۔ایک فلسطینی تنظیم حماس کے متعلق تھا جسکی تشکیل میں خوداسرائیلی حکومت کابھی ابتدامیں ہاتھ تھااوروہ اس تنظیم کو یاسر عرفات کی تنظیم پی ایل اوکے خلاف استعمال کرناچاہتی تھی۔ لیکن بعد میں حماس اسرائیلی مخالفت میں سارے دیگرفلسطینی تنظیموں کوپیچھے چھوڑدیا۔اسرائیل کے ساتھ حماس کی حالیہ جنگ کوبھی اسی تناظرمیں دیکھناضروری ہے۔ اسکے علاوہ ذوالفقارعلی بھٹوکی مثال ہمارے سامنے ہے جوابتدا میں ایک فوجی ڈکٹیٹرکی کابینہ کاایک اہم رُکن تھالیکن بعدمیں اُس ڈکٹیٹرکی حکومت کوختم کرنے میں کسطرح مرکزی کرداراداکیاتھا۔یہ واقعات اس حقیقت کیطرف ہماری رہنمائی کرتی ہے کہ ضروری نہیں کہ حضرت انسان یاانسانی ادارہ ابتداسے آخرتک ایک ہی حالت میں رہے یااُسکے موقف میں کوئی تبدیلی رونمانہ ہوجائے یاپھراُنکے دوست و دشمن تبدیل نہ ہوجائیں۔اسی طرح مذہبی دہشت گرد تنظیمیں اس تھیوری سے مُبرانہیں ہیں۔ماضی میں جن مذہبی عسکری تنظیموں کے مفادات امریکہ، یورپی اورخلیجی ممالک کے مفادات سے موافقت رکھتے تھے ضروری نہیں آخرتک اُنکے درمیان تعلقات اُسی طرح خوشگواراورمفادات اُسی طرح مشترک و موافق رہیں۔

ان مذہبی دہشت گردتنظیموں کے مُربی ممالک کی غلطیوں کاخمیازہ آج دُنیاکے مختلف خطوں کے بے گناہ اورمعصوم افراداسطرح بھگت رہے ہیں کہ 1990کی دہائی کے آخری عشرے میں بین الاقوامی سطح پر اپنی کاروائیاں کرنے والی واحد مذہبی عسکریت پسندتنظیم القاعدہ تھی۔ لیکن آج اُس تنظیم کے بطن سے کئی بین الاقوامی دہشت گردمذہبی تنظیمیں وجودمیں آچکی ہیں جو دُنیاکے مختلف خطوں میں اپنی کاروائیاں کررہی ہیں۔مشرق بعیدکے ملک فلپائن میں ابوسیاف گروپ ہے جسکے کئی کمانڈرزافغانستان کی مذہبی بنیادپرست شخص عبدالرب رسول سیاف کے شاگردرہ چکے ہیں اوراُسی کے نام کوعاریتاً لیتے ہوئے ابوسیاف گروپ تشکیل دیاہے۔ اسی طرح کاکیشیاکے علاقے میں چیچن مذہبی دہشت گردگروپ ہے جوچیچنیا اور انگوشتیامیں اپنی کاروائیاں کررہاہے۔ وسطی ایشیا میں اسلامک موومنٹ آف اُزبکستان، چین میں ایسٹ ترکستان انڈیپنڈنٹ موومنٹ یعنی ETIM، افغانستان اور پاکستان میں مرکزی افغان طالبان، تحریک طالبان پاکستان (مُلافضل اللہ گروپ)، تحریک طالبان پاکستان (جماعت الحرارگروپ)، پنجابی طالبان۔برصغیرکے ممالک برما، بنگلہ دیش اور بھارت میں القاعدہ اِن دہ انڈین سب کانٹیننٹ Al-Qaeda in the Indian Sub Continent۔ انڈونیشیا، ملائشیا اور تھائی لینڈمیں الجماعۃ السلامیہ۔ جزیرہ نمائے عرب میں القاعدہ اِن عرب پینینسولا(AQAP)، مشرق وسطیٰ کے ممالک عراق اورشام میں دولت الاسلامیہ فی العراق والشام (داعش) اور جبہہ النصرۃ۔شمالی افریقہ میں القاعدہ اِن اسلامِک مغرب (AQIM)،نائجیریا میں بوکوحرام۔ سومالیہ میں الشباب وغیرہ وغیرہ۔57مسلمان ممالک میں شایدہی کوئی ایساخوش نصیب ملک ہوگاجہاں پر مذہبی دہشت گردتنظیم وجودنہ رکھتاہویاپھرمذہبی دہشت گردی کاکوئی واقعہ رونمانہ ہواہو۔

باقی ممالک میں اگرچہ دویاپھرزیادہ ترایک قسم کی مذہبی دہشت گردتنظیم وجودرکھتی ہے۔ جبکہ پاکستان واحدملک ہے جہاں مذہبی عسکریت پسند تنظیموں کے تین طبقات پائے جاتے ہیں۔پہلے طبقے میں وہ دہشت گردتنظیم ہے جسکادائرہ کاربین الاقوامی سطح پرہے۔دوسرے طبقے میں وہ مذہبی دہشت گردتنظیم ہے جوقومی سطح پراپنی کاروائیاں کررہی ہیں۔جبکہ تیسرے طبقے میں وہ دہشت گردتنظیم ہے جولوکل سطح پراپنی دہشت گردی کی سرگرمیاں جاری رکھی ہوئی ہے۔ان تین مختلف سطحوں پرکام کرنے والی عسکریت پسندتنظیموں کے مابین زبردست اشتراک کارقائم ہیں۔تینوں طبقوں کی ان مذہبی دہشت گرد تنظیموں کے مابین منصوبہ بندی سے لے کر جنگی حکمت عملی، طریقہ کاراوراپنی کاروائیوں کوعملی جامعہ پہنانے تک دہشت گردی کے تمام مراحل میں ایک دوسرے کی کاروائیوں کو کامیابی سے ہمکنارکرنے کیلئے ہرقسم کے تعاون کاماحول قائم ہے۔

نوعیت کے اعتبارسے مذہبی عسکریت پسندتنظیموں کو مجموعی طورپردوحصوں میں تقسیم کیاجاسکتاہے۔ ایک وہ جوکسی نہ کسی ملک کے زیراثرہے اوردوسرا وہ جوکسی بھی ملک کے اثرونفوذسے بالکل آزاد۔اگرہم ان مذہبی دہشت گردتنظیموں کی ٹارگٹ لسٹ کا مجموعی جائز لیں تو یہ حقیقت منکشف ہوتی ہے کہ کوئی دہشت گردتنظیم چاہے وہ کسی ملک کے زیراثرہویابالکل آزاد۔ چاہے وہ بین الاقوامی سطح پرکاروائیاں کررہی ہو، قومی یالوکل سطح پراُن سب کے نزدیک اہل تشیع کاقتل و قتال شریعتاً جائزہے اوردرحقیقت یہی نکتہ اہل تشیع کیلئے سب سے زیادہ خطرناک ہے۔لیکن اسکایہ مطلب نہیں کہ اہل تشیع ہی تنہااُنکے عتاب کے شکار ہیں۔ اس سلسلے میں اُنکی ایک Priority Target List ہے۔اوراُس لسٹ میں دوسرے ٹارگٹس کے علاوہ اگرہم صرف عوام کی بات کریں تو پاکستانی عوام میں اہل تشیع، قادیانی، عیسائی، بریلوی کے ساتھ ساتھ بوہرہ، آغاخانی، سکھ اور ذکری فرقے اورمذاہب سب اُنکے ٹارگٹ لسٹ میں شامل ہیں۔ان مکاتب فکرمیں اہل تشیع اوربریلوی کے علاوہ جن فرقوں یا مذاہب کے پیروکاروں پر حملے ہوئے وہ ایک شہریاصوبے تک محدودتھے جبکہ اہل تشیع کوپاکستان کے پانچوں صوبوں سمیت آزادکشمیر، قبائلی علاقہ جات فاٹااور نیم قبائلی علاقہ جات پاٹاPATAکی مختلف ایجنسیوں حتیٰ K2پہاڑکی بلندیوں پر جب غیرملکی کوہ پیماؤں کوقتل کیاگیاتواُنکے ساتھ باربرداری کیلئے جانے والے گلگت بلتستان کے ایک غریب فردکوبحیثیت شیعہ شناخت کرنے کے بعداُسے بھی قتل کردیاگیا جبکہ اُسکے دوسرے باربردارساتھی کواسلئے زندہ جانے دیاگیاکیونکہ وہ اہل تسنن سے تعلق رکھتاتھا۔ اہل تشیع کے بعد بریلوی مکتب فکرکے ماننے والوں پر زیادہ حملے ہوئے ہیں۔مذہبی دہشت گردتنظیموں کی جنگی حکمت عملی کی جزئیات میں جائیں تویہ حقیقت سامنے آجاتی ہے کہ اہل تشیع پرمجموعی طورپردو قسم کے حملے ہوئے ہیں۔ ایک حملہ وہ ہے جسمیں دہشت گردبراہِ راست اہل تشیع پر حملے کرتے ہیں۔ مثال کے طورپرہائی اور لوپروفائل ٹارگٹ کلنگز۔ اسی طرح اہل تشیع کے مذہبی رسومات اورجلوسوں پر براہِ راست حملے۔ ان حملوں کوہم مذہبی دہشت گردتنظیموں کااپناشیعہ مخالف ایجنڈااوربالواسطہ حملہ قراردے سکتے ہیں۔ ان حملوں کے پیچھے دہشت گردوں کی یہی سوچ کارفرماہے کہ یہ لوگ مشرک و کافرہیں اوراُنکی مشرکانہ رسومات پر حملہ کرناعین مذہبی فریضہ ہے۔

جسطرح وہ بریلوی مکتب فکرکے مزارات اور یوم میلادالنبی کے سلسلے میں نکالے گئے جلوسوں پر وقتاً فوقتاًحملے کرتے ہیں۔ دہشت گردوں کے دوسرے قسم کے حملے کو ہم بلاواسطہ یعنی indirectحملے قراردے سکتے ہیں جنکاتعلق زیادہ ترسیاسی و تزویراتی ہے۔ مثال کے طورپرعوامی سطح پر بے چینی اوراحساس عدم تحفظ پیداکر کے حکومت وقت پرعوامی و سیاسی دباؤمیں اضافہ کرنامقصودہو تو مذہبی دہشت گردشہری آبادی پراسطرح حملہ کرتا ہے جسمیں زیادہ سے زیادہ لوگ ہلاک ہو جائیں۔شہری آبادی پراس قسم کاحملہ کرناہوتو اہل تشیع اُنکے ٹارگٹ لسٹ میں ہمیشہ سرفہرست رہاہے۔ لہذا وہ اہل تشیع کے رہائشی علاقوں یامذہبی رسومات پر اسطرح حملہ کرتے ہیں کہ جسمیں زیادہ سے زیادہ ہلاکتیں ہوجائیں تاکہ حکومت ِوقت کی کارکردگی کوعوام کے سامنے بے اثراورانتہائی شرمناک بنایاجاسکے۔ اسطرح کے حملے سے مذہبی دہشت گردتنظیمیں دوطرح کے مفادات حاصل کرتی ہیں۔ ایک طرف اپنے مخالف فرقے کوخاک وخون میں نہلاکراُنہیں معاشی، معاشرتی اورسیاسی نقصانات پہنچایاجاتاہے جبکہ دوسری طرف حکومتِ وقت کوشدیدسیاسی چوٹ دیاجاتاہے۔ پیپلزپارٹی کی گزشتہ دَورحکومت میں دہشت گردی کاجب کوئی واقعہ ہوجاتاتوسیاسی جماعتوں اور عوامی حلقوں کی جانب سے حکومت کے خلاف نفرت میں اضافہ ہوتاجاتاجسکی وجہ سے اُسکی سیاسی ساکھ کو سخت دھچکہ پہنچتا۔مئی 2013کے عام انتخابات کااگربغورجائزہ لیاجائے توہم بہ آسانی اس نتیجے پر پہنچتے ہیں کہ ٹی ٹی پی ملک کے اندرایک بڑی سیاسی تبدیلی لانے کی پالیسی پرعمل پیراتھی۔ اسی لئے قومی سطح پرکچھ سیاسی جماعتوں کو اپناالیکشن کیمپین چلانے کیلئے مکمل چھوٹ حاصل تھی جبکہ بعض سیاسی جماعتیں بہ مشکل اپنے کارنرمیٹنگزمنعقدکرسکتی تھیں اورزیادہ ترپرنٹ اور الیکٹرانک میڈیامیں سیاسی اشتہارات کے ذریعے اپناالیکشن کیمپین چلانے تک محدودتھیں۔اسی بناپر اسفندیارولی کوکہناپڑاکہ خیبرپختونخوامیں چیف الیکشن کمشنرکے حقیقی اختیارات فخرالدین جی ابراہیم کے پاس نہیں تھے بلکہ ٹی ٹی پی کے سابقہ امیرحکیم اللہ محسودعملاً چیف الیکشن کمشنرتھے۔مذہبی دہشت گردتنظیموں کے حملوں کواب تک جس قدرمیں مشاہدہ کرسکاہوں اُسکے مطابق ملک بھرمیں اہل تشیع یاپھر بلوچستان خصوصاً کوئٹہ میں ہزارگی معاشرہ پرجتنے بھی بڑے حملے ہوئے ہیں وہ زیادہ تر عسکریت پسندتنظیموں کی قومی اور بین الاقوامی تنظیموں کے ایجنڈے کے تحت ہوئی ہیں۔ان حملوں کو عملی جامعہ پہنانے میں ان تین مختلف سطحوں پر سرگرم عمل دہشت گردمذہبی تنظیموں کے درمیان آپس میں آپریشنل لیول پر مدد و تعاون شامل حال رہی ہیں۔اب تین مختلف سطحوں پر سرگرم عمل دہشت گردتنظیمیں مذکورہ بالادواقسام کے حملوں کو جاری رکھیں تونتیجہ وہی نکلتا ہے جوہمارے سامنے ہے۔

پاکستان میں مذہبی دہشت گردتنظیموں کی ارتقائی عمل کااگرجائزہ لیاجائے توہم کہہ سکتے ہیں کہ مذہبی دہشت گردتنظیمیں بنیادی طورپرفرقہ پرست تنظیمیں ہوتی ہیں۔ یہ تنظیمیں جب اپنی ابتدائی مراحل میں ہوتی ہیں تواُس وقت انکاجہاداہل تشیع کے خلاف شروع ہوتاہے۔اس مرحلے میں اُنکے حملے کمزور اورچھوٹے پیمانے پر ہوتے ہیں۔ بعدمیں جب یہ تنظیمیں طاقتورہوکر قومی و بین الاقوامی سطح پراپنی دہشت گردانہ سرگرمیاں جاری رکھتی ہیں تواُس وقت بین الاقوامی طاقتوں کے ساتھ ٹکرلینے کے ساتھ ساتھ اپنے اَزلی دشمن یعنی اہل تشیع پرحملوں کونہیں بھولتے۔البتہ اس مرحلے پر یہ دہشت گردتنظیمیں چونکہ طاقتور ہوجاتی ہیں لہذااُنکے حملے بھی زیادہ تباہ کُن ہوتے ہیں۔ بین الاقوامی طاقتورممالک سے ٹکرلینے کے بعد جب یہ کمزورہونے لگتے ہیں تب بھی اہل تشیع کاقتل عام اُنکے لئے نہایت پسندیدہ عمل اور عین مذہبی فریضہ ہوتاہے۔یہاں یہ امرقابل ذکرہے کہ ان تین مراحل سے گزرتے وقت مذہبی دہشت گردتنظیموں کے ٹارگٹ لسٹ میں سے اہل تشیع منہایامخفی نہیں رہتا۔ اُسکی وجہ یہ ہے کہ دوسرے مذاہب یا مکاتب فکرتواُن دہشت گردمذہبی تنظیموں کی نظرمیں کافر ہیں، مُرتد ہیں یاپھرمُشرک۔ جبکہ اہل تشیع واحد ایک مکتبہ فکرہے جو اُنکی نظروں میں کافر، مُرتد، مُشرک، رافضی اورزندیق یہ سب بہ یک وقت ہے۔دوسرے لفظوں میں یہ مذہبی دہشت تنظیمیں اہل تشیع کوبحیثیت ٹارگٹ نہیں بھولتیں، صرف اہل تشیع پرحملوں کی نوعیت اور شدت میں فرق آجاتاہے۔یعنی جب یہ مذہبی دہشت گرد تنظیمیں کمزورہوتی ہیں تو اُنکے حملوں کی نوعیت اورشدت بھی کم ہوتی ہیں لیکن جب یہ طاقتورہوجاتی ہیں تواُنکے حملوں کی شدت میں بھی بے پناہ اضافہ ہوجاتاہے۔

سدِباب:۔

اس مذہبی دہشت گردی کے تاریخی پس منظراوران مذہبی دہشت گردتنظیموں کی موجودہ نوعیت، انکی کاروائیوں کادائرہ کاراور طاقتور ممالک کاانکے ساتھ اشتراک عمل کوبیان کرنے کامقصدیہ تھاکہ ہمارے لئے یہ واضح ہوجائے کہ مذہبی منافرت کایہ قضیہ کئی صدیوں پر محیط کسی نہ کسی شکل میں اور کسی نہ کسی مسلمان ملک میں وجودرکھتی رہی ہیں۔ اس سے ہمیں یہ بھی کسی حداندازہ ہوجاتاہے کہ اس مسئلے کے حل کیلئے کس پیمانے اور کس نوعیت کے اقدامات کی ضرورت پڑسکتی ہے۔

جہاں تک مذہبی دہشت گردی کے سدِ باب کاتعلق ہے تواس سلسلے میں مندرجہ زیل اقدامات کی ضرورت ہے۔

میدان جنگ ہویاپُرامن حالات میں عسکریت پسندی کیلئے اُنکی تبلیغات دونوں میدانوں میں ملکی اوربین الاقوامی سطح کے اقدامات کی ضرورت ہے۔ Pro-active approachکے ذریعے ان مذہبی دہشت گردتنظیموں کاقلع قمع کرنے کیلئے فوجی آپریشن نہایت ضروری ہے۔

ماضی میں ان مذہبی دہشت گردتنظیموں کوبنانے کیلئے بین الاقوامی سطح پرجسطرح کئی ممالک مشترکہ طورپرفنڈزاوراسلحہ مہیاکرتے تھے آج اُنہی ممالک پرمشتمل فوجی اتحادتشکیل دیکر ان مذہبی دہشت گردتنظیموں کے خلاف فوجی آپریشن کیاجارہاہے۔اس سلسلے میں اُنکی پالیسی کے دو نہایت اہم پہلو ہیں۔ ایک پہلویہ ہے کہ ان مذہبی دہشت گردتنظیموں کوجڑسے اکھاڑکرنہ پھینکاجائے بلکہ صرف اُنہی مذہبی دہشت گردتنظیموں کے خلاف فوجی آپریشن کیا جائے جو بین الاوامی سطح پراُنکے مفادات کو زَک پہنچانے کی صلاحیت رکھتی ہیں۔اس پالیسی کاعلمبرداراورحمایتی سعودی عرب ہے جواس بات کاخواہشمند ہے کہ ان تنظیموں کو صرف اُسی قدرنقصان پہنچایاجائے جس سے اسکی بین الاقوامی سطح پر سرگرمیاں ختم ہوسکیں تاکہ یہ مذہبی دہشت گردتنظیمیں علاقائی سطح پراپنے مخالف مکاتب فکرکے خلاف دہشت گردی کی اپنی سرگرمیاں جاری رکھ سکیں۔اسطرح ایک زخمی سانپ کواپناغصہ علاقائی سطح پراپنے مخالف مکاتب فکرکے خلاف نکالنے کیلئے چھوڑاجاتاہے۔جبکہ اس پالیسی کادوسراپہلویہ ہے کہ بین الاقوامی سطح پرتمام ممالک اس بات کے خواہشمند ہیں کہ یہ دہشت گردتنظیمیں اپنی سرگرمیاں اسی طرح جاری رکھیں اگریہ اُنکے مخالف ملک یا ممالک پرحملہ آورہوتے ہیں۔ اُنہیں اُس وقت تشویش لاحق ہوتی ہے جب مذہبی دہشت گرد تنظیمیں اپنے حملوں کا رُخ اُنکی طرف پھیرلیں۔ اگرمیں یہ دعویٰ کروں توبیجانہ ہوگاکہ اس وقت تمام ممالک اس پالیسی پرعمل پیراہیں اور اسی لئے سب مل کران مذہبی دہشت گردتنظیموں کوقلع قمع کرنے کیلئے مشترکہ طورپرکوئی اقدام نہیں کرتے۔

آپ حضرات اس حقیقت سے باخبرہونگے کہ امریکہ نے جب مشرق وسطیٰ کی مذہبی دہشت گردتنظیم داعش پرحملے کافیصلہ کیاتواُس سے پہلے صدربارک اوبامانے سعودی فرمانرواکوفون کرکے اُسکی رضامندی حاصل کی تو سعودی عرب نے بعض شرائط کے تحت اس فوجی آپریشن کیلئے گرین سگنل دیا جسمیں ایران کواس اتحاد میں شامل نہ کرناجبکہ شام میں حکومت مخالف جنگجوؤں کو امریکی فنڈزاوراسلحہ ملنے کی شرط بھی شامل تھی۔اورہم نے دیکھ لیاکہ ایک طرف امریکہ نے عراق میں حملے کاحتمی فیصلہ کیاتودوسری طرف فوراً شامی حکومت کے مخالف جنگجوؤں کیلئے کانگریس نے امریکی امدادمنظورکرلیا۔ اگرچہ امریکی تزویراتی و دفاعی دانشوروں نے بین الاقوامی میڈیامیں سخت تنقیدی لہجہ اپناتے ہوئے صاف طورپرکہاکہ جب تک داعش کے خلاف عراق اور شام میں یکساں طورپر فوجی کاروائیاں نہیں کی جائیں گی امریکہ اوراُسکے اتحادی اس عفریت کومکمل طورپر شکست نہیں دے سکیں گے۔اس پالیسی کے پیچھے اُنکی یہی خواہش اورکوشش کارفرماہے کہ جب تک یہ دہشت گردتنظیمیں اُنکے مخالف ملک یا ممالک کے مفادات کے خلاف کررہی ہیں یہ صورتحال جوں کی تُوں رہے۔

اسی طرح ملکی قوانین میں ضروری قانون سازی نہایت اہم ہے جسکے ذریعے ان مذہبی عسکریت پسندتنظیموں کے دہشت گردوں کوگرفتارکرکے قرارواقعی اورفوری نوعیت کی سزائیں دی جاسکیں۔ تیسرے اقدام کے طورپربِلاتخصیص تمام مذہبی مدارس کے نصاب میں بعض تبدیلیاں لاناناگزیرہے۔اسی طرح بِلاتخصیص تمام غیرملکی فنڈزجوان مذہبی مدارس کیلئے آرہے ہیں اُنہیں فوراً بندکیا جائے۔ لیکن یہاں اس نکتے کی وضاحت ضروری ہے کہ اس ملک میں یہ تمام اقدامات اب ناممکن نہیں تونہایت مشکل کام ضرورہوگیاہے۔ کیونکہ کئی ایسے مدارس ہیں جواس وقت ایک ایمپائرکی حیثیت اختیارکرچکے ہیں۔ وہ اقتصادی، دفاعی اور انتظامی طورپرخودکفیل ہوگئے ہیں۔ اگراُنکے غیرملکی فنڈزکوروکابھی جائے جوبجائے خودایک مشکل کام ہے توپھربھی ان مدارس کیلئے کوئی بڑی پریشانی کی بات نہیں۔ اسی طرح حکومت نے جب بھی نصاب میں تبدیلی کی کوئی بات کی ہے تو یہ سب مدارس یکجاہوکرحکومت کوباقاعدہ دھمکیاں دیتے ہیں اور پھرایک خاموشی چھاجاتی ہے جیسے کسی نے کچھ بھی نہ کہاہو۔اسی طرح جہاں تک ان دہشت گردوں کو سزادینے کامسئلہ ہے تو صورتحال اتنی مخدوش ہے کہ پنجابی طالبان کے دودہشت گردوں کو پھانسی کی سزاسُنائی جاچکی ہے اورگزشتہ اگست میں اُنہیں لٹکاناتھا۔اُنکی تمام اپیلیں حتیٰ صدرمملکت کیطرف سے بھی مستردہوچکی ہیں۔حکومت وقت کیطرف سے باقاعدہ اعلان بھی ہواکہ مقررہ تاریخ کواُنہیں پھانسی پرلٹکایاجائیگا۔لیکن پنجابی طالبان کے امیرعصمت اللہ معاویہ نے جب دھمکی دی کہ اگراُنکے ساتھیوں کو سزائے موت دی گئی توپنجاب کے دوبااثربرادرحکمران اُنکے ہاتھوں سے نہیں بچ سکیں گے۔ نتیجہ اسطرح سامنے آیاکہ دونوں حکمراں برادران کے ہاتھ پاؤں پھول گئے اورعزت مآب جناب ِدہشت گردجیل میں ہوتے ہوئے عیش کی زندگی گزاررہے ہیں جسطرح کی شاہانہ زندگی لشکرجھنگوی کاملک اسحاق گزارچکاہے۔اس ملکی واقعے کے علاوہ بین الاقوامی سطح پرجوواقعات رونماہوئے اُنکے بھی آپ سب شاہد ہیں جب امریکہ نے اپنے ایک فوجی کوچھڑانے کیلئے مرکزی طالبان افغانستان کے پانچ بڑے کمانڈروں کوگوانتاناموبے جیل خانے سے رہاکرنے پر مجبور ہوا۔

جب صورتحال یہ ہوکہ مذہبی دہشت گردتنظیمیں بین الاقوامی طاقتورممالک اورملکی سطح پر حکومتوں کواپنے مطالبات منظورکرنے پرمجبورکررہے ہوں تو سدِباب کے سلسلے میں کن اقسام ونوعیت کے اقدامات کی ضرورت ہے اسکابخوبی اندازہ ہوجاتاہے۔میں اپنی گزارشات کااختتام اثرلکھنوی کےاس شعرکےساتھ کرناچاہتاہوں کہ:۔

جب آدمی کے خوں کاپیاسا ہو آدمی

پھرکیوں نہ تہلکے میں بھلاکُل جہاں رہے؟ (اثرلکھنوی)

حواله: رحمت بہریاب

Leave A Reply